آج ہم ایک ایسے دورِآزمائش میں کھڑے ہیں جس کاوزن تاریخ کے ترازوپرتولنے سے ہلکانہیں ہوتا۔تاریخ کے اوراق پربعض زخم ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جووقت کی گردسے مٹتے نہیں بلکہ ہرصدی کے ساتھ اورنمایاں ہوجاتے ہیں۔ فلسطین کاقضیہ بھی انہی میں سے ایک ہے وہی ارضِ مقدس جہاں انبیائے کرام کے قدموں کی برکتیں ہیں،جہاں قبل اول کی تقدیس ہے، اور جہاں آج بھی ظلم کی تیزدھارمعصوم بچوں کے لہو کو بہارہی ہے۔بیت المقدس کی فضائوں میں اذان کی صداگونجتی ہے،مگرتوپ وتفنگ کے شورنے اسے دبانے کی کوشش کی ہے۔فلسطین کی ویرانی صرف ایک جغرافیائی خلائوں کانام نہیں،وہ ہمارے ایمان کی تابانی ہے،ہماری تاریخ کا نحیف ساچراغ ہے اورہماری امت کی آنکھوں میں بہہ جانے والاایک پاکیزہ خون ہے۔بیت المقدس کی دھول میں ہمارے انبیائے کرام کے نقشِ قدم جڑے ہیں، اوراسی دھرتی پرہراذان میں تاریخ نے اپنانام لکھ رکھاہے۔
پاکستان کی تاریخ بھی دراصل اسی شعورکی آئینہ دارہے۔قائداعظم کے الفاظ آج بھی ہمارے لیے چراغِ راہ ہیں کہ’’جب تک فلسطینیوں کوان کاحق نہیں ملتا،ہم تسلیم کرنے کاجرم برداشت نہیں کریں گے‘‘۔یہ الفاظ محض ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے درد کی ترجمانی ہیں۔یہ الفاظ محض بیانِ موقع نہیں،بلکہ ایک سیاسی وایمانی ضابط حیات ہیںایک عہدِ ضمیر جو ہمارے بزرگوں نے برقراررکھا۔آج اگرہم امن کی آغوش میں قدم رکھناچاہتے ہیں توپہلے انصاف کی بنیادرکھنی ہوگی؛انصاف کے بغیر امن، پتھروں پر کھڑی ایک عمارت ہے جوہلتے ہی گِر جائے گی۔
دنیاکی سیاسی بساط پربعض قدروقضاکے ایسے فیصلے ہوتے ہیں جووقت کے ساتھ مٹتے نہیں بلکہ مزیدگہرے ہوجاتے ہیں۔فلسطین کا مسئلہ انہی قضایامیں سے ہے۔سات دہائیوں سے زائدعرصہ گزرگیامگرخونِ ناحق کی بارشیں اوربمباری کی کڑک ابھی تک جاری ہے۔اس پس منظرمیں جب امریکی صدرٹرمپ نے20نکاتی امن منصوبہ پیش کیاتودنیانے اسے حیرت وتذبذب کے ساتھ دیکھا۔پاکستان نے اس منصوبے کاخیرمقدم کیا مگرساتھ ہی اپنے تاریخی موقف یعنی ’’دوریاستی حل‘‘کوہی خطے کے امن کی بنیادقراردیا۔یہ خیر مقدمی کلمات محض سفارتی آداب نہیں تھے،بلکہ ایک پیچیدہ سیاسی کھیل کی جھلک بھی تھے۔
آج عالمی طاقتیں امن کے نام پرنقشے اورنئے منصوبے لے کر آئیں ہیں جس کی لکیریں شہداکے خون،ماں کی اجڑی کوکھ اورجوان بیٹوں کی لاشوں کے اوپرکھینچی گئی ہیں،توسوال یہ ہے کہ کیایہ منصوبے واقعی انصاف کی بنیادپرہیں یا پھرکمزورقوموں کی قربانی پرکھڑے کیے گئے ہیں؟ کیاان نقوش میں مظلوم کاچہرہ دکھائی دیتا ہے؟ یاپھریہ وہی تختِ دوش ہے جس پر کمزور قومیں بیٹھ کراپنی آزادی گنوابیٹھی ہیں؟ہمیں اپنے اصولوں کویادرکھناہوگا،اپنی عوام کی آوازسننی ہوگی، اوراپنی تاریخ کااحتساب کرناہوگا۔ ہم امن کے دشمن نہیں؛ہم انصاف کے غلام ہیں۔ اور جب انصاف ہوگاتوامن خودبہ خودجنم لے گاورنہ خیرمقدمی بیانات تارِامیدکوکاٹ دیں گے۔
ٹرمپ نے نیتن یاہوکے ہمراہ منصوبے کا اعلان کیا۔مشترکہ پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا منصوبہ دراصل امریکی قیادت کے اس موقف کی جھلک ہے کہ خطے کاامن صرف اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کوکسی ’’فارمولے‘‘کے ذریعے حل کرنے سے ممکن ہے۔ مگرواشنگٹن کی پالیسی میں اسرائیلی مفادات کاجھکائوکھل کرسامنے آتاہے،جواس منصوبے کی غیر جانبداری پرسوالیہ نشان کھڑاکرتا ہے۔بظاہراس منصوبے کا مقصد غزہ میں فوری جنگ بندی اورمشرقِ وسطی میں امن کا قیام تھا۔پاکستان نے ایک امکانی امن کی پیش رفت اوراسے ایک امید کی کرن سمجھتے ہوئے خیرمقدم کیااوراس اعتراف میں دوریاستی حل کو خطے میں دیرپاامن کے حصول کی لازمی شرط قرار دیا گیاہے۔یہ خیرمقدمی جذب رسمی نہیں بلکہ مفہومی اعترافِ امکان ہے مگرناقدین کے نزدیک اسی کے ساتھ عوامی ونظریاتی تحفظات کاشوربھی بلند ہوا ہے۔ وزیرِاعظم شہبازشریف اورفوجی قیادت نے اس کی حمایت میں بیانات بھی دیے،جبکہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈارنے اعلان کیاکہ اسلامی ممالک مشترکہ امن فورس تشکیل دیں گے۔اس اعلان نے ایک طرف امن کی امیدجگائی مگردوسری طرف یہ سوال بھی پیدا ہواکہ آیاپاکستان اپنے تاریخی موقف سے پیچھے ہٹ رہاہے یانہیں۔
ٹرمپ نے خاص طورپرشہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرکاذکرکرتے ہوئے کہاکہ وہ ابتداسے ہی اس منصوبے کی حمایت میں ہیں؛اس سلسلے میں شہبازشریف کا’’ایکس ‘‘ پر پیغام بھی منظرِعام پرآچکاہے۔یہ بیان پاکستان کوامریکی پالیسی کے قریب دکھانے کی ایک حکمت ہوسکتا ہے۔ اسحاق ڈارنے بھی اسلام آبادمیں اعلان کیا ہے کہ آٹھ اسلامی ممالک مجوزہ منصوبے کے تحت ایک امن فورس تعینات کریں گے اورپاکستان بھی اس ضمن میں باضابطہ فیصلہ کرے گاایک ایسا اعلان جوسرِعام غوروخوض اورعوامی بحث کا موجب بن گیاہے۔یہ نقطہ نہ صرف سفارتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ پاکستان کیلئے عملی ذمہ داری کابوجھ بھی بڑھاتاہے۔
پاکستان کیلئے مسئلہ فلسطین محض ایک سفارتی قضیہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی معاملہ ہے۔قیامِ پاکستان کے آغازسے ہی قائداعظم کامشہوراعلان کہ جب تک فلسطینی حقوق بحال نہیں ہوتے ، پاکستان اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گاآج بھی پاکستانی پالیسی کافکری ضامن ہے۔یہ نہ محض تاریخی حوالہ ہے بلکہ عوامی جذبات کاآئینہ بھی ہے، جوکسی بھی حکومتی فیصلے میں قابلِ عمل میعارکے طور پرسامنے آتاہے۔
قائداعظم کایہ واضح مؤقف آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اساس ہے۔ دفتر ِخارجہ کے بیانات ہمیشہ اسی تسلسل کودہراتے ہیںکہ فلسطین کی ایک آزاداورخودمختارریاست،جس کی بنیاد1967ء سے قبل کی سرحدوں پرہو،اورجس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔یہ موقف محض الفاظ نہیں بلکہ پاکستان کی اسلامی شناخت اورعوامی جذبات کاعکاس ہے۔
دوسالہ بمباری کے بعدامن کی کوئی بھی کرن غزہ کے عوام کیلئے امیدہے،لیکن جب پاکستان نے ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت کی تو عوامی سطح پریہ سوال گونج رہاہے کہ کہیں یہ خیر مقدم ’’اصولی مؤقف‘‘سے انحراف تو نہیں؟ کیا پاکستان نے فلسطین کے بارے میں اپنے روایتی اور تاریخی اصولی مؤقف میں تبدیلی اختیارکرلی ہے؟ اس خوف کے پیچھے عوامی جذبات کادباؤاورماضی کی مستقل پالیسی کاتسلسل ہے۔یہ تضادسیاست اور عوامی رائے کے بیچ خلیج کونمایاں کرتاہے۔
عوامی جذبات کی شدت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ سوشل میڈیاپرسوال گونجنے لگاکہ وزیرِاعظم نے عوام کواعتمادمیں لیے بغیریہ فیصلہ کیسے کیا؟مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیہ کو بھی ’’سرینڈر‘‘ قراردیاجاسکتاہے کیونکہ اس میں مشرقی یروشلم اور فلسطینی ریاست کاذکرتک نہیں۔ سوال یہ کہ آیا خیرمقدم کرناہی تسلیمِ باطنی ہے یامحض تعمیری مذاکراتی اقدام ؟ یہ تشویش عوامی جذبات اورخارجہ پالیسی کے مابین اک دائمی تنازع کی مانند دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی’’حق خودارادیت‘‘ کی تحریک کوجائزقراردیاہے۔یہ مؤقف نہ صرف اخلاقی ہے بلکہ نظریاتی بنیادپربھی قائم ہے اوراس مسئلے کی اہمیت پاکستان کے ماضیِ کی خارجہ پالیسی کے تاریخی سوتوں میں ہے۔ ریاستِ پاکستان نے بارہا اعلان کیا کہ وہ1967 سے قبل کی سرحدوں پرمبنی ایک خودمختارومتصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے،جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔ یہ مؤقف قائداعظم کے صریحِ کلام کے مترادف بھی سمجھا جاتا رہاہے جب تک فلسطینیوں کے حقوق مکمل طور پرتسلیم نہ ہوں،اسرائیل کوقبول نہیں کیاجائے گا۔ اس مؤقف کی جڑیں قراردادِلاہورکے اسلامی شعوراور جناح کے بیانات میں ملتی ہیں۔جون1967ء میں اسرائیل نے مصر، اردن اورشام کے ساتھ چھ روزہ جنگ میں غزہ، مغربی کنارہ،مشرقی یروشلم اورگولان کی پہاڑیاں اپنے قبضے میں لے لیں۔اس جنگ کے بعد اسرائیل کی حدودتین گنابڑھ گئیں۔مغربی کنارہ اورغزہ وہ علاقے ہیں جوآج تک تنازعے کی جڑبنے ہوئے ہیں۔اقوامِ متحدہ اورعالمی برادری نے اسرائیل کے ان علاقوں پرقبضے کوقانونی حیثیت نہیں دی، مگر امریکا کے حالیہ فیصلوں(یروشلم کودارالحکومت ماننا، گولان کی پہاڑیوں کواسرائیل کاحصہ تسلیم کرنا) نے مسئلے کومزید پیچیدہ کردیا۔پاکستان امریکی کردار کوہمیشہ ’’یکطرفہ، غیرمنصفانہ اور بین الاقوامی قانون کے منافی‘‘ قراردیتارہاہے۔
پاکستان نے اب تک اسرائیل کوتسلیم نہیں کیا اورباربارواضح کررہاہے کہ امن کی حمایت اوراسرائیل کوتسلیم کرنادوالگ معاملات ہیں۔ یہ اصولی فیصلہ پاکستان کے عوامی،مذہبی اور نظریاتی جذبات کی عکاسی کرتاہے۔جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اورانسانی امداد کی فراہمی وقتی اقدامات ہیں،مگر اسرائیل کوتسلیم کرناایک بنیادی پالیسی تبدیلی ہوگی اورپاکستان ایسی تبدیلی پرآمادہ نہیں۔تسلیمیت کامطلب محض سفارتی تعلق نہیں بلکہ اخلاقی وسیاسی اعتراف بھی ہے۔جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی،یہ تسلیم ایک’’سیاسی خودکشی‘‘ کے مترادف ہے۔جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اورانسانی امداد کی فراہمی وقتی اقدامات ہیں،مگراسرائیل کوتسلیم کرناایک بنیادی پالیسی تبدیلی ہوگی اورپاکستان ایسی تبدیلی پرآمادہ نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وزیرِخارجہ نے کہا ’’پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے اوراس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی‘‘۔ یہ بیان دراصل عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوشش تھی۔پاکستان کی روایتاً پالیسی یہ رہی ہے کہ فلسطین کے منصفانہ حل تک اسرائیل کوتسلیم نہیں کیاجائے گامگردوریاستی اصول کے تحت’’فلسطینی ریاست کے تسلیم‘‘ کا مطلب یہ بھی بنتاہے کہ دیرِبعداسرائیل کو بالواسطہ طور پرقبولیت نصیب ہوسکتی ہے یہاں فرقِ مفہوم وفرقِ ئطریقہ واردہوتاہے کیاپاکستان کا طلب اسرائیل کی بذاتِ خودتسلیم ہے یافلسطینی ریاست کے تسلیم کے بعدایک بالواسطہ تعلق قائم ہوسکتا ہے؟
یہ سوال ہرپاکستانی کے ذہن میں ہے۔ 20نکاتی منصوبے میں فلسطین کی آزادریاست کا ذکرہے لیکن اسرائیل کی حیثیت کے بارے میں خاموشی یاابہام ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کیلئے یہ ایک نازک توازن ہے کہ وہ امن کاخیرمقدم کرے مگراسرائیل کی ’’براہ راست تسلیمیت‘‘کی طرف نہ بڑھے۔پاکستان میں فلسطین کامسئلہ مذہبی وجذباتی حیثیت رکھتا ہے۔عوام اسے محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایمان اورضمیرکامسئلہ سمجھتے ہیں۔ مذہبی جماعتیں کھل کراسرائیل کوناجائزقراردیتی ہیں اوربعض تودوریاستی حل کی بھی مخالفت کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں کسی بڑے فیصلے سے پہلے ہچکچاہٹ کاشکاررہتی ہیں۔یہ سوال نہایت سنگین اورمعروضی ہے۔ 20نکاتی منصوبے میں کہیں واضح طورپربغیرکسی الحاق کے فلسطینی ریاست کی تشکیل کا ہے؛اس طرح کابیان بذاتِ خودتنازع کوکم کرنے کی نیت رکھتاہے مگرپاکستان کے مدارِعمل میں عوامی ونظریاتی تقاضے،مذہبی جماعتوں کی حساسیت، اور بین الاقوامی حقوقِ قلبی کی پاسداری شامل ہے اس لیے صرف پلان کی منظوری کوتسلیمِ رسمی سمجھ لیناقبل ازوقت ہوگا۔پاکستانی دفترِخارجہ کی سرکاری سائٹ پر موجودمؤقف کہ پاکستان ایک خودمختارفلسطینی ریاست کے قیام جس کادارالحکومت القدس ہوگا اس امرکی تائیدکرتاہے کہ سرکاری پالیسی میں تاحال اصلِ مؤقف برقرارہے‘مگرعملی مذاکرات میں بیاناتِ خیرمقدم اور عملی شرائط دوالگ جہتیں ہیں۔ یہ مؤقف سفارتی زبان میں’’ریاستی وعدہ‘‘ ہے۔ چنانچہ ہرحکومت،خواہ کسی بھی جماعت کی ہو، اسی تسلسل کودہراتی رہی ہے۔پاکستان واضح کر رہاہے کہ امن کی حمایت اوراسرائیل کی تسلیمیت دومختلف باتیں ہیں۔ابھی اصل ہدف غزہ میں جنگ بندی اورانسانی ہمدردی کی بحالی ہے۔
امریکی منصوبے کے تحت حماس کو کہا گیا کہ وہ72گھنٹوں میں یرغمالیوں کو رہا کرے، بدلے میں اسرائیل کارروائیاں روک دے گا۔یہ تجویزوقتی سکون تولاسکتی ہے مگرمستقل امن کی ضمانت نہیں دیتی۔ناقدین کے مطابق اس منصوبے کااصل مقصدحماس پردبائو ڈالنا ہے تاکہ اسرائیل کو سیاسی برتری ملے۔جب اسلام آبادمیں اسحاق ڈارسے سوال کیاگیاکہ کیا پاکستان نے اسرائیل کوتسلیم کرلیاہے یانہیں، توان کاجواب یہ تھاکہ پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے اوراِس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔اس بیان سے ایک سیاسی تسلسل کی تصویر بنتی ہے کہ مذاکراتی باب کھلا رکھنا بھی حکمتِ عملی کی لچک کاحصہ ہے۔سیاست میں ایسے بیانات اکثر’’ڈیمج کنٹرول‘‘کے طور پر دیے جاتے ہیں۔
پاکستان کیلئے اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح’’امن کی حمایت‘‘اور’’اصولی مؤقف‘‘ کے درمیان توازن قائم کرے۔اگروہ منصوبے کی حمایت کرتاہے تواسرائیل کی تسلیمیت کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔اگروہ مخالفت کرتاہے توعالمی سطح پر تنہا پڑسکتا ہے۔اسی لئے پاکستان کاموجودہ مؤقف یہی ہے کہ فلسطینی ریاست کاقیام لازمی ہے، سرحدیں 1967ء سے پہلے والی ہوں،اورالقدس دارالحکومت ہو۔یہ مؤقف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اورمسلم دنیاکے تاریخی مطالبات سے ہم آہنگ ہے۔
پاکستان کا ماننا یہ ہے کہ یہ تاریخ وجغرافیہ کاایک واضح نقطِ حوالہ ہے۔اسی حوالہ سے بین الاقوامی قانون اوراقوامِ متحدہ کی قراردادیں بھی جڑی ہیں،اورپاکستان اس نقطِ نظرکو اقوامِ متحدہ واسلامی تعاون تنظیم کی قراردادوں کے مطابق حلِ تنازعہ کیلئے بنیادسمجھتاہے۔پاکستان میں عوامی سطح پریہ خوف پیدا ہوا کہ حکومت عالمی دباؤمیں آکراسرائیل کوتسلیم کرلے گی۔سیاسی جماعتیں اس معاملے پر ابہام کا شکار ہیں کیونکہ عوامی جذبات مذہبی بنیادوں پر سخت اورواضح ہیں۔پاکستان میں فلسطین کامسئلہ مذہبی حساسیت سے جڑاہے۔ عوام اسے محض ’’خارجہ پالیسی‘‘نہیں بلکہ’’ایمان کاحصہ‘‘سمجھتے ہیں۔اسی لئے حکومتیں اس معاملے پردوٹوک فیصلے سے گریز کرتی ہیں۔تاہم اسرائیل پرپاکستان کی پالیسی’’ ناقابلِ تبدیلی‘‘ہے۔اس کوکشمیراورایٹمی پروگرام کی طرح ایک ’’ریڈلائن‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ممکن ہے کہ یہ منصوبہ دراصل حماس کو دبائو میں لانے کی چال ہو۔یرغمالیوں کی رہائی کے بعداسرائیل اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے۔ اس سے منصوبے کی نیت پرسوال اٹھتاہے۔ بعض ماہرین نے اسے’’مسلم دنیاکی کمزوری‘‘ کہا ہے۔ اگراس میں القدس یافلسطینی ریاست کاذکرنہیں تو یہ فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی ریاست اور مشرقی یروشلم کاذکرنہ ہونا’’سرینڈر‘‘ہے۔یہ تنقید پاکستان کی عوامی تشویش کوبڑھارہی ہے۔ خدشہ ہے کہ منصوبہ عرب ومسلم ممالک کی جانب سے حماس پر دباؤڈالنے اور یرغمالیوں کی رہائی کے بعدفلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی عسکری کارروائیوں کی راہ ہموار کرسکتا ہے؛ اس لیے امن کے نام پرصرف وقتی توقف کوحقیقی امن کے مترادف نہ سمجھاجائے حقیقی امن تبھی ممکن ہے جب انصاف اورخودارادیت کے تقاضے پورے ہوں۔پاکستان کی طرف سے منصوبے کی حامی خبروں کے بعدچندواضح اثرات ابھرے(1)عوامی سطح پرجذباتی ردِ عمل اورمذہبی جماعتوں کی تنگ نظری،(2)سیاسی جماعتوں میں ابہام، (3)سوشل میڈیاپرشدیدتنقیداور(4)بعض سفارتی حلقوں کی تشویش کہ یہ قدم تاریخی مؤقف میں موڑثابت ہوسکتا ہے۔یہ سب ایک خیالِ عام کے گرد گھومتے ہیں کہ سیاسی فیصلے عوامی اعتمادکے بغیر اختیار کرنانقصان دہ ہوگا۔تاہم مشترکہ مسلم بیانیہ’’سرینڈر‘‘کے مترادف ہے،اگراس اعلان میں مشرقی یروشلم اور فلسطینی ریاست کاواضح ذکرنہیں تویہ مفاہمت نامہ کمزور ہے۔منصوبہ دراصل حماس پردباؤ ڈال کر یرغمالیوں کی رہائی لینے کی چال ہے،اوراس کے بعد اسرائیل کی عسکری کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔ مسلم دنیامیں یگانگت کے نام پرکئے گئے بیانات بھی بعض اوقات داخلی دباومفادات کی تابعداری میں کمزور پڑ سکتے ہیں۔بظاہریہ منصوبہ ’’خطرناک‘‘ اور ’’مکارانہ‘‘ قراردیاجاسکتاہے۔ پاکستان میں مسئلہ فلسطین ایک جذباتی قضیہ ہے،بعض مذہبی جماعتیں نہ صرف اسرائیل کی قانونی حیثیت تسلیم نہیں کرتیں بلکہ دو ریاستی حل کی حمایت بھی نہیں کرتیں؛ایسے میں سیاسی جماعتیں عوامی مزاج کے مطابق متذبذب رہتی ہیں۔ سوال یہ کہ حکومت کس طرح عوام کااعتماد بحال کرے گی،اورکیاوہ اس فیصلے کوقومی سطح پر پیش کرکے اکثریتی حمایت حاصل کر پائے گی؟یہ واضح رہے کہ امن کی کوششیں (جنگ بندی،یرغمالیوں کی رہائی،ہنگامی انسانی امداد) اورکسی ریاست کی تسلیمیت دومختلف ادوار وامور ہیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اسرائیل کوتسلیم کرناا ورفلسطین میں قیامِ امن دوالگ شے ہیں؛اس لمحے مسئلہ غزہ میں جنگ بندی کواولین ترجیح ہے مگرطویل المدت پالیسی مؤقف پرعوامی اتفاق ناگزیرہوگا۔ اسرائیل کے معاملے میں پاکستان کی پالیسی ’’کوئی حکومت یاوزیراعظم تبدیل نہیں کرسکتا‘‘۔ یہ دعوی ملک کے آئینِ خارجی اورقومی جذبات کاعکاس ہے،اسے قابل قبول بنانے کیلئے اخلاقی طاقت اوردلیل،عوامی جوازاوربین الاقوامی توازن کی ضرورت ہوگی۔پاکستان دوریاستی حل کوفلسطین کے حق میں دیکھتاہے،اسرائیل کی براہِ راست حمایت کے طور پر نہیں۔اس فرق کوعوامی سطح پرواضح کرنا ضروری ہے تاکہ ابہام نہ پھیلے مگر اس کامطلب ہرگزنہیں کہ پاکستان بلاواسطہ اسرائیل کوفوراً تسلیم کرلے گا۔دوریاستی حل دراصل فلسطینی حقِ خود ارادیت کی ضمانت اور انتقامی تسلط کے خاتمے کی جانب قدم ہے یہ مقصد طویل مگراخلاقی بنیادپرواجب ہے۔پاکستان میں عوامی رائے فلسطین کے حق میں بہت دوٹوک اورواضح ہے؛سیاسی ومذہبی جماعتوں کی تقاریرنے اس امرکومزید تقویت دی ہے کہ پاکستانی عوام کسی ایسے امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے جس میں اسرائیلی لیڈرشپ کو جنگی جرائم پرمعاف کردیاجائے،وہ عوامی قبولیت حاصل نہ کرے گا۔یہی جذبات حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔اس لیے حکومتی اقدامات کوعوامی مشاورت اورپارلیمانی شمولیت سے گزرنالازمی معلوم ہوتاہے۔(جاری ہے)