Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

قربانیوں کی خاک سے اٹھتے سوال

(گزشتہ سے پیوستہ)
افغان ماہرین کاخیال ہے کہ طالبان قیادت ٹی ٹی پی کواپنانظریاتی ہمزادسمجھتی ہے ،آٹھویں اورنویں دہائیوں کی مشترکہ جدوجہدنے ان کے رشتوں کوایسا جوڑا ہے کہ جداکرنامحض سیاسی فیصلوں کاکھیل نہیں۔ دونوں تحریکوں نے تاریخ کی پچ پرایک ہی روش سے بیٹنگ کی،اسی لیے طالبان کے لئے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنااپنوں پرہاتھ اٹھانے کے مترادف محسوس ہوتاہے۔ یہی نظریاتی قربت طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے بازرکھتی ہے۔دل ودماغ اگرایک قبلے پرٹھہرجائیں توہاتھ تلوار پکڑتے لرزتے ہیں۔یہ قربت بسا اوقات ظلم کی توجیہ بن جاتی ہے۔جب حق وباطل کی لکیردھندلی ہوجائے تواسی اجتہادی غلطی سے تشددکوبھی جہادکا نام ملنے لگتاہے ،یہی المیہ ہے جوامن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان نے ماضی میں افغان جہاد کواپنادینی وتزویراتی قلعہ سمجھا،اسی لئے پاکستان نے طالبان کوپناہ اورسیاسی سہارادیا۔مگرتاریخ کی طنزیہ مسکراہٹ یہ کہ آج اسی پالیسی کے منفی اثرات قومی سلامتی کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اوراب تاریخ کے دروازے پروہ اس فیصلے کے بھاری قرض کاتقاضہ کرنے آگئی ہے، وقت کی عدالت میں ہرفیصلے کا حساب ہوتاہے۔
طالبان کے حقانی دھڑے کے ٹی ٹی پی سے عملی تعلق رہے ہیں۔ٹی ٹی پی کے ساتھ ان کے روابط ایسے بندھن ہیں جنہیں توڑناآسان نہیں۔ اگرزور زبردستی کی گئی توداعش کادروازہ ٹی ٹی پی کے لئے زیادہ کشادہ نظرآنے لگے گاانہیں خوف ہے کہ سخت کارروائی ٹی ٹی پی کوداعش کی آغوش میں دھکیل نہ دے۔یہ وہ خوف ہے جوطالبان کو فیصلہ کن قدم سے روکتاہے۔ یوں فسادایک نئے دھارے میں بہہ نکلے گااورخود طالبان کوکابل کے تخت سے دستبردارہونے کاخدشہ ہے اوراس سلسلے میں طالبان کے اپنے کئی گروہ پہلے سے تیار ہیں جوموجودہ طالبان رجیم کوانجام تک پہنچانے کے لئے اشارے کے منتظراور بے تاب بیٹھے ہیں۔
قندھارکی قیادت پاکستانی اقدامات ملابرادرکی گرفتاری اورملامنصورکی امریکی حملے میں ہلاکت کوماضی کی تلخ یادسمجھتی ہے،جوآج بھی پالیسی کے سینے میں کانٹابنی ہوئی ہے۔ قندھار کے اقتدارکی رگوں میں یہ واقعات آج بھی بلاکے دردکے ساتھ یادکئے جاتے ہیں۔اسی لئے پالیسی کے صفحات میں آج احتیاط اورناراضگی ہم سفر ہیں۔ پاکستان کی طرف سے سرحدپارافغان سرزمین پرموجودٹی ٹی پی کے مراکزکونشانہ بنایاگیا،افغان مصنوعات پر تجارتی بندش،تجارتی راہداریاں معطل ہوئیں اور غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔یہ سب الفاظ سے زیادہ بلیغ پیغام ہے کہ برداشت اب حدِ درک سے آگے بڑھ چکی ہے۔یہ سب پیغامِ عمل ہے،محض لفظوں کی جنگ نہیں۔سیاست کے کنگرے پریہ سوال ہمیشہ کھڑارہے گااوریہی وہ سوال ہے جس کا جواب سیاست کی تلاش میں سرگرداں ہے کہ کیاطاقت ومعاشی دباؤطالبان کوٹی ٹی پی کے خلاف صف آراکردے گا؟
کیا پاکستان کے یہ اقدامات طالبان کوعملی اقدام پرمجبورکرپائیں گے؟یاوہ پھرکسی نئی تاویل کا سہارا لے کراصل راستے سے بھٹک جائیں گے؟ افغان طالبان ریاستی ذمہ داری کواب بھی شرعی تعبیرکی عینک سے دیکھتے ہیںاسی لیے وہ ٹی ٹی پی کودشمن نہیں،قابلِ اصلاح ساتھی سمجھتے ہیں۔اوریہ سوچ امن کے رستے میں سب سے بڑا مغالطہ ہے۔کیا40سالوں تک میزبانی کرنے والے ملک میں پاکستان کے ازلی دشمن مودی کے ہاتھوں پراکسی کے طورپراسعمال ہوناشرعی طرپرجائز کہا جا سکتا ہے۔اس غیر اسلامی اورانسانیت کے خلاف قبیح جرم سے سے روکنابھی توانہی طالبان کے عین فرضِ منصبی میں شامل ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہے مگر طالبان خود کوایک ریاستی ذمہ داری کے ساتھ نہیں دیکھتے۔داعش کی سرگوشیاں اوراندرونی اختلافات انہیں تذبذب میں مبتلارکھتے ہیںانہیں داعش اورفرقہ وارانہ دھڑوں کاخوف ہے،اسی لیے ٹی ٹی پی کے خلاف ضربِ کاری اب بھی ملتوی ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔۔
افغان طالبان کی فیصلہ سازی اب بھی تحریک کے مزاج کے زیرِاثرہے،ریاستی ذمہ داری کے تحت نہیں۔
ٹی ٹی پی اورطالبان کے روابط محض عسکری نہیں،نظریاتی وجذباتی گانٹھیں بھی شامل ہیں۔
خطے میں دہشتگردی کے بڑھتے حملوں کے پیچھے مخصوص علاقائی قوتوں کی حکمتِ عملی کارفرماہے۔
پاکستان کے اقدامات سے سیاسی ومعاشی دباؤمیں اضافہ ہواہے،مگرفی الحال خاطرخواہ تبدیلی نہیں آئی۔
مذاکراتی میزپرپیشرفت کاانحصارافغان طالبا ن کے سیاسی بالغ نظری اوربین الاقوامی ذمہ داری کے ادراک پرہے۔
مندرجہ ذیل نکات بھی اس پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کے لئے لیے قابلِ عمل اوردوراندیش حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتے ہیں:
علاقائی امن کے لئے سفارتی حکمتِ عملی،عالمی برادری،اوآئی سی اورشنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پرمسئلے کواجاگرکیاجائے، افغانستان کی معاشی بحالی میں تعاون کے بدلے سلامتی کی ضمانت طلب کی جائے، سرحدی انتظام میں دوطرفہ مشترکہ فورس کی تشکیل پر غور کیاجائے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کے لئے اعلیٰ انٹیلی جنس اشتراک اورریئل ٹائم کو آرڈینیشن،ٹی ٹی پی کے دہشت گردڈھانچے کوتکنیکی اورمالی لحاظ سے منقطع کیاجائے اورسرحد پار لانچنگ پیڈزاورمحفوظ پناہ گاہوں کانیست ونابودہونایقینی بنایاجائے۔
عوامی وفکری سطح پربیانیہ سازی کے لئے جہاد اورتشددکے غلط بیانیے کوعلمی اندازمیں بے نقاب کیا جائے، مدارس اصلاحات اورنوجوانوں تک امن پرمبنی دینی تعلیم کی رسائی، میڈیا کے ذریعے قومی یکجہتی اورمتفقہ بیانیہ سازی تشکیل دی جائے۔
افغان مہاجرین کی منصفانہ واپسی، انسانی حقوق کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ قانونی نظم کی بحالی،پاکستان کے معاشی وسماجی بوجھ میں کمی اورواپسی کے عمل کے لئے عالمی اداروں کی مالی معاونت ضروری ہے۔
اعتماد سازی کی تدابیرکے لئے مشترکہ کمیٹیاں، بارڈرمیکانزم،تیزرفتاررابطہ کانفرنسیں،غلط فہمیوں کی کھڑکیوں کومسلسل کھلارکھنا،طالبان قیادت میں اعتدال پسندعناصرکے ساتھ گاڑھاتعلق قائم کیاجائے۔
اس کے ساتھ ساتھ خواہشِ امن کے لئے راہنمائی کے طورپرچندممکنہ حل اورسفارشات پرغورکرنے کی دعوت دے رہا ہوں،شائدکہ ترے دل میں اترجائے میری بات:
پاکستان کو اقوامِ عالم کے ساتھ سفارتی مشترکہ حکمت عملی اختیارکرناہوگی۔
افغانستان میں سیاسی ومعاشی استحکام کے لئے باہمی تعاون بڑھایاجائے۔
مدرسہ اصلاحات اورسرحدی نگرانی میں تیزی لائی جائے۔
عالمی قوتوں کوباورکرایاجائے کہ دہشت گردی صرف پاکستان کامسئلہ نہیں،پورے خطے کاناسورہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں