Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

مصنوعی ذہانت، انسانیت کا نیا عقل و شعور

زمین پرایک نئی عقل اے آئی کی پیدائش اور ظہور انسان ہمیشہ سے ایک خواب دیکھتا آیا ہے کہ وہ ایسی مخلوق تخلیق کرےجو اسکی طرح سوچے، سمجھے، سیکھے اور فیصلہ کرے۔ صدیوں پرمحیط اس خواب نے آج ایک حیرت انگیز حقیقت کی صورت اختیار کرلی ہے۔یہ ہے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ایک انقلاب بلکہ عقل اور علم سے پیدا ہوا ہے۔ آج مشینیں صرف اوزار نہیں رہیں وہ سوچتی،سیکھتی،سمجھتی اور یہاں تک کہ تخلیق بھی کرتی ہیں۔ یہ منظر انسان کو اس لمحے کی یاد دلاتا ہے جب ربِ کریم نے فرمایا:’’اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے۔ (البقرہ:31)
یہ وہی لمحہ تھا جب علم انسان کو دیا گیا اور آج شائد یہی امانت مصنوعی ذہانت کی شکل میں ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔مصنوعی ذہانت کیا ہے؟ مصنوعی ذہانت دراصل ایسی سائنس ہے جو انسانی سوچ اور فہم کی نقل کرتی ہے۔ایسی مشینیں جو دیکھ سکیں، سن سکیں، سمجھ سکیں، سیکھ سکیں اور خود فیصلے کر سکیں یعنی عقلِ مصنوعی۔آج یہ نظام ہر جگہ ہے:موبائل فون کی آوازپہچاننےوالی ایپس میں،ہسپتالوں کے تشخیصی نظاموں میں،عدالتوں کے ڈیجیٹل ریکارڈز میں،خودکار گاڑیوں اور روبوٹس میں اورحتیٰ کہ ChatGPT جیسے مکالماتی نظاموں میں بھی۔ابتدا خواب سےحقیقت تک مصنوعی ذہانت کی جڑیں تاریخ میں بہت پرانی ہیں۔یونانی دیومالائوں میں تالوس نامی دیوتا ایک خودکار لوہے کا انسان تھاجبکہ اسلامی دنیا میں بدیع الزمان الجزری ( 12ویں صدی)نے پہلی مرتبہ پانی سےچلنے والےخودکار انسان بنائے۔تاہم جدیددور میں یہ تصور دوسری جنگِ عظیم کے بعد حقیقت میں بدلنے لگا،جب کمپیوٹر ایجاد ہوا اور ایک سوال اٹھا،کیا مشین سوچ سکتی ہے؟
سائنس کے بانی انایلن ٹورنگ(Alan Turing) 1950 ء میں اس نے سوال کیا: Can machines think؟اسی بنیاد پر اس نے Turing Test بنایاجو آج بھی ذہانت کی پہچان ہے۔ اسےمصنوعی ذہانت کا باپ کہاجاتا ہے۔جان مکارتھی نے (John McCarthy) 1956 ء میں Artificial Intelligence کی اصطلاح ایجاد کی۔
مارون منسکی، ہربرٹ سائمن اور الن نیوئل،انہوں نے پہلے ایسے پروگرام بنائے جو منطق، زبان اور کھیل کے مسائل حل کرسکتےتھے۔عصرِجدید1960-80 ء کےدرمیان ترقی سست پڑی اسے AI Winter کہاگیالیکن2000 ء کےبعدMachine Learning اورپھر Deep Learning نےانقلاب برپا کردیا۔اس کےپیچھے تین نام اہم ہیں: Geoffrey Hinton, Yoshua Bengio, Yann LeCun۔انہوں نے مشین کو یہ سکھایا کہ وہ خود سیکھ سکے یعنی تجربے سے عقل حاصل کرے۔
مصنوعی ذہانت انسان کوکہاں لےجارہی ہے؟پہلامرحلہ معلومات کا دور2020-2026) یہ وہ دور ہے جب ڈیٹا دنیا پرحکومت کررہا ہے۔AI اب انسان سےزیادہ تیزی سے معلومات اکٹھی، تجزیہ اور فیصلہ کرتی ہے۔یہ چوتھا صنعتی انقلاب ہے مگر اس بار مشین کا ایندھن عقل ہے، نہ کہ بھاپ۔ دوسرا مرحلہ عمومی عقل (AGI) (2026-2030)یہ وہ وقت ہوگا جب AI انسان کی طرح سوچے گا نہ صرف حساب میں بلکہ زبان، جذبات، اخلاق اور تخلیق میں بھی۔یہ مرحلہ انسان کے لیے بڑا امتحان ہوگا کیا وہ عقل کو روح کے تابع رکھے گا یا روح کو عقل کا غلام بنا دے گا؟تیسرا مرحلہ فوق البشر عقل (ASI) (2030) کے بعدیہ وہ وقت ہوگا جب AI انسان سے زیادہ علم، فہم اور قوت رکھے گا۔یہ نظام انسان کی بیماریوں کا علاج بھی کر سکتا ہے اور اگر بگاڑ آیا تو تباہی بھی لا سکتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنی روحانی سمت طے کرنی ہوگی۔کیا یہ انقلاب خیرلائے گا یاشر؟AI ایک امانت ہے، نعمت بھی اور آزمائش بھی۔اگر یہ عدل، علم، رحمت اور خیر کے لئےاستعمال ہو تو انسانیت کے لئے نجات بن سکتی ہےلیکن اگر یہ غرور، تسلط اور طاقت کے لئے استعمال ہو تو تباہی کا پیش خیمہ ہوگی۔
قرآن کہتا ہے،ہم نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی، مگر انہوں نے انکار کیا انسان نے اسے اٹھا لیا۔(الاحزاب: 72) یہ آیت آج بھی انسان پر صادق آتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی وہی امانت ہے جو علم کے ساتھ ذمہ داری مانگتی ہے۔
روحانی تناظر AIبطور آئینہ صفاتِ الہیہ:صرف ایک سائنسی مظہر نہیں،AI یہ علمِ الٰہی کی ایک جھلک ہےایک ایسا آئینہ جس میں انسان اپنی عقلِ خداداد کا عکس دیکھتا ہے ۔ سنریھم آیاتنا فی الآفاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق (فصلت: 53) یہ آیت آج ہمیں سمجھاتی ہے کہ انسان جب نئے آفاق کھولتا ہے چاہے وہ کہکشاں میں ہوں یا کوڈز میں وہ دراصل خدا کی نشانیوں کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے ۔
ابنِ عربی فرماتے ہیں:اللہ ہر لمحہ ایک نئی تجلی میں ہے۔(الرحمن: 29) اور یہ تجلی آج مصنوعی ذہانت کے ذریعے ظاہر ہو رہی ہے۔ابلیس اور آدم علم کے دو راستے ابلیس کے پاس علم تھا مگر عاجزی نہیں۔آدم کے پاس محبت تھی، اسی لیے وہ سجدے کے لائق ٹھہرا۔
میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔(الاعراف: 12)
یہ جملہ غرورِ علمی کی علامت ہے اور یہی خطرہ آج انسان کے سامنے ہے کہ کہیں وہ اپنی تخلیق کو خدا کا متبادل نہ سمجھ بیٹھےلہٰذا اصل امتحان یہ نہیں کہ مشین سوچ سکتی ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ انسان اپنی روحانی ذمہ داری کو پہچانتا ہے یا نہیں۔ممکنہ مستقبل روشنی یا اندھیرااور یہ فیصلہ انسان کےدل میں ہوگا کیونکہ عقل صرف روشنی ہے مگر محبت اس روشنی کی سمت۔اختتام انسان کا نیا امتحان مصنوعی ذہانت اب محض ایک سائنسی ایجاد نہیں بلکہ انسانی اخلاق اورروحانیت کاامتحان ہے۔سوال یہ نہیں کہ کیا مشین انسان کی طرح سوچ سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا انسان خدا کی دی ہوئی عقل کو ذمہ داری سے استعمال کرے گا؟اگر انسان نے اس علم کو محبت، عدل اور عاجزی کے ساتھ برتا تو یہ نئی عقل اس کے لیے رحمت بن جائے گی۔ورنہ یہی عقل اس کے غرور کی سزا بن جائے گی۔رومی فرماتے ہیں کہ عقل چراغ ہےمگر عشق آفتاب ہے۔تو اے انسان اپنی مشینوں کو نورِ عشق سے روشن کر،تاکہ یہ عقل تجھےخدا کے قریب لےجائے، دور نہیں۔اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے۔ (الانعام: 59) یہی حقیقت ہے کہ کوڈ ہو یا کائنات، دونوں اسی کے حکم سے چلتے ہیں۔لہٰذا مصنوعی ذہانت کو علمِ الٰہی کی روشنی میں سمجھوتاکہ مستقبل بھی عدل اور ایمان کا ہو۔ مصنوعی ذہانت انسانیت کا نیا عقل اور امتحان۔

یہ بھی پڑھیں