Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

قدس کی گواہی اور پاکستان کا اصولی امتحان

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستانی حکومت پرسوشل میڈیااورعوامی حلقوں کی جانب سےیہ سوال اٹھایاگیاکہ وزیراعظم نے عوام کواعتمادمیں لئےبغیرٹرمپ کےمنصوبےکا خیرمقدم کیسے کیا؟وزیراعظم کو عوام کو اعتمادمیں لیے بغیرکوئی حق نہیں کہ وہ امریکی منصوبے کی حمایت کریں۔ یہ سوال پاکستان میں جمہوریت کے اصولی ڈھانچے سے جڑاہے۔یہ سوالی آوازیں ظاہرکرتی ہیں کہ ریاستِ خارجہ پالیسی میں پارلیمان،عوام اورمعتبرعلمی حلقوں کی رائے لازمی ہونی چاہئے۔کسی بھی قومی مؤقف کی قابلِ قبولیت اسی وقت ممکن ہےجب وہ داخلی اجتماعی ضمانت کےساتھ پیش کیاجائے۔یہ سوال حکمرانی میں شفافیت کی کمی کو ظاہر کرتاہے۔شفافیت،قومی مفادات کی واضح نمائندگی اورپارلیمانی بحث ایسےتقاضےہیں جن کا احترام لازمی ہے تاکہ کوئی فیصلہ عوامی مجوزہ قدروں سے متصادم نہ ہو۔
کیاامت مرچکی ہے؟جیسے سوال عوامی غصےاورمایوسی کی عکاسی کرتےہیں۔فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کیلئےمذہبی وجذباتی حیثیت رکھتا ہے۔ایسےجذباتی نعروں میں وہ غم و غضب جھلکتاہےجوتاریخی مظالم کےسامنے انسانی ضمیر کو جھنجوڑتا ہے۔ یہ جذباتی فریادیں ہمیں یاددلاتی ہیں کہ بین الاقوامی سیاست میں انسانیت کی صداکبھی محض استدلال نہیں رہنی چاہئے اصول،اخلاق اور انصاف ہی مطمئن انصاف کی بنیادہیں۔
کئی مذہبی جماعتیں یہ کہتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کےچارٹرکےتحت کسی قوم کویہ حق ہے کہ اگر اس کی زمین پرقبضہ ہوتووہ مسلح جدوجہدکرسکتی ہے۔پاکستان میں اس نظریے کی موجودگی سیاسی مؤقف کومزیدپیچیدہ کرتی ہے، خاص طور پرجب حکومتیں عوامی رضاکے بغیرکسی اہم سفارتی موڑاختیارکریں۔یہ مؤقف پاکستان کیلئےسفارتی مشکلات بڑھادیتاہے کیونکہ عالمی سطح پرمسلح مزاحمت کواکثردہشت گردی قرار دیا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیاہم عالمی طاقتوں کے اس غلط مؤقف کومانتے ہوئےاپنےجائزحقوق کا مطالبہ اوراس کیلئے کوششیں ترک کردیں تاکہ ان کی جارحیت کوتوقانونی جوازمل جائے اور یہاں اپنے حق کیلئے قربانیوں کودہشت گردی کے پلڑےمیں ڈالنے کےخوف سےہم دستبردار ہو جائیں۔
امن منصوبے میں حماس کویرغمالیوں کی رہائی کے بدلےجنگ بندی کی پیشکش کی گئی ہے مگریہ پیشکش وقتی ہے اورمستقل امن کی ضمانت نہیں دیتی۔ٹرمپ اورنیتن یاہو نے ایک نئے امن منصوبے پراتفاق ظاہرکیااورحماس کوہدفِ قبولیت میں آنے کی تنبیہ کی؛ منصوبے کے تحت حماس کو ابتدائی طورپر72گھنٹوں میں20زندہ یرغمالیوں اور درجنوں یرغمالیوں کی باقیات اسرائیل کو حوالے کرنے کاکہاگیا،جس کے بدلے غزہ میں فوجی کارروائیوں کوروکنے کی پیشکش رکھی گئی اور اس کے ساتھ ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگرحماس اس کایہ حکم نہیں مانتی تو اسرائیل سےمقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جائے ۔ کیاگزشتہ دوبرس سے زائد اسرائیل کو حماس اورغزہ کے باشندوں کوقتل کرنے کالائسنس نہیں ملاہواجس کیلئے امریکا کاہی عطاکردہ خوفناک اسلحہ استعمال ہورہاہےتاہم حماس کی طرف سے اس دھمکی پر عملدرآمد کیلئے کئی عملی اوراخلاقی اعتراضات باقی ہیں۔
پاکستان کیلئے اصل امتحان یہی ہےکہ وہ ’’امن کی حمایت‘‘اور’’اصولی مؤقف‘‘کے درمیان توازن برقراررکھے۔دوریاستی حل کی بنیاد پرفلسطینی ریاست کی حمایت پاکستان کیلئے ناگزیر ہے، مگراسرائیل کی براہِ راست تسلیمیت فی الحال ممکن نہیں۔اس توازن کوبرقرار رکھناہی پاکستان کی سفارت کاری کااصل امتحان ہے۔
پاکستانی پالیسی کی بنیادآج بھی وہی ہے جوقائداعظم نے رکھی تھی،انصاف پرمبنی حل، فلسطینی عوام کےحقِ خودارادیت کی حمایت، اور اسرائیل کی غیرقانونی جارحیت کا انکار ۔ امن منصوبوں کوخوش آمدیدکہناسفارتی آداب کاحصہ ہے،مگراسرائیل کی تسلیمیت ایک ایسی لکیر ہےجسے پاکستان عبورنہیں کرسکتا۔حقیقی امن تبھی ممکن ہے جب انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ امن کے نام پرفلسطینی عوام کےحقوق کوپسِ پشت ڈال دینا’’سفارت کاری‘‘ تو کہلاسکتا ہے، مگر یہ ’’انصاف‘‘نہیں کہلاسکتا۔ پاکستان کیلئے یہی سب سے بڑاامتحان ہے کہ وہ اپنی پالیسی کووقت کے تقاضوں کے مطابق لچکداربھی رکھے اوراصولوں پرقائم بھی۔
اس مشکل موجودہ مرحلے میں (1) جنگ بندی اورانسانی امدادکواولین ترجیح دی جائے، (2)کسی بھی طویل المدت سیاسی فیصلے سے قبل قومی مشاورت اورپارلیمانی منظوری ضروری ہے، (3)پاکستان کاتاریخی موقف جو1967ء کی سرحدوں اورالقدس الشریف کے باضابطہ موقف پرقائم ہےبطورِ بنیادمحفوظ رہے،اور(4)بین الاقوامی سطح پر منصفانہ،شفاف اورحقوقِ بین الاقوامی کے مطابق حل تلاش کیاجائے۔مختصراً امن کی تلاش میں انصاف کو قربان نہ کیاجائے یہی وہ اخلاقی اورسیاسی اصول ہیں جوکسی بھی ریاست کوآئندہ رہنمائی دے سکتاہے۔
یہ رپورٹ جہاں حقائق کوچونچ ماری کے بغیرمنظم کرتی ہے،وہاں اس میں وہ تہذیبی لمس بھی رکھاگیاہے جوفکری تمکنت،سیاست کی زبانِ شائستگی اوراسلامی استدلال سے مستفاد ہے۔ تاریخ ایک آئینہ ہے؛آئینہ صرف چہرہ نہیں دکھاتابلکہ اس روشنی کی شدت اور زاویہ بھی بتاتا ہےجس سےحقیقت کے رنگ ابھرکرآتے ہیں۔ پاکستان کیلئے سب سے مطلوبہ راہ وہی ہےجس میں قومی عزت،بین الاقوامی قانون،اورانسانی ہمدردی تینوں برابروقعت رکھتے ہوں۔
اب وقت کاامتحان ہے۔تاریخ ہم سے سوال کررہی ہے کیاہم اپنی بنیادوں سے ہٹ کرچلیں گے یاپھرعدل وانصاف کے اس چراغ کو روشن رکھیں گے جسے ہمارےاکابرنےجلایاتھا؟ فلسطین کے معصوم بچے،زخمی ماؤں کے آنسو اورشہیدوں کالہوہم سے یہی تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اپنے اصولوں پرقائم رہیں۔پاکستان کااصل وقار یہی ہے کہ وہ ظلم کے آگےجھکے نہیں بلکہ حق کی گواہی دے۔ اسرائیل کی جارحیت کوتسلیم کرنا محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں،بلکہ یہ تاریخ سے انحراف ہوگا۔امن اگرانصاف کے بغیرآئے تووہ محض دھوکہ ہے۔ یقینا پاکستان کوسفارت کاری کی نزاکتوں کودیکھناہوگامگراس کی اساس ہمیشہ وہی ہوجوقرآن نے سکھائی ہے:ظالموں کی طرف نہ جھکو،ورنہ آگ تمہیں چھولے گی۔
ہم نے سن رکھاہے،ہم نے دیکھا ہے، اورہم نے محسوس بھی کیاہے ہر آنسو، ہر فریاد،ہربانجھ مٹی کی داستاں ہمارے ضمیرکے سینے پرایک گہرانشان چھوڑگئی ہے۔امتِ مسلمہ کی سر بلندی اس میں ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہے،نہ کہ ظالم کے زورپرخاموشی اختیار کرے ۔ قرآنِ کریم ہمیں یاددلاتا ہے: بیشک مومن آپس میں بھائی ہیں۔(الحجرات)اگرہم بھائیوں کوچھوڑکرمفادات کی سوئی کے پیچھے بھاگیں توہم اپناایمان اور اپنا وقار دونوں کھودیں گے۔
آئیں،ہم پارلیمنٹ کی معتبرمسند پر غور و فکرکریں،عوامی مشاورت کوفروغ دیں، اورایک واضح قومی پالیسی بنائیں جونہ محض بین الاقوامی توازن کاتقاضاپوراکرے بلکہ ہمارے عوامی ضمیر اوراسلامی اصولوں کی بھی پاسداری کرے۔ جنگ بندی کوفوری ترجیح دیں، انسانی امداد پہنچائیں،مگریادرکھیں کہ کسی بھی ڈھنگ کا امن جب تک منصفانہ حقوق کو یقینی نہ بنائے، وہ پائیدا رنہیں ہوگا۔ان تاریخی اورآزمائش کے وقت قوم کو یہ اعزازبخش دیں کہ ہم نےظلم کےخلاف آواز اٹھائی،مظلوم کے ساتھ کھڑے رہے، اور اپنے اصولوں کوبیچ راستے میں فروخت نہیں کیا۔تاریخ ہمارے بارے میں پوچھے گی توہمیں شرمندہ نہیں ہوناچاہیے، ہمیں فخرہوناچاہیے کہ ہم نے انصاف کوترجیح دی۔
ختمِ کلام سےپہلے عرضِ عاجزانہ یہ ہے پاکستان کی عزت وشرافت،امتِ مسلمہ کی بقا اورانسانی ہمدردی کاتقاضایہی ہے کہ ہم نہ صرف امن کے خدوخال طے کریں بلکہ انصاف کے دامن کوکبھی نہ چھوڑیں۔آئیں،ہم ایک آوازبن کرکہیں کہ انصاف کے بغیرامن قبول نہیں۔ یہی پیغام ہےکہ پاکستان ظلم کےساتھ نہیں،مظلوم کے ساتھ کھڑاہواوریہی پیغام ہماری نسلوں کودینا ہے کہ ’’قدس کی آزادی‘‘ محض فلسطینیوں کی جدوجہد نہیں،بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی غیرت و حمیت کاامتحان ہے۔آئیے آج ہم متحدہوکراعلان کریں پاکستان انصاف کے ساتھ،مظلوم کے ساتھ،اور اصولوں کےساتھ کھڑارہے گا۔ہم عالمی مفاہمت میں اپنا کردار ادا کریں گے مگراپنی بنیادی قدروں کو قربان نہیں کریں گے۔اللہ ہمیں ہدایت دے، ہمیں صوابدید اور حکمت عطا فرمائے،اورمظلوموں کوجلدنجات عطا کرے۔

یہ بھی پڑھیں