علمی پس منظر اور خاندانی وراثت‘مولانا جلال الدین محمد رومی بلخ کے ایک علمی و روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد بہاء الدین ولد اپنے زمانے کے عظیم عالمِ دین، فقیہ اور عارفِ کامل تھے، جنہیں سلطان العلماء کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کے درس میں فقہا، صوفیا، علماء اور طلبہ یکجا بیٹھ کر علم و معرفت کے فیض سے بہرہ مند ہوتے تھے۔جب بہاء الدین ولد نے بلخ سے ہجرت کی تو ان کی شہرت سلجوقی سلطنت کے دربار تک پہنچی۔سلطان علائو الدین کیقباد سلطنت روم کے بادشاہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور قونیہ میں قیام کے لیے خاص انتظامات کیے۔
اسی روحانی و علمی ماحول میں رومی نے تربیت پائی، تقوی و زہد میں اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلے، اور کم عمری ہی میں علومِ دینیہ، فقہ، حدیث اور منطق میں غیر معمولی دسترس حاصل کی۔رومی بطور فقیہ، اور عالمِ دینرومی نے دمشق، حلب اور بغداد کے مشہور مدارس میں تعلیم حاصل کی۔وہ اپنے وقت کے جلیل القدر علما ء میں شمار کیے جاتے تھے۔قونیہ واپسی پر انہیں جامع مسجد کا خطیب اور مدرس مقرر کیا گیا،جہاں علماء و طلبہ ان کے درس میں شریک ہو کر روحانی و علمی فیض حاصل کرتے۔
وہ فقیہِ سلطنت روم کے طور پر نہایت احترام رکھتے تھے۔ان کے فیصلے عدالتوں میں سند سمجھے جاتے،اور ان کی تقوی، زہد، حلم اور سادگی سب کے لیے نمونہ تھی۔بادشاہ، وزرا، اور عوام سب انہیں نہ صرف عالم بلکہ ولیِ کامل مانتے تھے۔زبان و ادب رومی کی عالمی بصیرترومی ان چند صوفی مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے فارسی، عربی، ترکی اور یونانی زبانوں میں لکھا۔مگر ان کا سب سے عظیم کارنامہ مثنوی معنوی ہے جو فارسی ادب ہی نہیں بلکہ انسانی فکر و روحانیت کی تاریخ کا تاج ہے۔یہ چھ جلدوں پر مشتمل وہ کتاب ہے جسے صدیوں سے قرآن در زبانِ فارسی کہا جاتا ہے۔ان کے دیگر کلام، جیسے دیوانِ شمس تبریزی، فیہ ما فیہ، اور مکتوبات بھی قرآن، حدیث، فلسفہ، اور عشقِ الہی کے گہرے ربط کو ظاہر کرتے ہیں۔رومی نے شعر کو عبادت بنایا، الفاظ کو نور میں ڈھالا، اور دلوں کو ایمان سے روشن کیا۔ سلطنت روم میں عالم اور خطیب اعظم کا مقام پایا۔
شمس تبریزی سے ملاقات‘ علم سے عشق تک کا سفر۔ رومی کی زندگی کا رخ اس وقت بدل گیا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رجال الغیب میں سے ایک مردِ کامل، حضرت شمس الدین تبریزی کو ان کی طرف بھیجا۔یہ ملاقات ظاہراً اتفاقی تھی مگر حقیقت میں روحانی انقلاب کی ابتدا تھی۔شمس نے رومی کے دل کے اندر چھپے عشقِ الہی کے دریا کو بیدار کیا،اور علم کی خشک وادی میں محبت کے چشمے رواں کر دیے۔رومی، جو پہلے فتوی دینے والے عالم تھے،اب عشق و معرفت کے درویش بن گئے۔ان کے قلم سے وہ الفاظ نکلے جو عقل کو جھکاتے ہیں اور روح کو جگاتے ہیں۔اسی لمحے وہ مولانا رومی سے رومیِ عشق بن گئے۔
روحانی مکاشفات اور عرفانی انکشافات‘ شمس تبریزی کی صحبت نے رومی کے باطن میں انقلاب برپا کر دیا۔انہوں نے فرمایا:علم وہ ہے جو دل کو زندہ کرے، نہ کہ جو غرور و تکبر بڑھائے۔ان کی مثنوی، فیہ ما فیہ، اور دیوانِ شمس تبریزی دراصل ایک روحانی کائنات ہیں جہاں فقہ، فلسفہ، اخلاق، موسیقی اور عشق سب ایک نغمہ بن جاتے ہیں۔
عشق است، عشق است، عشق است، عشق است۔
تا قیامت در دلِ آدم رواست۔
رومی کے مرید، شاگرد، اور عالمی اثرات‘ اللہ نے ان کے فیض کو اتنا عام کیا کہ بڑے بڑے علما، مفکرین اور فلاسفرز ان کے مرید اور شاگرد بن گئے۔ان کے کلام نے غزالی کے فکر کو نئی روح دی،اور علامہ اقبال نے تو خود کو مریدِ رومی کہہ کر فخر محسوس کیا۔اقبال نے نہ صرف ان کے مزار پر حاضری دی بلکہ نظم مثنویِ رومی میں فرمایا:
اگرچہ زادِ رہم جز گناہ نیست، ولیکن از کرمِ او امیدِ راہ دارم۔
آج ساڑھے سات سو سال بعد بھی،رومی عرب و عجم، مسلم و غیر مسلم سب کے لیے روحانی استاد اور راہنما ہیں۔امریکہ سے آسٹریلیا، مراکش سے انڈونیشیا تک لاکھوں لوگ ان کے مزار پر حاضری دے کر محبت کا عہد کرتے ہیں۔ان کی کتابیں دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں،اور مختلف سکالرز نے امریکی ، برطانوی یورپی اور بے شمار یونیورسٹیوں سے ان کی کتابوں کے کئی کئی ترجمے کیے۔ دنیا کی سب سے زیادہ شائع اور فروخت ہونے والی کتابیں حضرت روم ی کی ہیں اور ان کا پیغام عشق و انسانیت آج بھی زندہ و جاوید ہے۔
نتیجہ رومی: علم، عشق اور عرفان الٰہی کا انسانی سنگم توحید رومی کی ذات میں فقہ کی گہرائی، فلسفہ کی وسعت،اور عشق کی روشنی جمع ہے۔ انہوں نے علم کو عشق سے جوڑا،عقل کو وحی کے تابع رکھا،اور دنیا کو یاد دلایا کہ ایمان اساس محبت ہے اور توحید امل بنیاد محبت خدا ہے۔ اقرار زبان سے اور تصدیق قلب سے۔ محبت و عشق ا مرز قلب ہے۔ جب علم دل سے جدا ہو جائے تو فتنہ بنتا ہے،اور جب عشق علم کے ساتھ ہو تو ہدایت بنتی ہے۔رومی نے ہمیں یہ سبق دیا کہ علم و ایمان اگر عشق سے روشن نہ ہو تو محض الفاظ کا شور ہے،اور عشق اگر علم سے جڑا نہ ہو تو بے سمت جذبہ۔ان دونوں کا ملاپ ہی رومی کی فکر میں کمال ایمان اور توحید ہے۔ اور یہ ہی انسان کا کمال ہے اور کامیابی ہے۔