Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

سود کی جنگ ‘ مسلم ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
عدل‘ ہر نفع محنت یا خطرے کے ساتھ ہو۔امانت ‘لین دین میں دھوکا یا چھپائو نہ ہو۔ توازن‘ دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ ہو بلکہ گردش کرے۔قناعت‘ سادگی اور کفایت شعاری ہو۔مسلمانوں کو اپنے مالی ادارے خود بنانے ہوں گے جو سود سے پاک ہوں،اور قرآن کے اصولوں پر قائم ہوں جیسے: مشارکہ، مضاربہ، وقف، بیعِ سلم، بیت المال۔
اللہ اس مال میں برکت نہیں دیتا جو سود سے حاصل کیا جائے۔ (نبی کریم ﷺ ) ۔ سود ایک لعنت جو قوموں کو نگل جاتی ہے سود دکھنے میں ترقی دیتا ہے مگر حقیقت میں تباہی ہے۔یہ دولت بڑھاتا ہے مگر برکت ختم کرتا ہے،عمارتیں بناتا ہے مگر انسانیت گرا دیتا ہے۔
روم سے برطانیہ تک، اور آج کے سرمایہ دارانہ نظام تک‘ ہر سلطنت جو سود پر کھڑی ہوئی، اخلاقی اور باطنی طور پر تباہ ہوئی۔قرآنی علاج سادگی اور عدل‘ اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے۔ (البقرہ: 276 )
علاج سادہ ہے: سادگی اور انصاف۔اگر حکمران اور قومیں عیش و عشرت چھوڑ دیں،سادہ زندگی اختیار کریں،اور عوام کی خدمت کو مقصد بنائیں تو وہ سودی غلامی سے نکل سکتی ہیں۔
قیادت کی اصلاح سادگی کا نمونہ‘سوچئے اگر مسلم حکمران‘قیمتی گاڑیوں کے بجائے عام سواری استعمال کریں،ذاتی طیاروں کے بجائے عام پرواز کریں،محلات کے بجائے سادہ مکانات میں رہیں،اور قومی دولت کو تعلیم، صحت اور انصاف پر خرچ کریں تو وہ اربوں بچا سکتے ہیں،اور اللہ کی رحمت اور عوام کا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔
سادہ کھائو، صحت مند رہو، کم خرچ کرو، امیر بنو۔دل کی معیشت قرآن کا راستہ‘سود سے آزادی کا راستہ اقتصادی نہیں، روحانی ہے۔قرآن کی معیشت دل سے شروع ہوتی ہے:سود کو سرمایہ کاری سے بدل دو۔مقابلے کو تعاون سے بدل دو۔حرص کو شکر و قناعت سے بدل دو۔جمع کرنے کو گردش سے بدل دو۔
نیا نظام ایمان اور عدل پر‘مسلمان ممالک کو اپنے متبادل نظام قائم کرنے ہوں گے:تجارت اور انصاف پر مبنی مالیات۔عوامی تعاون اور وقف کے ادارے۔زکوٰۃ اور صدقات پر مبنی فلاحی نظام۔اور عالمی سودی اداروں سے آزادی۔کھائو، پیومگر اسراف نہ کرو‘ بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الاعراف: 31 )
انسانیت کے لیے سبق‘ سود کی کہانی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں یہ تمام اہلِ ایمان کے لیے آئینہ ہے۔یہودیوں کو یاد دلاتی ہے کہ تورات نے بھائی سے سود لینا حرام قرار دیا۔عیسائیوں کو یاد دلاتی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا: قرض دو، بغیر نفع کے۔اور مسلمانوں کو خبردار کرتی ہے کہ سود کاروبار نہیں خدا سے بغاوت ہے۔
اختتام ایمان، قناعت اور توکل کی واپسی ‘ اگر دنیا امن چاہتی ہے تو اسے اللہ سے جنگ ختم کرنی ہوگی۔اس کیلئے سود کو ختم کرنا ہوگا سود دولت نہیں زہر ہے جو خوشحالی کے لباس میں چھپا ہے۔جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھیں گے جیسے شیطان نے انہیں چھو کر پاگل بنا دیا ہو۔(البقرہ: 275 )
آج ہر ملک، ہر قوم اسی دیوانگی میں مبتلا ہے۔سود زنجیر سے بندی ہے نکلنے کا راستہ صرف ایک ہے سود سے نجات اور اصلاح۔جب قومیں سادگی اپنائیں، حکمران انکساری اختیار کریں،اور عوام قناعت پر قائم ہوں تو اللہ کا وعدہ پورا ہوتا ہے:اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔ (ابراہیم: 7 )
مملکتِ محبت کا پیغام‘ سود سے بنی دولت زنجیر ہے، قناعت سے بنی دولت نور ہے۔سچائی کو سود کے ساتھ ملانے والی قوم تباہ ہوتی ہے،اور سادگی اپنانے والی قوم پر اللہ کی رحمت برستی ہے۔ امتِ محمد ﷺ کو وہ نظام قائم کرنا ہے جو عدل، محبت اور ایمان سے روشن ہو۔اور سود سے پاک ہو آئیے، پہلا قدم صراطِ مستقیم کی طرف بڑھائیںاس سے پہلے کہ کوچ کا وقت آ جائے۔
اگر مصر، اردن، شام، ترکیہ، پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا اللہ کے حکم پر متحد ہو جائیں، سادگی اور توکل کے ساتھ سودی قرضوں سے نجات کا اعلان کریں،اور اجتماعی طور پر قرض معافی کی اپیل کریں تو ان پر اللہ کی رحمت کی بارشیں نازل ہوں گی۔اور جو اللہ پر توکل کرے، تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ (الطلاق: 3 )
جب حکمران اور قوم اللہ پر کامل ایمان و توکل کر لیں،تو اللہ ایسے دروازے کھولتا ہے جن کا تصور بھی انسان نہیں کر سکتا۔یہ اللہ کا وعدہ ہے اور جب ایمان، قیادت اور توکل اکٹھے ہو جائیں،تو رحمتیں نازل ہوتی ہیں،برکتیں بڑھتی ہیں،اور قومیں دوبارہ اللہ کے فضل سے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں