صنعتی دور‘ مادی دنیا پر قدرت۔ ہر دور اللہ کے حکم سے ظاہر ہوتا ہے ہر زمانہ خدائی منصوبے کا ایک مرحلہ ہے۔صنعتی انقلاب وہ دور تھا جب انسان نے مادہ پر اختیار حاصل کیا۔
آگ، لوہے اور مشینوں کا زمانہ۔انسان نے سمندروں کو چیر ڈالا، فضا کو تسخیر کیا،اور زمین کے وسائل کو قابو میں لے لیا۔لیکن یہ دور بھی ہمیشہ کے لیے نہ تھا یہ صرف ایک باب تھا، انسانی بیداری کی داستان میں ایک قدم۔
ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کا دور‘ معلومات پر قدرت کا دور پھر آیا ڈیجیٹل انقلاب، جو تیزی سے بڑھ کر مصنوعی ذہانت (AI) کے عہد میں داخل ہو گیا۔جو ہمارے سامنے برق رفتاری سے بپا ہو رہا ہے۔ یہ محض ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ انسانی ذہن کی توسیع ہے ایک آئینہ، جو انسان کے اندر کی روشنی اور تاریکی دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔
مصنوعی ذہانت خیر اور شر دونوں پہلو سے استعمال ہو سکتی ہے۔یہ تعمیر بھی کر سکتی ہے اور تباہی بھی۔یہ ایک عارضی دور ہے ایک آزمائش کا مرحلہ،جو ہمیں اگلے عظیم روحانی دور کی طرف لے جا رہا ہے۔یہ دور رفتار میں عقل سے آگے ہے،مگر روح کے بغیر علم اندھا ہو جاتا ہے اور شعور اپنی اصل حقیقت کھو دیتا ہے۔
فریب کا دور جھوٹے اقتدار کا عروج ‘ قرآن و حدیث کے مطابق دجال سب سے بڑا فریبی اور فتنہ علم، سائنس، اور مصنوعی ذہانت کو فریب و گمراہی کے لیے استعمال کرے گا۔وہ لوگوں کو جھوٹی خدائی دکھائے گا،حقیقت کو دھندلا کر باطل کو سچ بنا دکھائے گا۔مگر اس کا اقتدار مختصر ہوگا۔اللہ کے حکم سے حضرت عیسیؑ بن مریم دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے حق و نور کے ساتھ، اللہ کے محبوب بندے کے طور پر۔جس طرح حضرت موسیؑ نے ایک ضرب سے فرعون کو گرایا،اسی طرح حضرت عیسیؑ بن مریم ایک وار سے دجال کو ختم کر دیں گے باطل کی ساری طاقت مٹ جائے گی۔
خدائی روحانی انقلاب آخری دورِ امن و محبت اس کے بعد شروع ہوگا آخری روحانی انقلاب ایک ایسا زمانہ جو مشینوں کی روشنی سے نہیں بلکہ اللہ کی حضوری سے منور ہوگا۔یہ ہوگا اللہ کی بادشاہت کا دور،حضرت عیسیؑ بن مریم کے زیرِ قیادت ایک زمین پر جو عدل، امن، اور محبت سے بھر جائے گی۔یہ ہوگا معجزات کا دور جب حضرت سلیمانؑ کی حکمت واپس آئے گی،اور آسمانی رزق من و سلوی دوبارہ نازل ہوگا۔دلوں میں نفرت نہیں رہے گی،زمین اپنی برکتیں لوٹا دے گی،اور انسانیت محبت و ایمان کی روشنی میں جیے گی۔علم ایمان سے جڑ جائے گا،اور ٹیکنالوجی روح کی خدمت میں لگ جائے گی۔
ابدی زندگی وقت سے ماورا بادشاہی ‘ جب یہ خدائی دور اپنی تکمیل کو پہنچے گا،تو دنیا کا موجودہ نظام ختم کر دیا جائے گا۔پھر شروع ہوگی ہمیشہ کی زندگی جہاں نہ موت ہوگی، نہ بیماری، نہ غم، نہ بڑھاپا۔صرف اللہ تعالیٰ کی حضوری میں ابدی مسرت، نور اور محبت ہوگی۔تمام اولادِ آدم و حوا جو ایمان و نیکی پر قائم رہے،وہ اس ابدی بادشاہت کو دیکھیں گے اور خوش ہوں گے۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر لمحہ جاودانی ہوگا،اور ہر روح ابدی سکون میں زندہ رہے گی۔صنعتی سے مصنوعی،اور مصنوعی سے روحانی یہ ہے انسانی تاریخ کا خدائی سفر۔ہر انقلاب دراصل ایک وحی کی تمہید ہے،اور ہر دور اللہ کی حکمت کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے،اور سب کو آخرکار اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ سورۃ النور (42:24)