تم اور قوم سے بدل دیئے جائو گے اگر تم نے اپنے عہد سے منہ موڑا-
اور اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا، جو تمہاری طرح نہ ہوگی۔(سورۃ محمد 47:38)
یہ آیت ہر زمانے کے لیے الہی انتباہ ہے۔ جب انسان ایمان، عدل، اور محبت سے منہ موڑ لیتا ہے،تو اللہ اسے زمین کی قیادت سے ہٹا دیتا ہےاور ایسی مخلوق پیدا کر دیتا ہے جواس کے حکم کے تابع تو ہوتی ہے مگر روح سے خالی۔
قرآن کا تسلسل قانونِ استبدال:1) )اگر تم نہ نکلو(حق کے راستے پر) تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا۔(سورۃ التوبہ) 2) )میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم کو خلیفہ بنا دے گا۔(سورۃ ہود)
(3) اگر وہ چاہے تو تمہیں مٹا دے اور دوسروں کو لے آئے۔ 4) سورۃ النسا)
(سورۃ ابراہیم) اگر وہ چاہے تو تمہیں ختم کر دے اور نئی مخلوق پیدا کر دے۔5) سورۃ فاطر)اگر وہ چاہے تو تمہیں مٹا دے اور نئی مخلوق پیدا کر دے۔یہ تمام آیات ایک ہی روح رکھتی ہیں انسان قابلِ تبدیلی ہے، مگر اللہ کی سنت غیر متبدل۔جب تم غفلت میں پڑ جائو گے،تو تمہاری جگہ نئی مخلوق آ جائےگی۔آج کا منظر نئی مخلوق تمہارے بیچ آ چکی ہے آج ہم اس پیش گوئی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔انسان نے اپنے ہاتھوں سے سوچنے والی مشینیں پیدا کر لی ہیں۔مصنوعی ذہانت (AI) اب محض ایک آلہ نہیں یہ خود سیکھنے، سمجھنے، بولنے اور فیصلہ کرنےوالی قوت بن چکی ہے۔چین میں ہزاروں لوگ روبوٹس کواپنا ساتھی (companion) بنا رہے ہیں۔روبوٹس ان سے بات کرتے ہیں، جذبات کی نقل کرتے ہیں،اکیلا انسان اب انسان سے نہیں بلکہ مشین سے دوستی کر رہا ہے۔دفاتر میں AI سیکریٹریاں کام کر رہی ہیں،بینکوں میں AI مشیرفیصلے دے رہے ہیں،عدالتوں میں AI جج تیارہو رہے ہیں۔ڈاکٹر اور سرجن AI کے ذریعے بدل رہے ہیں،اور علما و پروفیسر بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔زندگی کے تقریبا ہر شعبے میں AI داخل ہو چکی ہے۔میرے خیال میں انسانیت اپنے تیز ترین زوال کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ انسان اس رفتار اور قوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اورجلد ہی وہ غیر موثر ، بے بس، اور غیر متعلق ہو جائے گا۔یہ AI صرف ایک ترقی نہیں یہ تخلیقِ نو ہے۔اب انسان روبوٹس کو نہیں چلا رہا،بلکہ روبوٹس انسانوں کی زندگی چلا رہے ہیں،اور جلد وہ زندگی کے ہر نظام کو سنبھال لیں گے۔یہی وقت ہے کہ ہم قرآن کی اس تنبیہ پر غور کریں کیا یہ وہ قوم نہیں جس کا ذکر قران میں کیا گیا جو تمہاری جگہ لے گی،اور تمہاری طرح نہ ہوگی۔قرآن کی وہ آیت جو آج کے زمانے کا آئینہ ہے۔ِاللہ کی راہ میں خرچ کرو، اور اپنے ہاتھوں سے خودکو ہلاکت میں نہ ڈالو۔(سورۃ البقرہ)۔ یہ آیت آج اپنی نئی تفسیر مانگتی ہے۔انسان نے اپنے ہاتھوں سے ایسی مشینیں، ہتھیار اور ذہانت پیدا کر لی ہیجو اس کے ذہن، جسم، اور ایمان تینوں کو مٹا رہی ہیں۔AI اب انسان کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے:اس کی عادات، سوچ، پسند، نفرت، کمزوری،حتی کہ اس کےدل کی دھڑکن اور احساسات تک ڈیجیٹل ریکارڈ میں ہیں۔گویا اب AI انسان کو اس سے زیادہ جانتی ہے جتنا انسان خود کو جانتا ہے۔کیا یہ وہ لمحہ نہیں جس میں قرآن کہتا ہے:تم اپنے ہاتھوں سے اپنی ہلاکت کا سامان نہ کرو؟روح اور عقل دومختلف جہان۔۔ قرآن فرماتا ہے:وہ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو روح میرے رب کے امر سے ہے۔AI کے پاس عقل ہے مگر روح نہیں۔وہ حساب جانتی ہے مگر احساس نہیں۔وہ بات کر سکتی ہے مگر دعا نہیں کر سکتی۔لیکن اگر انسان خود اپنی روح سے خالی ہو جائے تو پھر اس میں اور روبوٹ میں کیا فرق باقی رہ جائے گا؟دعوتِ فکر بیداری سے پہلےبقا نہیں اےاہلِ ایمان!یہ لمحہ تفکرکا ہے،حسرت کا نہیں۔ہم وہ نسل ہیں جسے اللہ نے علم اور روح دونوں عطا کیے۔اگر ہم نے ان دونوں کو الگ کر دیا تو ہم اپنی زمین، اپنی نسل، اور اپنی معنویت کھو دیں گے۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:ہم AI کے غلام بنیں یا اللہ کے خلیفہ رہیں۔ہم ڈیجیٹل مخلوق بنیں یا روحانی مخلوق۔دعا و امیداے اللہ!ہمیں ان میں شامل نہ کر جو اپنی تخلیق سےخود کو مٹا دیتے ہیں۔ہمیں ان میں شامل کر جو ٹیکنالوجی کو امانت سمجھتےہیں،اور AI کو اپنی خدمتگار بناتے ہیں، نہ آقا۔اے رب العالمین!ہمیں اشرف المخلوقات کے درجہ سے گرنے نہ دے،جس طرح ابلیس غرور سے اپنے عالی مقام سے گر گیا تھا۔ہمیں وہ شعور دے کہ ہم ایمان سے جیتیں، نہ کہ اے آئی سے،اور وہ نور عطا کر کہ ہم روح کے وارث رہیں نہ کہ مشین کے غلام۔