احتجاج آئینی حق ہے ۔لیکن موقع و محل بھی تو کچھ اہمیت رکھتے ہیں ۔رائے کے اظہار کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ تحریر ،تقریر، انٹرویو جیسے روایتی طریقوں کے علاوہ اب سوشل میڈیا پر متعدد وسائل دستیاب ہیں۔ مختلف تنظیمیں اور شخصیات وی لاگ، ٹویٹر ایکس ،فیس بک اور پوڈ کاسٹ کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ آخرلاہور سے مرید کے پہنچنے والے احتجاجی قافلے کا معاملہ خراب کیوں ہوا؟ ۔ ٹی ایل پی کا ماضی بھی اس حوالے سے قبل رشک نہیں رہا ۔عوام کی تکالیف نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنوں کی بدولت اہم سڑکوں کی بندش نے شہریوں کو بہت تکلیف پہنچائی ۔ٹی ایل پی کے اصحاب نے شاید اس پہلو پر کوئی توجہ نہیں دی ۔عام شہری دھونس سے دیے گئے دھرنوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ۔راستوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات نے ٹی ایل پی کے لیے عوامی حمایت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔مطالبات کے حق میں دھمکی آمیز انداز اور دشنام طرازی کی روش نے مذہبی جماعتوں کے عمومی تاثر کو بھی مجروح کیا ہے۔ ماضی میں بھی ٹی ایل پی کے احتجاج قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصادم پر ختم ہوئے۔ ہر دو جانب سے تشدد اور طاقت کے بے جا استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ۔سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی نے اپنے عہد اقتدار میں ٹی ایل پی کے احتجاجی مارچ کو ملک دشمنی قرار دیا ۔پرتشدد روش کی بدولت ٹی ایل پی کے کارکن اور پولیس اہلکاروں کا جانی نقصان بھی ہوا۔ نجی اور سرکاری املاک تباہ ہوئیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی چینل کے ذریعے خطاب میں پر تشدد احتجاج کی مذمت کی ۔حزب اختلاف کی جماعتوں خصوصاًنون لیگ اور پی پی پی کو ٹی ایل پی احتجاج کی حمایت کرنے پر ہدف تنقید بنایا ۔ آج ان تینوں جماعتوں کا حالیہ موقف گہرے کھوکھلے پن کا ثبوت ہے۔ حکمران جماعت نون لیگ آج وہی دلائل استعمال کر رہی ہے جو کہ ماضی میں پی ٹی آئی کی قیادت نے اختیار کیے تھے۔ ٹی ایل پی آج بھی وہی کھڑی ہے جہاں کل تھی۔ اچانک احتجاج کا اعلان ،غیر حقیقی مطالبات اور دھرنوں کے ذریعے راستوں کی بندش ۔اس مرتبہ بھی احتجاج سے شروع ہونے والا معاملہ تشدد اور خونریزی تک جا پہنچا ۔حکومتی حسن انتظام کہیں نظر نہیں آیا۔ ا حتجاجی قافلہ مرید کے سے آگے نہ بڑھ سکا ۔تا ہم کنٹینر ڈاکٹرائن کے زیر اثر جڑواں شہر راولپنڈی اوراسلام آباد سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ۔ یہ بھی ایک تماشہ ہی لگتا ہے کہ ماضی کے برخلاف آج پی ٹی آئی پوری قوت کے ساتھ ٹی ایل پی کے خلاف پولیس آپریشن کی مذمت کر رہی ہے۔ خیالات میں یہ تبدیلی حب ٹی ایل پی نہیں بلکہ بغض حکومت کا اظہار ہے۔
حکومت پنجاب نے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اب گیند وفاقی حکومت کی کورٹ میں ہے ۔قانون کے مطابق ٹی ایل پی پر پابندی عائد کروانے کے لیے پنجاب اور وفاقی حکومت کو ٹھوس شواہد اور دلائل پیش کرنا ہوں گے۔ سرکاری ترجمانوں اور وزرا ء کے دھواں دار بیانات تو ہم سن چکے ہیں۔ ماضی میں جب ٹی ایل پی پر پابندی عائد کی گئی تو پی ٹی آئی کے وزیروں اور مشیروں نے کافی گرم گفتاری کا مظاہرہ کیا تھاتاہم کچھ عرصے بعد حکومت کو یہ پابندی ختم کرنا پڑی تھی ۔اگر حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو تمام آئینی و قانونی تقاضوں کی پاسداری کی جائے ۔ پابندی عائد کرنے کا سخت فیصلہ جانبداری سے پاک ہونا چاہیے۔ ٹی ایل پی جس مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے اس کا ماضی پرتشدد کاروائیوں سے پاک رہا ہے ۔اس مکتب فکر کے اکابر علما ء پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تیزی سے پھیلتے پرتشدد رجحانات کا موثر تدارک کریں ۔ریاستی اداروں کو بھی یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آہنی ہاتھ کا استعمال کسی مخصوص مکتب فکر یا مسلک کے بجائے بلا امتیاز ہر متشدد گروہ یا تنظیم کے خلاف استعمال کیا جائے۔ ایسا نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت اور پرتشدد رد عمل کا آسیب حاوی ہو جائے گا۔ ماضی میں عجلت کی کیفیت میں اٹھائے گئے بعض ریاستی اقدامات کے نتیجے میں ملک نے بہت نقصان اٹھایا ہے ۔سرحد پار دہشت گردی میں ملوث گروہ آج بھارت جیسی پاکستان دشمن ریاست کےآلہ کار بن کر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں ۔ریاستی ادارے یہ حقیقت پیش نظر رکھیں کہ لسانی نفرت ۔مسلکی تعصب ،خارجی فکر اور با غیانہ روش دراصل پاکستان کے وجود کے لیے زہر قاتل ہے۔ ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے جو آگے چل کر قومی وحدت اور سالمیت کے لیے خطرہ بن سکے۔ تشدد پسند گروہوں پر پابندی کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام بھی دینا ضروری ہے کہ ریاست پاکستان میں دھونس، بغاوت اور تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔
