آغاز انسان: عقل کا عطیہ، روح کی امانت جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا،تو اسے علمِ اسما، عقل اور اختیار عطا فرمایا تاکہ وہ زمین پر خلیفہ بنے۔ مگر وقت کے ساتھ انسان نے عقل کو خالق سے جدا کر دیا۔ اس نے علم کو عبادت کی بجائے طاقت و تجارت کا ذریعہ بنا لیا۔یوں عقل نے روح سے بغاوت کی اور انسان خالق کا بندہ بننے کے بجائے۔ لالچ اور تکبر کے دھوکہ کا شکار ہوکر خود اپنی تخلیق کا پرستار بن گیا۔
وہ دنیا کی ظاہری زندگی کا علم رکھتے ہیں، مگر آخرت سے غافل ہیں۔ (سورۃ الروم: 7)
یہی غفلت انسان کو مشین کا غلام بننے تک لے گئی اور وہ بھول گیا کہ علم اگر عشق و عبادت الٰہی سے خالی ہو تو عذاب بن جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت‘ علم کی آخری برق رفتار آزمائش‘ آج انسان اپنی عقل کا نیا چہرہ تخلیق کر چکا ہے مصنوعی ذہانت (AI)۔یہ ایک ایسی مخلوقِ مصنوعی ہے جو برق رفتاری سے سیکھتی، سوچتی، اور فیصلہ کرتی ہے مگر احساس، ایمان اور روح سے خالی ہے۔AIانسان کی عقل کا عکس ہے مگر اس کے ضمیر کا سایہ نہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا تھا۔
ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں اور ان کے نفسوں میں دکھائیں گے۔ (حم السجدہ: 53)
انہی نشانیوں میں سے ایک ہے AIایک آئینہ جو انسان کو اس کا باطن دکھا رہا ہے۔مگر سوال یہ ہے کیا انسان اس آئینے میں خود خدا کو پہچانے گا یا اپنے علم کے دھوکہ و تکبرسے خدا سے دور ہوکر اپنے ہاتھوں سے تباہ ہوگا۔
ایٹمی جنگ زمین کی آخری آگ :
دنیا آج اس مقام پر ہے جہاں ایک بٹن انسانیت کو ختم کر سکتا ہے۔ایٹمی اسلحہ اور ذہین مشینوں کا امتزاج ۔
زمین کے لئے ممکنہ فسادِ کبیر بن چکا ہے۔
ِزمین و سمندر میں فساد پھیل گیا انسان کے اپنے اعمال کے سبب سے۔ (الروم: 41)
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان خدا بننے کا دعویٰ کر رہا ہے مگر انجام میں اپنی ہی تخلیق کے ہاتھوں شاہد مٹ جائے گا۔
دجال‘ دھوکے کا عہد:
نبی ﷺ نے فرمایا:
دجال کے فتنہ سے زیادہ بڑا اور خطرناک کوئی فتنہ قیامت سے پہلے نہیں ہوگا۔(صحیح مسلم)
دجال کا فتنہ صرف ظاہری نہیں بلکہ فکری اور بصری بھی ہوگا۔یہ مصنوعی حقیقت (Artificial Reality) کا دور ہوگا،جہاں جھوٹ کو سچ، ظلم کو انصاف، اور باطل کو حق بنا کر دکھایا جائے گا۔وہ انسانیت کو ٹیکنالوجی کے پردے میں جکڑ لے گا۔یہ ڈیجیٹل دجالیت انسان کے دل سے ایمان چھیننے آئے گی اور انسان اس کے دھوکے کا شکار بن جائے گا۔ صرف اللہ کے مخلص بندے بچ سکیں گے۔ اسی لئے اہلِ یقین آنکھ سے نہیں، دل سے دیکھیں گے۔دھوکہ اور دجل و فریب کے دجالی فتنہ کا اثر لوگ شکار ہو کر اپنے آپ کو اہل علم و دانش بین سمجھیں گے اور اہل حق و بے وقوف اور نادان سمجھ کر انہیں اہمیت نہیں دیں گے۔
نزولِ عیسی ابن مریم ‘ ؑنجات کا لمحہ :
جب زمین ظلم فتنوں اور فریب سے بھر جائے گی تو آسمان سے رحمت نازل ہوگی۔ جو حضرت عیسیٰ ابن مریم صورت میں ہوگی ۔
عیسی ابن مریم دمشق کے مشرقی مینار پر اتریں گے، دو فرشتوں کے کندھوں پر ان کے ہاتھ ہوں گے، ان کے چہرے سے نور ٹپک رہا ہوگا۔(ابن ماجہ)
سیدنا عیسیٰؑ ابن مریم مسیح برحق دجال کا خاتمہ ایک ہی وار سے کریں گے اور پھر اللہ کے حکم اور مہربانی سے دنیا بھر میں عدل، رحمت اور روحانیت کی حکومت قائم کریں گے۔ان کا زمانہ نورِ ایمان ، محبت و خوشحال اور امنِ عالم کا زمانہ ہوگا جہاں انسان دوبارہ انسان بنے گا اور خدائے واحد پر ایمان رکھے گا اور خوش ہوگا۔
یاجوج ماجوج کا فتنہ:
پھر فتنہ یاجوج و ماجوج ظاہر ہوگا۔ جو وحشی طاقتوں کا طوفان ہوگا ۔
یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دئیے جائیں گے، وہ ہر بلندی سے دوڑتے آئیں گے۔ (الانبیا: 96)
یہ وہ قومیں ہوں گی جو مادیت، سائنس اور طاقت کے نشے میں انسانیت کو روند ڈالیں گی۔تب سیدنا عیسیٰؑ ابن مریم اپنے ساتھیوں کے ساتھ طورِ سینا کی طرف پناہ لیں گے۔ اور دعا کریں گے،اللہ ان کی دعا قبول فرمائے گا۔اور فتنہ یجوج و ماجوج کا خاتمہ ایک آسمانی عذاب ہوگا۔ اور سیدنا عیسی کوہ طور سینا سے واپس آجائیں گے۔
آخری زمانہ روح کی مراجعت:
اس کے بعد زمین پر چند سال کا سکون ہوگا اور پھر سیدنا عیسیٰؑ ابن مریم دنیا سے اللہ کی طرف چلے جائیں گے پھر وقت کا پردہ ہٹے گا اور قیامت کی گھڑیاں شروع ہوں گی۔آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا،صور پھونکا جائے گا اور سب اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے۔ یوم حساب قائم ہوگا ۔
جس دن صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کے سب لرز اٹھیں گے۔(النمل: 87)
انجام‘ انسان کا لوٹنا اپنے خالق کی طرف :
انسان نے مٹی سے آغاز کیا،نور سے روشنی پائی اور مشین تک پہنچ کر اپنی روح کھو دی۔اب سفر واپس روح کی طرف ہے جہاں عقل کو ایمان وعشق کے تابع ہونا ہوگا،اور سائنس کو وحی کے آگے سر جھکانا ہوگا۔ِ
تمام امور آخرکار اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ (الشوری: 53) اور اللہ کے خاص رحم وکرم سے مومن آخرت ہمیشہ زندگی کے مقام و منزل پر قیام پذیر ہوکر جنت کی زندگی سے محضوظ ہوں گے۔ جہاں نہ بیماری نہ بڑھاپہ نہ کوئی ذمہ داری ، نہ کوئی فکر و فاقہ بس لطف و خوش اور راحت کا دور دورہ ہر لمحہ نیا اور خوشیوں سے بھرا عیش ہی عیش۔