Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

عشق کا مدرسہ جہان توحید

تمہید: کائنات، ایک زندہ مدرسہ
رومیؒ فرماتے ہیں:
’’این جہان چون خط و خال و چشم و ابروست،
کہ نمودار و پدید است ولی محبوب اوست‘‘
یعنی یہ دنیا خدا کے حسن کا ظہور ہے۔ ہر ذرے میں محبوب کی نشانی ہے، ہر لمحہ ایک درس گاہ ہے۔رومیؒ کے نزدیک کائنات کوئی جامد مخلوق نہیں، بلکہ ایک زندہ بیدار مدرسہ ہے جہاں ہر شے بولتی ہے، سکھاتی ہے اور دلوں کو جگاتی ہے۔قرآن کریم اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
’’ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں اور ان کے نفسوں میں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ (وحی)حق ہے۔‘‘(حم السجدہ 53)
یہی آیاتِ آفاق و انفس رومیؒ کی تعلیم کا جوہر ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کا اصل سفر خاک سے افلاک اور مادہ سے روح کی طرف ہے۔
روح کا سفر: خاک سے عشق تک
’’رومیؒ کی مثنوی میں انسان کی پیدائش کو ایک مسلسل بیداری کے سفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔‘‘
از جمادی مردم و نامی شدم
از نما مردم، ز حیوان سر زدم
مردم از حیوانی و آدم شدم
پس چہ ترسم کی ز مردن کم شدم؟
یعنی میں جماد سے مرا، پودا بنا، پھر حیوان بنا، پھر انسان۔اب میں اس مرنے سے کیوں ڈروں؟ہر موت ایک نئی زندگی کا دروازہ ہے۔یہی آیتِ قرآنی مفہوم کا بیان ہے:
’’وہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔‘‘(الروم 19)
یہی مسلسل تغیر اور ارتقاء دراصل عشق کی آگ سے پیدا ہوتا ہے وہ عشق جو روح کو نیند سے جگاتا ہے۔
ابن عربی: ’’عشق ہی حقیقت مطلقہ ہے‘‘
شیخ الاکبر محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں:
’’الوجود کلہ حب‘‘ تمام وجود عشق ہی ہے۔
ان کے نزدیک، خالق اور مخلوق کے درمیان جو رشتہ ہے، وہ محبت کا رشتہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچانا جائوں، پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ میں پہچانا جائوں۔
ابن عربی کے مطابق، یہ ’’محبت کی چاہت‘‘ ہی تخلیق کی بنیاد ہے۔
کائنات کے ہر ذرے میں وہ الٰہی محبت دھڑک رہی ہے اور انسان کو بھی اسی محبت کی تلاش میں بھیجا گیا ہے۔
امام غزالیؒ: قلب خدا کا تخت امام ابو حامد الغزالیؒ فرماتے ہیں:
’’قلب عرشِ الٰہی ہے؛ اگر اسے پاک کر لو تو حق اس میں جلوہ گر ہو جائے گا۔‘‘ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان مٹی سے بلند ہو کر خدا کے قرب کو پاتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
’’سوائے اس کے جو اللہ کے حضور ایک پاک دل لے کر آئے۔‘‘(الشعراء 89)
رومی ؒاسی دل کو ’’مدرسہ عشق‘‘ کہتے ہیں جہاں علم کتابوں سے نہیں، مشاہدہ اور محبت سے حاصل ہوتا ہے۔دنیا عشق کی درسگاہ
رومی ؒکے نزدیک یہ دنیا ایک خانقاہ ہے جہاں ہر دکھ، ہر محرومی، ہر جدائی، سبقِ عشق ہے۔
’’زخم آن است کہ در تو راہ یابد،
تا از آن راہ، نور در آید‘‘
یعنی زخم وہ دروازہ ہے جس سے روشنی داخل ہوتی ہے۔مصیبت دراصل محبت کی تعلیم ہے۔اسی لئے قرآن فرماتا ہے:
’’ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو مگر وہ تمہارے لئے بہتر ہو۔‘‘(البقرہ 216)
یہی ’’مدرسہ عشق‘‘ کا پہلا سبق ہے کہ درد دراصل بیداری کی کنجی ہے۔
عشق: علم سے بلند مقام
غزالی ؒفرماتے ہیں:
علم اگر عشق سے خالی ہو تو حجاب بن جاتا ہے۔اسی لئے رومیؒ کہتے ہیں:
’’علم را بر تن زنی مار بود
علم را بر دل زنی یار بود‘‘
یعنی علم اگر صرف دماغ میں رہے تو زہر ہے،اور اگر دل میں اتر جائے تو تریاق اوریار بن جاتا ہے۔علم اور عشق کا اتحاد ہی انسان کو حقیقی عرفان تک پہنچاتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔‘‘
یہ حدیث عشق کی بنیاد ہے: خود شناسی ہی خدا شناسی ہے۔
انا سے فنا عشق کا کمال رومیؒ فرماتے ہیں:
’’فنا شو تا بقا بینی، ز خود بگذر تا خدا بینی‘‘
یعنی خودی کو مٹا تاکہ خدا کو دیکھ سکے۔قرآن میں یہی مفہوم یوں آیا:
’’میرے بندوں میں داخل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔(الفجر 29-30)
یہ جنت صرف آخرت کی نہیں، بلکہ روح کی وہ حالت ہے جہاں انا ختم ہو کر عشق باقی رہتا ہے۔انجام: عشق ہی اصل علم ہیرومی کا مدرسہ کتابوں سے نہیں، دلوں سے بھرا ہے۔ابن عربی کا عرفان عقل سے نہیں، مشاہدے سے پیدا ہوتا ہے۔غزالی کا فلسفہ منطق سے نہیں، محبت سے جڑتا ہے۔
آخر میں رومی کی دعا:
در دلِ من درآ و خونِ مرا رنگِ خود کن
تا بہ ہر جا کہ روم، نامِ تو باشد یارب!
یعنی اے خدا!میرے دل میں داخل ہو جا اور میرے خون کو اپنا رنگ دے دے،تاکہ میں جہاں بھی جاں، تیرا ہی نام ہو۔کائنات رومی ؒکے نزدیک عشق کی درسگاہ ہے ‘جہاں انسان اپنی خاک سے اٹھ کر روح بننے کا سفر طے کرتا ہے۔ابن عربی ؒنے بتایا کہ یہ محبت ہی وجود کا جوہر ہے،اور غزالی ؒنے سمجھایا کہ دل ہی وہ عرش ہے جہاں خدا جلوہ گر ہوتا ہے۔یہی عشق کا مدرسہ ہے جہاں طالب علم انسان ہے،استاد محبت ہے، اور نصاب صرف ایک: خدائے واحد و لا شریک
’’میں نے اپنا رخ اس کی طرف پھیر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔(الانعام 79)

یہ بھی پڑھیں