خطہ افغانستان اورپاکستان کی داستانِ قربت وکشمکش صدیوں پرمحیط ہے۔تاریخ نے بارہا دیکھا کہ جب بھی اس خطے کے آسمان پرامن کے بادل گھنے ہونے لگتے ہیں،کوئی نہ کوئی آندھی سازشوں کی سمت سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔کبھی یہ شعلے بیرونی قوتوں کے ایندھن سے بھڑکتے ہیں اورکبھی اندرونی گروہوں کے جوش وجنون سے۔ آزادی کے سورج نے جب جنوبی ایشیاکی پیشانی چوم کرنئی قوموں کودنیاکے نقشے پرجگہ دی،اس وقت بھی افغانستان وپاکستان نے برادرانہ رشتوں کادم بھرا تھالیکن خانہ جنگیوں، مفادات اورطاقت کی تدبیروں نے اس رشتے کوغلط فہمیوں کے تنائومیں لپیٹ دیا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف دہائیوں پرمحیط جہادمیں وہ قربانیاں دیں،جن کی نظیرکم ملتی ہے مگرآج بھی دہشتِ مسلسل اپنی جڑیں گہری کرنے کے درپے ہے۔اسی تلخ حقیقت کے پیشِ نظرپاکستان اورافغان طالبان کے مابین مذاکرات کاسلسلہ شروع ہوا تاکہ جنگ کے میدانوں میں بہنے والاخون گفتگو کی میز پر تھم سکے۔لیکن دوحہ اوراستنبول کی فصیلوں پر لگی امیدکی روشنی،تعنت، مایوسی اورنظریاتی تعصب کی آندھی میں مدھم ہوتی گئی۔
استنبول میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد تھا کہ جنگ وجدل کے اس مسلسل المیے کوکوئی سمت ملے۔ لیکن نہ کسی تجویزکی صورت بنی نہ کسی معاہدے کی فصل اگی۔افغانستان کی خاموشی ایک اجنبی سوال ہے ،سرحدی کشیدگی کی دھوپ ابھی مدھم نہ ہوئی تھی کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی حجرے کے دروازے بندہونے کااعلان کردیا۔ استنبول کی فضاؤں میں اٹھنے والی’’بات چیت ‘‘کی گردبارآورثابت نہ ہوئی۔نہ کوئی لائحہ عمل بنا،نہ کسی سمت کی نشاندہی ہوئی۔کابل کی خاموشی ایک اورسوال بن کرفضامیں معلق ہے ۔آیایہ خاموشی اتفاق ہے یااعلانِ لاتعلقی؟کیااس کے پیچھے مصلحت ہے یامعاندت؟آخردوحہ میں بڑھتی ہوئی امیدیں استنبول میں کیوں دم توڑگئیں ہیں؟اورنتائج بے ثمرہونے کے خوفناک نتائج کاکون ذمہ دارہے؟
آج کایہ آرٹیکل اسی کشمکش کی تاریخی، سیاسی، نظریاتی اورعلاقائی پرتوں کوکھولنے کی ایک ادبی وتحقیقی کاوش ہے۔بسااوقات حقائق کومحض اعدادکی زبان میں بیان کرناکافی نہیں ہوتا۔ قوموں کی داستانیں، جذبات، امیدیں اورخوف بھی ان کے فیصلوں کے سایے میں شامل ہوتے ہیں۔چنانچہ اس تحریرمیں کوشش کی گئی ہے کہ تجزیہ،تاریخ اورادب ایک ہم آہنگ طرزمیں قارئین کے سامنے آئے۔یہ تحریرنہ تومایوسی کا مرقع ہے اورنہ محض تنقیدکا آئینہ۔یہ ایک خبردارکرتی صداہے کہ اگرہم نے خطے کے امن کومضبوط اصولوں،باہمی اعتماداور حقیقت پسندانہ تدابیرکے ساتھ نہ سنبھالاتوآنے والے کل میں تاریخ کے صفحات پراوربھی سیاہ دھبے قدرے گہرے تحریرہوں گے جویقیناہماری آنے والی نسلوں کے لئے ندامت کا سبب بن سکتے ہیں۔
بھارت عرصہ درازسے پاکستان کوعسکری مصروفیت میں مبتلارکھنے کی تدبیریں کرتاآیا ہے ۔ مئی 2025ء میں پاکستان کے ہاتھوں بری طرح ہزیمت اٹھانے کے بعد مودی اب پاکستان کوایک چھوٹے پیمانے کی مستقل جنگ میں الجھائے رکھناچاہتا ہے اورکابل کی موجودہ حکمتِ عملی اسی سازکے تارچھیڑتی محسوس ہوتی ہے۔ افغان طالبان کاطرزِعمل بسااوقات بھارتی مفادات کی تکمیل میں مہرہ بنتادکھائی دیتاہے۔ خطے میں طاقت کے توازن کی کشمکش صرف بندوق کاکھیل نہیںیہ معیشت، سفارت اور ذہنی جنگ کامجموعہ ہے۔
یہ سوال اب ہرگفتگوکی پہلی سطربن چکاہے کہ افغان طالبان تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف اقدام سے ہچکچاہٹ کیوں برتتے ہیں؟ آخروہ ہاتھ کیوں لرزاں ہے جودہشت کے اژدھے کودبانے کے لئے بلندہونا چاہیے؟ افغان طالبان کے اندرونی حلقے تاحال سمجھوتے کے اس نکتے پرالجھن کاشکارہیں کہ کب،کیسے اورکس قیمت پرٹی ٹی پی کے خلاف اقدام کیا جائے؟ان کے نزدیک یہ معاملہ صرف سیکیورٹی نہیںنظریہ،وفاداری اورتاریخی احسانات سے بے وفائی کادرجہ رکھتے ہیں۔ پاکستان نے ناقابلِ تردیددستاویزی شواہداور ثبوت فراہم کیے؛نہ صرف افغان طالبان نے،بلکہ ثالثی کرنے والے میزبان ممالک نے بھی ان کی صحت کی تصدیق کرتے ہوئے صحیح مانامگرافغان وفدنے یقین دہانی کے باب کومقفل رکھااوراصل موضوع سے انحراف کا رویہ نہ چھوڑاگویااصل مدعامذاکرات کے حاشیے میں گم ہوتا گیا گویاحقیقت کے بیچوں بیچ کھڑی دیوارکونظر انداز کرکے یہ سمجھ لیا جائے کہ دیوارگر چکی ہے۔
پاکستان نے چاربرس کے اندرجونقصان اٹھایا،وہ محض اعدادوشمارنہیںہرشہیدکی کہانی میں ایک گھرکاچراغ گل ہوا۔چاربرس تک جانی ومالی قربانیوں کابوجھ اٹھانے کے بعد پاکستان کے صبرکاپیمانہ لبریزہو چکا ہے۔عوام کی سلامتی اس ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔لہذاریاست نے یہ اعلان کیاکہ دہشت کے ہرسانپ کوایک ایک کرکے کچلاجائے گا ۔لہٰذایہ عہدکیاگیاہے کہ دہشت ووحشت کی ان خارزارراہوں سے وطن کوپاک کرنے کے لئے ہرممکن اقدام اٹھایاجائے گا۔نہ پناہ گاہ بچے گی،نہ سرپرستی اورنہ اعانت۔
سکیورٹی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان کسی متوازی منشورپرچل رہے ہیں جوخطے کے امن کے لئے خطرہ ہے۔اگرنیتوں کے زاویے بدل جائیں تو راستے بھی بدل جاتے ہیں۔ باخبرذرائع کی رائے میں افغان طالبان کے دلائل نہ زمینی حقیقت سے سازگارہیں نہ منطقی تدبیرسے۔گویاپسِ پردہ کوئی اورایجنڈاہے جوخطے کے امن کے لئے سمِ قاتل ثابت ہوسکتا ہے ۔پیش رفت اب طالبان کی نیت اوررویے کی آزمائش پرموقوف ہے۔
خواجہ آصف نے بے ساختہ کہاکہ امن کی خواہش کمزوری نہیں۔اگراسلام آبادپرحملہ کرنے کاخبط پالنے والوں نے سراٹھایاتوان کی بینائی چھین لی جائے گی، یہ صرف دھمکی نہیں، ریاست کاقانونی حق ہے۔ خواجہ آصف کی للکاراعلان بن کرابھری ہے کہ اگربات سے بات نہ بنی توجنگ بھی کوئی دورکی آہٹ نہیں۔ اسلام آبادپرکسی یلغارکی کوشش کی گئی توحملہ آورکواس کی آنکھوں کی روشنی تک بھلادی جائے گی۔
(جاری ہے)