کراچی ’’ناراض‘‘ نہیں،بلکہ صوبائی حکومت اور بیورو کریٹس کی بے پناہ شفقتوں کے زیر سایہ بہت ’’خوش‘‘ہے،مگر کیوں؟کئی کئی ایکڑ کے سرکاری محلات اور بنگلوں میں مفت بسیرا کرنے والے پیپلز پارٹی کے حکمران اور بیوروکریٹس کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر ہزاروں لوگوں کو بے روز گار کر کے ’’غریبوں‘‘کی ’’بدعائیں‘‘سمیٹ رہے ہیں تو اس میں ناراضگی کیسی؟یقین جانیے مسئلہ ’’ناجائز تجاوزات‘‘ کے خلاف آپریشن کا نہیں ہے، ورنہ فٹ پاتھوں حتیٰ کہ سڑکوں تک کو اپنے کاروبار ی مقاصد کے لئے استعمال کرکے عوام کو تنگ کرنے والوں کے خلاف بالکل اچانک سے خواب خرگوش سے بیدار ہو کر قانون کا حرکت میں آ جانا اچھی بات ہے،مگر سامان اٹھا کر غائب کر دینا، 20ہزار سے لے کر پچاس ہزار تک جرمانے وصول کرنا، ایفی ڈیوٹ بھروانا،متاثرہ دوکانداروں اور چھوٹے موٹے ہوٹل مالکان کو اسسٹنٹ کمشنر ، ڈپٹی کمشنر کے آفیسرز کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ تین شرائط پوری کر لیں جس میں سے پہلی شرط ایفی ڈیوٹ پر کریں دوسری شرط جو جرمانہ کہا جائے وہ ادا کریں، تیسری شرط آٹھ دن پورے ہونے دیں جب یہ تینوں شرائط پوری ہو جائیں گی تو سیلڈ دوکانیں یا ہوٹلز کو کمشنر کراچی کے حکم پر کھول دیا جائے گا ،مگر یا للعجب!آج گیارہ گیارہ دن ہو گئے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے ہوٹلز اور چائے ،فوڈ کی دوکانوں کو رٹ آف دی گورنمنٹ کی ’’چھری‘‘تلے دبایا ہوا ہے تو کیوں؟ آپ لوگوں کو ہلکی پھلکی سزائیں دے کر نصیحت کرنا چاہتے ہیں یا پھر ان سے روزگار چھین کر ان کے گھروں کو برباد کرنا چاہتے ہیں ؟
کے ایم سی،ٹی ایم سی، ٹریڈ لائسنس ،لیبر لائسنس ،بورڈ لائسنس ،علاقہ پولیس ،فورڈ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر سرکاری محکموں کے اہلکار دوکانداروں کے ساتھ سال بھر ’’ھذا من فضل ربی‘‘ والا جو عمل جاری رکھتے ہیں، اس کی تفصیلات اس قدر ہیں کہ اس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے اگر کراچی والے خوش ہوں تو کتاب کا نام بھی ’’ھذا من فضل ربی‘‘رکھا جا سکتا ہے ،یہ تو کراچی کے چھوٹے بڑے تاجروں،فٹ پاتھی ریڑھی بانوں کی خوش قسمتی ہے کہ حکومتی محکموں کی شکم پروری کے باوجود نہ صرف یہ کہ وہ زندہ ہیں بلکہ گرتے پڑتے روزگار میں بھی مصروف رہتے ہیں، عظمت خان کراچی کے سینئر صحافی ہیں ان کی عقابی نظریں حکومتی اداروں کی کارکردگی کے تعاقب میں رہتی ہیں، گزشتہ روز انہوں نے اس خاکسار کو دو حکومتی محکموں کی کارکردگی کی رودائیداد جس ’’مثالی‘‘انداز میں سنائی وہ حیران کن تھی،اس پر تفصیلی بحث آئندہ کسی کالم میں کریں گے ان شااللہ ، کاش کہ کمشنر کراچی سے پوچھ کر کوئی تو کراچی والوں کو بتائے کہ ایفی ڈیوٹ ، جرمانے وصولنے اور آٹھ دن مکمل ہونے کے باوجود دکانیں اور ہوٹلز کھولنے میں کون سی قوتیں رکاوٹ ہیں؟کراچی والے اس بات پہ بھی بہت ’’خوش‘‘ ہیں کہ اپنے ہوٹلز اور دکانوں کی بندش کے مسئلے کو حل کروانے کے لئے وہ جب ڈی سی آفس پہنچتے ہیں تو انہیں کمشنر افس سے مسئلہ حل کروانے کا کہا جاتا ہے اور جب وہ کمشنرآافس دھکے کھاتے ہوئے پہنچتے ہیں تو باہر کھڑے ہوئے سکیورٹی والے انہیں کمشنر کے دفتر میں داخلے کی اجازت ہی نہیں دیتے ، اگر یہ کہہ دیا جائے کہ کراچی کا کمشنر افس متاثرہ دکانداروں اور ہوٹلز کے ’’غریبوں‘‘کے لئے نو گو ایریا بنا ہوا ہے تو زیادہ درست ہوگا، ڈی سی افس اور کمشنر آفس کے درمیان کراچی والے گھن چکر بنے رہیں گے تو ’’خوش‘‘ تو ہوں گے،ویسے کراچی والوں کی تو ’’خوشیوں‘‘ کا تو ٹھکانہ ہی نہیں ،صرف ڈھائی،تین سو دوکانوں کو سیلڈ کیا گیا ہے،نا جائز تجاوزات کے نام پر ،باقی پوری کراچی میں سب کچھ جائز جائز ہی ہو رہا ہے،یعنی!
اس زلف پہ پھبتی کو شب دیجور کی سوجھی
اندھوں کو اندھیرے میں بڑے دور کی سوجھی
کراچی میںسڑکیں ٹوٹی پھوٹی،کھڈے ای کھڈے، علاقے کھنڈرات کے مناظر پیش کرتے ہوئے اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ای چالان کا جشن منا رہی ہے،یہ جس نے بھی کہا بالکل درست کہا کہ کراچی کی’’سڑکوں‘‘ پر سفر کرنے والوں کو’’چالان‘‘نہیں’’انعام‘‘ملنا چاہیے ،کراچی وہی شہر جو کبھی روشنیوں، زندگی اور تیز رفتاری کے لیے مشہور تھا، اب ’’گڑھوں، بدبو اور دھول‘‘کی شناخت بن چکا ہے۔خوشی تو بنتی ہے،ایک کراچی والے نے خوشیوں کے سمندر میں غوطہ لگا کر لکھا کہ جہاں کبھی شام ڈھلے چمکتی سڑکیں شہر کا حسن بڑھاتی تھیں، اب وہاں کے گڑھے، چاند کی سطح سے زیادہ گہرے اور تاریخی دکھائی دیتے ہیں۔ اگر کسی سیاح کو کراچی کی سیر کرائی جائے تو وہ شائد پوچھ بیٹھے‘یہ آثارِ قدیمہ ہیں یا نیا ترقیاتی منصوبہ؟سچ پوچھیے تو کراچی اب صرف ایک شہر نہیں، بلکہ صبرواستقامت کی لیبارٹری ہے۔یہاں ہر ڈرائیور، چاہے وہ رکشے والا ہو یا لینڈ کروزر والا، ایک ہی درجے کا مفکر ہے، کیونکہ ہر گڑھے سے بچنے کے لئے دماغ، دل، دعا اور تقدیر، سب کو ساتھ چلانا پڑتا ہے۔
کراچی کی گڑھا مارکہ سڑکوں پرسفر بھی اب عبادت سے کم نہیں، ہر موڑ پر آزمائش، ہر لین پر ابتلا‘ ہر سگنل پر نیا امتحان،کوئی گڑھا آپ کے صبر کو آزما رہا ہوتا ہے ،تو کوئی نالی گندہ نالا بن کر آپ کو سلامی پیش کرتی نظر آئے گی، بارش کا دن تو خیر کسی جغرافیائی کرامتوں سے کم نہیں۔ پورا شہر ایک ہی دن میں بحیرہ کراچی بن جاتا ہے اور ہر گاڑی، ہر موٹر سائیکل، اپنی قسمت کی نا میں تیرنے لگتی ہے۔ان دنوں شہریوں نے اپنی لغت میں ایک نیا محاورہ شامل کر لیا ہے‘ گاڑی نہیں، کشتی چلائو کم از کم چالان تو نہیں ہوگااور اب آتے ہیں اصل شاہکار ای چالان کی طرف،سڑکیں ٹوٹی ہوئی، سگنل غائب، لائٹیں خراب، مگر جناب کا ای چالان ایسا مستعد کہ آپ کی سانسیں بھی گن لے۔ اگر آپ کا وہم بھی کسی لال بتی کے قریب سے گزر جائے، تو ای میل، ایس ایم ایس اور جیب سب بیک وقت بجنے لگتے ہیں۔شہری حیران ہیں کہ حکومت نے سڑکیں ٹھیک نہیں کیں، مگر کیمرے ضرور نصب کر دئیے تاکہ تباہی کے لمحات ہائی ڈیفینیشن میں محفوظ رہیں۔گویا کہ کسی نے سوچا ہو‘اگر شہریوں کو سہولت نہیں دے سکتے، توکم ازکم سزا ہی دے دو۔ کبھی ناجائز تجاوزات کے نام پر اور کبھی ای چالان کے نام پر،یہ ای چالان دراصل’’ڈیجیٹل انصاف‘‘کا وہ نیا نمونہ ہے جس میں زمین پر ظلم اور انٹرنیٹ پر قانون دونوں بیک وقت چلتے ہیں۔
