Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جبر سے بغاوت تک

(گزشتہ سے پیوستہ)
چیرین دورجے کی پکارمیں آئینی روح بولتی ہے، چیرین دورجے لاکرک کی زبان میں جوآگ ہے،وہ مایوسی نہیں،ایمان ہے۔وہ کہتا ہے:ہم جرم نہیں کررہے،وعدہ یاددلارہے ہیں ،وعدہ خلافی کے جواب میں گولی نہیں،انصاف چاہیے۔یہ صدا گویا آئین کے بطن سے اٹھتی ہے۔وہ حکومت سے نہیں، انصاف سے مخاطب ہیںکہ وعدے پورے کرو،ہم صرف وعدے مانگتے ہیں،رعایتیں نہیں۔
6اکتوبرکے مذاکرات کے آغازسے پہلے ہی چارافرادموت کے گھاٹ اترگئے۔جب ظلم کے بعدمذاکرات کی میزبچھائی جاتی ہے تو الفاظ محض رسمی تعزیت بن جاتے ہیں۔ظلم کے بعد مذاکرات، انصاف نہیں،تمسخرہوتاہے۔لداخ کے رہنماں نے بائیکاٹ کرکے عزتِ نفس کاپرچم بلندرکھ کر بتا دیاکہ عزت کی سیاست سودے بازی سے بلند ہے۔
نوجوان اب دہلی کے وعدوں پرنہیں،اپنی خودی کے عزم پریقین رکھتے ہیں۔لداخ کے نوجوانوں کی آنکھوں میں اب وہ خواب نہیں جو دہلی نے دکھائے تھے،بلکہ وہ عزم ہے جوخودان کے دل نے تراشاہے۔وہ سونم وانگچک کوایک رہنمانہیں،اپنے وجودکی علامت سمجھتے ہیں۔وانگچک ان کیلئے ایک تحریک نہیں بلکہ ایک آئینہ ہیں۔ یہی نوجوان تحریک کے زندہ ضمیرکی دھڑکن اور حقیقی ترجمان ہیں۔
جب مطالبات آئینی اورقانونی ہوں، اور جواب میں گولی ملے،توسوال یہ نہیں رہتاکہ حکومت ظالم ہے یانہیں بلکہ آئین خودسوال بن جاتا ہے کہ آئین کس کاہے؟عوام کایااقتدار کا ؟ یہی لداخ کی داستان ہے۔جوحکومت آئین کا سہارا لے کرظلم کرے،وہ دراصل آئین کی روح سے بغاوت کرتی ہے۔لداخ کے نوجوان اپنی زمین، اپنے آکاش،اپنے دریا کے محافظ ہیں۔ان کامطالبہ محض قانون نہیں بلکہ فطرت کے حق کی بازگشت ہے۔وہ کہتے ہیں:جوہوا،جوپانی،جومٹی ہماری ہے،اس پرغیرکاحکم کیسے چلے؟ان کانعرہ: ’’ہمارا آسمان ، ہمارا قانون۔‘‘یہی وہ صدائے خودی ہے جسے دہلی سننانہیں چاہتی۔یہی شیڈول6کافلسفہ ہے خودمختاری نہیں،خودی کی حفاظت۔
چیرِن دورجے کااعتراف ایک تاریخی طنز ہے۔جنہوں نے آرٹیکل370کی منسوخی پرجشن منایاتھا،آج وہ پچھتاوے کے آنسوبہارہے ہیں۔ پھونسوک ستوبدن کاانتباہ گونجتاہے:یہ نہ بھولو:لداخ چین کی سرحد پرہے۔یہ انتباہ محض تجزیہ نہیں،ایک فکری وجغرافیائی خطرے کی گھنٹی ہے۔ غیر مقامی افسران کے ہاتھوں لداخ کانظم ونسق سپردکرناگویاکسی اجنبی کواپنے گھر کی چابیاں دیناہے،دوردرازکے افسران کو لداخ کی تقدیرپرمسلط کرناایسے ہی ہے جیسے کسی اجنبی کوگھر کاسربراہ بنادیاجائے۔جمہوریت کے نام پرغلامی کانیاباب رقم کردیاگیاہے۔غیرمقامی حاکمیت پراعتمادنہیں کیا جاسکتا،اورنہ ہی یہ لداخ کی مجبوری کی علامت ہے۔شیڈول6اب محض ایک سیاسی نعرہ نہیں رہا؛یہ دلوں کاعہداورعقیدہ بن چکاہے۔لداخ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہماری زمین پرفیصلے دہلی نہیں، لیہہ کرے۔لداخ کے عوام دہلی سے نہیں، اپنے حقِ خودارادیت سے جڑے ہیں۔یہ مطالبہ مرکزگریزنہیں،مرکزسے انصاف کی طلب ہے۔ 1949ء کی آئینی شقیں جن کاتعلق شمال مشرق سے تھا،اب لداخ کیلئے بھی امیدبن گئی ہیں اوریہی آئینی اصول اب لداخ کیلئے رہنمائی کا چراغ ہیں۔اب لداخ کامطالبہ رعایت نہیں،یقین کی بحالی ہے۔جب اندرکی بغاوت کودبایانہ جاسکے تو بیرونی دشمن تراشے جاتے ہیں۔مودی حکومت جب اندرونی محاذہارتی ہے توبیرونی دشمنوں کے سائے بڑھادیتی ہے۔مودی کی زبان سے پاکستان کو گھن گرج دراصل داخلی ناکامی کی گونج ہے۔ پاکستان سے جنگ کی دھمکیاں سیاسی کمزوری کا لبادہ ہیں۔جنگ کاشور،امن کی قبروں پربجایاجانے والاطبلہ ہے۔پاکستانی فوج کی جوابی للکارخطے کی فضاکوپھرسے بارودآلودکرنے سے گریزکامشورہ دیتے ہوئے متنبہ کررہی ہے۔اب اگرآگ لگی تووہ صرف سرحدوں پرنہیں،دوردرازکاکوئی بھی کونہ محفوظ نہیں رہے گااوربقول مودی کے دل میں بھڑکنی والی آگ جواس کی روح پرقرض ہے،لیکن مودی یادرکھے کہ اب آگ دلوں میں ایسی بھڑکے گی کہ دھڑکنیں اپناراستہ بھول جائیں گی۔لداخ کے برف زاروں اور کشمیرکے چناروں سے لے کرغزہ کی گلیوں تک طاقت کے ہاتھوں روندے ہوئے انسانیت کے زخم ایک جیسے ہیں،مودی اوراس کا وزیر دفاع اورجنرل چوہان، سب نے برف زاروں کے اس خطے میں اب بارودکی بوگھول دی ہے اورامن کاجسم زخمی کردیا ہے لیکن یادرکھیں کہ اب یہ وہی مئی والا پاکستان نہیں ہوگا کہ اپنے مربی اورآقاکے درپردہائی دے کرسیزفائرکروالیاتھابلکہ اب یہ نوبت نہیں آئے گی اوردنیامیں فقط واحد ہندو ریاست کانام ونشان مٹ جائے گامگردرجنوں مسلم ممالک اس دنیاکے نقشے پرمزیدابھریں گے۔
سوال اب یہی ہے:کیامودی اپنی اقتدار کی بقاکیلئے جنگ کی بازی کھیل سکتاہے؟جب حکمران اپنے عوام کے خلاف صف آراہوجائے تو پھردشمن سرحدپارنہیں،محل کے اندرہوتا ہے .یہ لداخ کے احتجاج کی وہ ادبی تفسیرہے جومحض واقعات کابیان نہیں بلکہ ضمیرکی بیداری کی داستان ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کے نیچے دبنے والاانسان کبھی ہمیشہ خاموش نہیں رہتا۔ لداخ کی داستان محض ایک خطے کی بغاوت نہیں، بلکہ ایک ملک کے بکھرتے ضمیرکی بازگشت ہے۔ یہ صرف برف پگھلنے کامنظر نہیں،بلکہ اقتدارکے غرورکے ٹوٹنے کی آوازہے۔ہندوستان،جوکبھی جمہوریت کااستعارہ سمجھاجاتاتھا،آج اپنی ہی جمہوری سانسوں پر بندوق تانے کھڑاہے۔آج مودی کے بھارت میں کسان دہلی کی سڑکوں پرمررہاہے،طلبہ یونیورسٹیوں میں قیدہیں،اقلیتیں خوف کے سائے میں سانس لے رہی ہیں،اورلداخ کے پہاڑ،جوکبھی امن کے محافظ تھے،اب انقلاب کے قاصدبن گئے ہیں۔مودی کاہندوستان اب ایک نئی تقسیم کے دہانے پرکھڑاہے،نہ مذہب کی بنیادپر،نہ زبان کی،بلکہ انصاف اورناانصافی کی بنیادپر۔ایک طرف وہ طبقہ ہے جواقتدارکے طلسم میں مبتلا ہے، اور دوسری طرف وہ عوام جوبھوک،بے بسی، اور وعدہ خلافی کے بوجھ تلے کراہ رہے ہیں۔ان حالات میں جب مودی پاکستان کوجنگ کی دھمکیاں دیتاہے،تویہ دراصل اندرونی شکست کے پردے پر لٹکایا گیاجنگی پردہ ہے۔قومیں جب اپنے شہریوں کی آوازیں نہ سن سکیں،تووہ دشمن کی سرحدوں پرنعرے لگانے لگتی ہیں۔مگرلداخ کی برفانی ہوائیں دہلی کی گرم تقریروں سے متاثرنہیں ہوں گی۔یہ بغاوت کوئی آنی جانی طغیانی نہیںیہ فطرت کی طرف سے ایک پیغام ہے کہ جب زمین کواس کے لوگوں سے چھیناجائے،جب ثقافت کوبازارمیں بیچاجائے،جب وعدوں کو گولیوں میں بدل دیاجائے،تو برف بھی سیلاب بن جاتی ہے۔ لداخ اب بول اٹھاہے،جلد ہی ہندوستان کے دوسرے خطے بھی اپنی اپنی خاموشی توڑدیں گے۔ تاریخ کی مٹی اب پھرایک کہانی لکھے گی جس کا عنوان ہوگا ’’مودی اہندوستان۔۔۔جبرسے بغاوت تک‘‘۔

یہ بھی پڑھیں