پاکستان آج ایک نازک موڑ پر ہے جہاں جذبات، انتقام اور غصے کی پالیسی سے نکل کر دانشمندی، برداشت، اور امن سفارت کاری کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ترکی نے حماس کو جذبات سے نہیں بلکہ حکمت سے قائل کر کے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی پاکستان کو بھی چاہیے کہ افغانستان اور بھارت کے ساتھ بڑے دل، فراست اور قرآنی تعلیمات کے مطابق باہمی بات چیت اور مفاہمت کی پالیسی اختیار کرے۔یہی وہ راستہ ہے جو دہشت گردی، معاشی بحران اور عالمی تنہائی سے نجات دلا سکتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہوش مندی اور حکمت‘ پاکستان آج ایک نہایت نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔اندرونی بدامنی، معاشی دبائو، سیاسی تقسیم اور بیرونی خطرات نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں غصے، الزام اور انتقام کے بجائے فراست، مکالمہ اور امن کی پالیسی اختیار کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔دنیا میں وہی قومیں باقی رہتی ہیں جو جذبات کے بجائے عقل و تدبر سے فیصلے کرتی ہیں۔ترکی نے حالیہ برسوں میں یہی راستہ اختیار کیا خاص طور پر فلسطین اور غزہ کے معاملے میں۔جہاں بیشتر ممالک صرف نعرے لگا رہے تھے، ترکی نے دانشمندی اور عملیت پسندی سے کام لیا،اور حماس کو قائل کیا کہ فلسطین کے دیرپا مفاد میں جذبات نہیں بلکہ مذاکرات اور ریاست سازی کا راستہ اپنانا ہی دانش مندی ہے۔اسی پختہ فہم سے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔
یہی وہ طرزِ عمل ہے جس سے پاکستان بھی آج بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔پاکستان اور دہشت گردی کا چیلنج ‘پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے زخم سہہ رہا ہے۔ہزاروں جانوں کا ضیاع اور معیشت کی تباہی نے قوم کو تھکا دیا ہے۔اب وقت ہے کہ ہم طاقت کے بجائے مفاہمت، تصادم کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنائیں۔افغانستان کے ساتھ ہمارے تاریخی، مذہبی اور انسانی رشتے بہت گہرے ہیں۔آج وہاں کی حکومت کے کئی رہنما اور سرکردہ افراد پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے۔لہٰذا دشمنی نہیں، بلکہ برادری، احترام اور مذہبی اخوت کا جذبہ ہماری پالیسی کی بنیاد ہونا چاہیے۔
قرآن کی ہدایت ہے: معاف کرو اور درگزر کرو۔اب وقت ہے کہ ہم دل صاف کریں، معافی کو اپنائیں، اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق دوستانہ اور دیرپا پالیسی بنائیں۔
بھارت کے ساتھ تعلقات جذبات سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ‘ بھارت کے معاملے میں پاکستان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ وہاں دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی آباد ہے۔یہ ہمارے دینی بھائی ہیں، اور ہم پر لازم ہے کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں۔حکمت کا تقاضا ہے کہ ہم پڑوسی سے دشمنی کے بجائے امن اور تجارت کے ذریعے تعلقات بحال کریں۔نبی کریمﷺ نے فرمایا:تمہارا ایمان کامل نہیں جب تک تم اپنے پڑوسی کے لیے وہی پسند نہ کرو جو اپنے لیے کرتے ہو۔یہی اسلامی تعلیم ہے، یہی انسانی فراست۔
اختلافات اپنی جگہ، مگر مذاکرات، باہمی احترام، اور تجارتی تعلقات کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔امن دشمن قوتیں دونوں ممالک کے درمیان نفرت کو ہوا دیتی ہیں اب وقت ہے کہ پاکستان دانشمندانہ سیاست سے اس آگ کو بجھائے۔
معیشت کی نجات کا راستہ تجارت اور تعاون‘ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج معاشی بحران ہے۔ قرضوں اور مہنگائی نے عوام کو مایوسی میں دھکیل دیا ہے۔لیکن اس بحران سے نجات کا راستہ علاقائی تجارت اور باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے۔ اگر پاکستان اپنے ہمسایوں افغانستان، ایران، اور بھارت کے ساتھ برابری اور انصاف کی بنیاد پر تجارتی تعلقات بحال کرے،تو معیشت میں نئی روح ڈالی جا سکتی ہے۔یہی راستہ خود کفالت، وقار، اور مغربی قرضوں سے آزادی کا ہے۔ترکی کی مثال جذبات نہیں، فراست کی سیاست‘ ترکی نے دنیا کو دکھایا کہ نعرے نہیں، تدبر قوموں کو آگے بڑھاتا ہے۔حماس کو قائل کر کے اس نے ثابت کیا کہ امن اور ریاست سازی، بندوق سے نہیں بلکہ حکمت اور مکالمے سے ممکن ہے۔یہی سیاست پاکستان کے لیے نمونہ عمل ہے۔نتیجہ امن ہی اصل طاقت ہے۔
پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ امن، بات چیت، اور برداشت کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ اگر ہم اپنے ہمسایوں سے تعلقات عدل، شراکت اور احترام کی بنیاد پر استوار کریں،تو پاکستان ایک مضبوط، باوقار اور خودمختار ملک بن سکتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ دشمن کو بھی درگزر اور انصاف سے فتح کیا جا سکتا ہے۔ترکی نے یہی کیا اب پاکستان کی باری ہے کہ وہ جذبات کے شور سے نکل کر فراست کے سفر پر روانہ ہو۔امن ہی وہ راستہ ہے جو اللہ کے نزدیک محبوب اور قوموں کے لیے نجات بخش ہے۔اگر پاکستان آج یہ فیصلہ کر لے کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ- اور یہ کہ ہمسائے بدلے نہیں جاسکتے۔ لہٰذا ہمسایوں سے اچھے تعلقات و پالیسی کو بنیاد بنایا جائے۔ اسی میں سب کا مفاد ہے۔ پاکستان محبت، عدل اور بھائی چارے کی بنیاد پر آگے بڑھے گا تو یہی فیصلہ اس ملک کے روشن مستقبل اور امتِ مسلمہ کی بقا ء کی ضمانت بن جائے گا۔علم اور محبت سے دنیا بدلی جا سکتی ہے ‘جنگ اور نفرت سے نہیں۔