Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

نہیں ہے ناامیداقبالؒ اپنی کشتِ ویراں سے

(گزشتہ سے پیوستہ)
اقبالؒ کی کشتِ ویراں سے ناامیدنہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے ایک خواب دیکھاایک آزادمملکت کاخواب، جہاں مسلمان اپنی تہذیب اورایمان کے مطابق زندگی گزارسکیں۔وہ خواب بعدمیں پاکستان کی صورت میں حقیقت بنا۔یہ سب اس لیے ممکن ہواکہ ایک شاعرنے اپنی قوم کومایوسی سے نکالااوربتایاکہ تمہاری مٹی زرخیزہے،بس تمہیں اپنی صلاحیت پہچاننی ہے۔ لیکن آج پھرحالات کچھ ویسے ہی ہیں۔سیاسی انتشار،معاشی بحران،بیرونی دبائو اوراندرونی کمزوریاں۔یوں لگتاہے جیسے ایک بار پھرہماری کشتِ ویراں ہوگئی ہولیکن اگراقبالؒ آج ہوتے تویہی کہتے: ’’نہیں ہے ناامیداقبالؒ اپنی کشتِ ویراں سے‘‘۔
یقیناپاکستان آج مسائل کاشکارہے،لیکن اگریہ قوم ایمان اورمحنت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوتوکوئی طاقت ہمیں جھکانہیں سکتی لیکن اگر ہم اقبالؒ کے پیغام کوسمجھ لیں توہمیں پھرسے یقین ہوگاکہ یہ سرزمین بڑی زرخیزہے۔دراصل کشتِ ویراں کی ایک بڑی وجہ علم سے دوری ہے۔ اندلس کازوال اس وقت شروع ہواجب مسلمان کتاب اورتحقیق چھوڑبیٹھے۔ اقبالؒ نے اسی لئے کہا:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیاکی امامت کا
آج پاکستان انتشار،سیاسی خلفشار،معاشی بحران اوربیرونی دبائوکاشکارہے۔عوام مایوسی کاشکارہو رہے ہیں،کچھ لوگ تویہ کہنے لگے ہیں کہ اس ملک کامستقبل نہیں ہے۔ایسے میں اقبالؒ کایہ شعرعوام کو یہ یقین دلاتاہے کہ یہ مٹی بنیادی طورپربنجرنہیں ہے۔یہ قوم اپنی اصل میں بڑی زرخیز اورباصلاحیت ہے۔صرف ذرانم کی ضرورت ہے یعنی ایمان،دیانت ، قربانی ،او رقومی وحدت کانم۔مایوس نہ ہوں،یہ ملک بحران سے نکل سکتاہے،بس ہمیں اپنی صفوں کودرست کرناہو گا، اپنے اندرسے خودغرضی ختم کرنی ہوگی اوراجتماعی طور پر آگے بڑھنے کاحوصلہ پیداکرناہوگایعنی عوام اگراپنی ذمہ داری پہچان لیں تووہ خوداپنی تقدیرلکھ سکتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ موجودہ مشکلات سے نکلنے کیلئے ہمیں کیاکرنے کی ضرورت ہے؟اس سوال کاصحیح اوربروقت جواب ہی ہماری اصل قوت ہے اوروہ ہے ایمان اورقرآن سے وابستگی اوراخلاص کے ساتھ جڑنا،علم وتحقیق میں آگے بڑھنا۔نوجوانوں کو مقصد اورشعوردینااپنے وسائل پراعتمادکرنااوراتحاد ویکجہتی کا دامن مضبوطی سے پکڑنا،اتحادواتفاق پیداکرنا، محنت اورقربانی کے جذبے کوبیدارکرناکیونکہ یہی خواص ہی ہماری نوجوان نسل کامستقبل ہیں۔تفرقہ ہمیشہ شکست لاتاہے۔اورباغ محنت کے بغیرنہیں اگتا۔ ہی وہ ذرا نم ہے جو اس مٹی کو گلزار بنا سکتی ہے۔
اقبالؒ کاپیغام آج بھی زندہ ہے۔وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اگرخودی کوبیدارکرلوتوتقدیربھی تمہارے قدم چومے گی۔لہٰذامایوسی کے اندھیروں میں نہ ڈوبو۔ مایوسی کفرہے۔یہ قوم زندہ ہے،یہ زمین زرخیز ہے، یہ مٹی معجزے پیداکرسکتی ہے۔بس ہمیں اپنے اندرکانم تلاش کرناہے۔اللہ کرے کہ ہم اس پیغام پرعمل کریں،اپنی قوم کوسنواریں،اوردنیاکودکھادیں کہ مسلمان کبھی مایوس نہیں ہوتا۔اقبالؒ کا عملی پیغام یہ ہے کہ ایمان کے نم سے دلوں کوترکرو۔علم کے نم سے ذہنوں کوبیدارکرو۔قربانی کے نم سے قوم کواٹھا۔اتحادکے نم سے سرزمین کو گلزاربنادو۔اگرہم پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات اورمسلم دنیاکے اتحادکے تناظرمیں دیکھیں،تویہ ایک جامع اور انقلابی پیغام بن جاتاہے۔
اقبالؒ کاپیغام یہ ہے کہ ویرانی مستقل نہیں ہوتی۔زمین ویران ہوسکتی ہے لیکن زمین کی زرخیزی ختم نہیں ہوتی۔اسی طرح امت بظاہرکمزورہوسکتی ہے، مگراس کی صلاحیت،ایمان اورتاریخ اسے دوبارہ زندہ کرسکتی ہے۔اسی لئے اقبالؒ ہمیں یاددلاتے ہیں: ’’ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی‘‘۔
اقبالؒ کاوژن صرف برصغیر یاپاکستان تک محدودنہ تھا۔وہ امتِ مسلمہ کے اتحادکے قائل تھے۔جب وہ کشتِ ویراں کی بات کرتے ہیں توان کی نظرصرف ایک قوم پرنہیں بلکہ پوری مسلم دنیاپرتھی،جواستعماری طاقتوں کے ہاتھوں تقسیم ہوچکی تھی۔یہ سب اقبالؒ کی نظرمیں کشتِ ویراں تھے لیکن وہ ناامید نہیں تھے،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگرمسلمان اپنی جڑوں کو پہچان لیں، اپنے ایمان، علم اوراتحادکے ذریعے اٹھ کھڑے ہوں تویہ امت دوبارہ عروج حاصل کرسکتی ہے۔
اقبالؒ کاپاکستان اورعالمِ اسلام دونوں کے لئے آج بھی پیغام ہے۔پاکستانی عوام کے لئے کہ مایوسی کو چھوڑ کراپنی اجتماعی قوت پریقین کریں۔ سیاسی انتشار عارضی ہے،لیکن اگرعوام میں بیداری آگئی تویہ ملک دوبارہ ترقی کرسکتاہے۔اورعالمِ اسلام کے لئے‘ مسلمان ممالک اگرتفرقے،لسانیت اورقوم پرستی چھوڑکرایک امت کی طرح سوچیں تودنیاکی کوئی طاقت ان کے وسائل،ان کی سرزمین اوران کے مستقبل کوبربادنہیں کرسکتی۔ اقبالؒ کے نزدیک یہ شعرایک یقین اورامید کا منشورہے۔وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہماری مشکلات عارضی ہیں، ہماری زمین اورہماری امت زرخیزہے، صرف اتحاد،ایمان اورعمل کانم چاہیے۔اقبالؒ کایہ شعرصرف ایک شاعرکی پکارنہیں،یہ ہماری تقدیرکاآئینہ ہے۔یہ یاددہانی ہے کہ یہ سرزمین کبھی بنجرنہیں ہوسکتی،یہ قوم کبھی مردہ نہیں ہوسکتی۔ اس مٹی کو بس نم چاہیے،ایمان، اتحاد، قربانی اورعلم کانم۔ اگرآج ہم نے یہ نم پیداکرلیاتویہی پاکستان روشنی کامیناربنے گااور یہی امر دوبارہ سربلند ہوگی۔ورنہ تاریخ وہی فیصلہ سنائے گی جوقوموں کیلئے لکھا گیاہے:اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا،جس کوخوداپنی حالت بدلنے کاخیال نہ ہو۔
آئیے!عزم کریں کہ ہم اقبالؒ کی ناامیدی کوامیدمیں بدلیں گے،ویرانی کوگلزاربنائیں گے،اور دنیاکودکھادیں گے کہ یہ قوم زندہ ہے،جاگ رہی ہے،اوراٹھنے کوتیارہے۔ تاریخ میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جوخواب دیکھتی ہیں اورپھران خوابوں کوحقیقت بنانے کیلئے لڑتی ہیں۔اقبالؒ نے ہمارے ہی بارے میں کہاتھاکہ ہمارے بازومیں وہ طاقت ہے جس سے تقدیریں بدلتی ہیں،تمہارے قدم میں وہ جرأت ہے جس سے زمانے کے نقشے پلٹ جاتے ہیں۔آج یہ سرزمین،یہ پاکستان،تمہیں پکاررہا ہے۔مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبے لوگ شایدتھک گئے ہوں،لیکن اقبالؒ کاشاہین کبھی نہیں تھکتا،وہ آج بھی اعلان کررہاہے’’نہیں ہے ناامید اقبالؒ اپنی کشتِ ویراں سے‘‘۔
سیاسی انتشار،کرپشن،معاشی غلامی،اورعالمی سازشوں کی زنجیریں۔آج یہ کشتِ ویراں ہمارے سامنے ہے لیکن یہ مٹی بنجرنہیں ہے۔یہی زمین ہے جس نے بدرواحدکے جانباز پیدا کیے،یہی قوم ہے جس نے کشمیراورکارگل کے محاذپرقربانیاں دیں۔بس اس مٹی کو ہمارے خون کانم چاہیے،ہماری غیرت کا،ہمارے علم کا،ہماری یکجہتی کانم۔جب یہ نم آجائے گاتویہ کھیت سنسان نہیں رہیں گے بلکہ سرسبز انقلاب اگے گا۔اقبالؒ کا خواب صرف پاکستان تک محدود نہیں تھا۔انہوں نے کہاتھا:نوجوانوں!تم صرف پاکستان کے محافظ نہیں،تم پوری امت کے سپاہی ہو۔تمہاراعزم،تمہارااتحاد،صرف اس وطن کونہیں بلکہ پوری دنیاکے مسلمانوں کوزندہ کرے گا۔
نوجوانو!یہ وقت آرام کانہیں،یہ وقت انقلاب کاہے۔مایوسی کودل سے نکال دو،غلامی کی زنجیروں کوتوڑدو،اوراپنے سینوں میں امید کادیاجلادو۔یہی مٹی دوبارہ گلزاربنے گی،یہی سرزمین ایک نئی تاریخ لکھے گی اوروہ تاریخ تمہارے قدموں سے لکھی جائے گی۔
اٹھو!آگے بڑھوکیونکہ اقبالؒ آج بھی تمہیں آواز دے رہاہے :
نہیں ہے ناامید اقبالؒ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

یہ بھی پڑھیں