تاریخ میں کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو کتابوں اور سرکاری دستاویزات کے اوراق میں خاموشی سے دفن رہتی ہیں۔ یہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں، یہاں تک کہ کوئی محقق ان کے انکشاف کا ذریعہ بنے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کئی ابواب اسی نوعیت کے ہیں، جہاں واقعات کی عمومی تعبیر ان کی حقیقی گہرائی سے میل نہیں کھاتی۔ انہی تاریخی حقائق میں سے ایک حقیقت پاکستان کی ایک ہمہ جہت اور کسی حد تک متنازع شخصیت‘ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے عروج و زوال سے وابستہ ہے۔ بیشتر پاکستانی انہیں ملک کے پہلے فوجی حکمران کے طور پر جانتے ہیں، جنہوں نے پہلا مارشل لا نافذ کیا اور بعد ازاں صدرِ پاکستان بنے۔ لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ایک مرحلے پر ایوب خان نے وزیرِاعظم کا عہدہ بھی سنبھالا۔ یوں وہ پاکستان کی تاریخ میں ان چند شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے بیک وقت فوجی، انتظامی اور سیاسی طاقت اپنے ہاتھ میں رکھی۔
محمد ایوب خان 14 مئی 1907ء کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے ضلع ہری پور کے گاؤں ریحانہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ 1926ء میں رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں داخل ہوئے اور 2 فروری 1928ء کو برٹش انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ ان کی ترقی کا سفر ان کے نظم و ضبط اور انتظامی صلاحیتوں کا مظہر تھا۔ جب 1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو ایوب خان ان چند مسلمان افسروں میں شامل تھے جو انڈین آرمی میں سینئر ترین حیثیت رکھتے تھے۔ وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے انہیں پاکستان کی نئی فوج میں خدمات انجام دینے کے لیے منتخب کیا۔
17 جنوری 1951 ء کو ایوب خان کو جنرل سر ڈگلس گریسی کی جگہ پاک فوج کا کمانڈر اِن چیف مقرر کیا گیا ‘ یوں وہ پاکستان کے پہلے مقامی سربراہِ فوج بن گئے۔ ان کا یہ دور 27 اکتوبر 1958ء تک جاری رہا، اور اسی عرصے میں وہ بتدریج ملکی سیاست اور سول و عسکری نظام میں نمایاں قوت بن گئے۔
تاریخی موڑ 7 اکتوبر 1958 کو آیا جب صدر اسکندر مرزا نے 1956 ء کا آئین منسوخ کر کے قومی و صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں اور پورے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ انہوں نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا، جس کے ساتھ انہیں وسیع اختیارات حاصل ہو گئے۔
گزٹ آف پاکستان مورخہ 27 اکتوبر 1958 ء کے مطابق ’’صدرِ پاکستان اسکندر مرزا نے ستائیسویں روز اکتوبر 1958ء کو، جنرل محمد ایوب خان، سپریم کمانڈر آف دی آرمڈ فورسز آف پاکستان اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو وزیرِاعظم پاکستان مقرر کیا ہے۔ اطلاع دی جاتی ہے کہ جنرل محمد ایوب خان نے اسی روز قبل از دوپہر دفتر وزیراعظم کا چارج سنبھال لیا ہے۔‘‘
اسی کے ساتھ صدر نے لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان، لیفٹیننٹ جنرل ڈبلیو اے برکی، محمد ابراہیم، لیفٹیننٹ جنرل کے ایم شیخ، عبدالقاسم خان، خان ایف ایم خان، ذوالفقار علی بھٹو اور محمد حفیظ الرحمن کو پاکستان کی کابینہ کے وزراء مقرر کیے۔
28 اکتوبر 1958 ء کے اخبارات اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق، جنرل محمد ایوب خان کی جانب سے صدر کے طور پر مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا گیا:
’’چونکہ آج 27 اکتوبر 1958ء کی رات 10 بجے میجر جنرل اسکندر مرزا، سابق صدرِ پاکستان، نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر تمام اختیارات میرے سپرد کر دئیے ہیں، لہٰذا میں، جنرل محمد ایوب خان، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور سپریم کمانڈر آف آرمڈ فورسز آف پاکستان، اسی شب 27 اکتوبر 1958 ء کو صدرِ پاکستان کا منصب سنبھالتا ہوں اور اس کے تمام اختیارات اپنے اختیار میں لیتا ہوں۔‘‘
صدرِ پاکستان (1958-1969) کی حیثیت سے ایوب خان نے وسیع انتظامی اور معاشی اصلاحات نافذ کیں۔ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان کی صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوششیں نمایاں رہیں۔ ان کے ’’عشرہ ترقی‘‘ (1958–1968) کے دوران زراعت، صنعت اور تعلیم میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ منگلا اور تربیلا ڈیموں کی تعمیر، نئی جامعات کا قیام اور ’’سبز انقلاب‘‘ کی مہم ان کے دور کی نمایاں کامیابیاں تھیں۔ تاہم، ان پالیسیوں نے علاقائی معاشی تفاوت کو بھی بڑھایا، جس کے باعث مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں عدم اطمینان پیدا ہوا۔
اس دور میں ایوب خان نے تمام انتظامی و سیاسی اختیارات اپنی ذات میں مرکوز کر لیے‘ وہ بیک وقت صدرِ پاکستان، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، کمانڈر اِن چیف اور وزیرِاعظم تھے۔
1962ء میں ایوب خان نے نیا آئین نافذ کیا، جس نے 1956 ء کے آئین کی جگہ لی۔ اس نئے نظام نے پارلیمانی جمہوریت کے بجائے صدارتی طرزِ حکومت متعارف کرایا، جس میں اختیارات صدر کے ہاتھ میں مرکوز ہو گئے اور وہ خود اسی منصب پر فائز تھے۔ یوں 1962 ء سے 1969 ء تک وہ ملک کے آئینی اور انتظامی سربراہ رہے۔
لیکن اقتدار اور مقبولیت کبھی طویل عرصے تک ساتھ نہیں چلتے۔ ملک کے دونوں حصوں میں سیاسی شعور کی بیداری، علاقائی تفاوت میں اضافہ اور محترمہ فاطمہ جناح اور بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنماؤں کی مزاحمتی سیاست نے ان کے اقتدار کو کمزور کیا۔ 1969ء کے اوائل میں عوامی احتجاج اور بدامنی کے نتیجے میں ایوب خان کو 25 مارچ 1969ء کو استعفیٰ دینا پڑا اور انہوں نے اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔
ایوب خان نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنی باقی زندگی خاموشی سے گزاری۔ وہ 19 اپریل 1974 ء کو انتقال کر گئے اور اپنے آبائی گاؤں ریحانہ میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کی قبر آج بھی ایک ایسی شخصیت کی یاد دلاتی ہے جو معمولی پس منظر سے اٹھ کر ریاست کے اعلیٰ ترین مناصب تک پہنچی اور جس کا نام آج بھی تاریخ دانوں اور اہلِ فکر کے درمیان بحث کا موضوع ہے۔ کچھ لوگ انہیں جدید پاکستان کا معمار اور نظم و ترقی کا علمبردار سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ انہیں فوجی بالادستی کی بنیاد رکھنے والا اور جمہوری عمل کو محدود کرنے والا قرار دیتے ہیں۔
تاہم، یہ حقیقت کہ انہوں نے ایک ہی وقت میں صدر، وزیرِاعظم اور آرمی چیف کے مناصب سنبھالے، ان کے اقتدار کی اصل وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ ایک ایسا دور تھا جب ایک شخص نے پاکستان کو مکمل طور پر سیاسی، عسکری اور انتظامی لحاظ سے اپنے اختیار میں لیا ہوا تھا۔ ایوب خان کی حکمرانی کا مطالعہ دراصل ایک فرد کی خواہشِ اقتدار کا نہیں بلکہ قوم کی اُس ازلی کشمکش کا آئینہ ہے جو جمہوریت اور نظم و ضبط، منتخب قیادت اور راہنمائی کے نظریے کے درمیان ہمیشہ جاری رہی۔
تاریخ کے ان ابواب کو دوبارہ پڑھنے سے احساس ہوتا ہے کہ سچائی اکثر عوامی یادداشت کے افق سے پرے ہوتی ہے۔ وہ اس انتظار میں رہتی ہے کہ کوئی انہیں پھر سے دریافت کرے نہ کسی کو عظیم ثابت کرنے کے لیے، نہ کسی کو گرانے کے لیے بلکہ اس لیے کہ قومیں اپنے رہنماؤں سے سیکھ کر ہی آگے بڑھتی ہیں، چاہے وہ مثال عبرت بنیں یا نمونہ عمل۔