Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

امن کی کرن اور تاریخ کے زخم

تاریخ کے صفحات پراگرکوئی قوم ایثارو وفا کے حوالے سے لکھی جائے گی توپاکستان کانام سونے کے حروف سے رقم ہوگا۔چالیس برس ہونے کو آئے،اس سرزمینِ طیبہ نے اپنے افغان بھائیوں کیلئے نہ صرف خندقیں کھودیں نہ دیواریں، بلکہ دلوں کے دروازے بھی کھول دیے۔جہاں کبھی خیمے تنے،وہاں بستیاں بس گئیں؛جہاں مہاجر آئے،وہاں مہمان بنائے گئے۔پاکستان نے اپنے شہر، بازار،اسکول، اسپتال،حتی کہ دلوں تک کے دروازے افغان بھائیوں کیلئے کھول دیے۔یہ وہی اخوت تھی جسے قرآن نے فرمایا۔ بے شک تمام مومن آپس میں بھائی ہیں۔(الحجرات:10)
مگرتاریخ کاالمیہ یہ ہے کہ اخوت کایہ دریا اب دلسوزشکوؤں کے کناروں سے ٹکرا رہا ہے۔جن ہاتھوں نے کبھی پناہ دی،انہی پرآج الزام اوراحسان فراموشی کی مٹی ڈالی جارہی ہے۔ افغان سرزمین سے مہلک بم اوربرسائی گولیاں اب اسی سمت گونجتی ہیں جس نے کبھی ان کے یتیموں کو گود لیا تھا۔اورافسوس،اس غیرفہم دوستی کے پسِ پردہ وہی چہرے ہیں جوکبھی کابل میں سازشیں اوراسلام آبادمیں دھوکہ کی فصلیں کاشت کیا کرتے تھے یعنی پاکستان کاازلی دشمن بھارت جو ہمیشہ مسلمانوں کے اتحادپرخنجربن کرگرا، اور دکھ تواس بات کاہے کہ اس نے اسی برادرملک افغانستان کی موجودہ رجیم کوبطورخنجرپاکستان کی گردن پرچلانے کیلئے استعمال کیا۔
پاکستان کادل زخمی ہے،مگرلب خاموش نہیں بلکہ سمجھانے کیلئے کوشاں اورمتفکرہیں،وہ اب بھی امیدرکھتاہے کہ افغان بھائی نفاق کے بادلوں سے نکل کرایمان کے آسمان پرواپس آئیں گے کیونکہ ہم نے کبھی سرحدوں کودیوارنہیں سمجھا، بلکہ مسلمانوں کے دلوں کے بیچ ایک رشتہ سمجھا ہے۔ یادرکھیں کہ تاریخ کے افق پرجب قومیں جنگ وجدل کی دھندمیں بھٹکتی ہیں تو امن کی ایک کرن بھی صبحِ نوکی نویدبن جاتی ہے۔ پاکستان اورافغانستان کے مابین حالیہ پیش رفت اسی امیدکی ایک جھلک ہے مگریہ کرن ابھی کمزورہے،جیسے افقِ مشرق میں طلوع ہوتی ہوئی وہ روشنی جودھوئیں کے پردوں سے لپٹی ہو۔
قرآنِ کریم میں ارشادہے :اوراگروہ صلح کی طرف مائل ہوں توتم بھی اس کی طرف جھک جائو،اوراللہ پربھروسہ رکھو،بے شک وہ سننے والا، جاننے والاہے۔(الانفال:61)
یہی وہ الہامی اصول ہے جس کے زیرِسایہ پاکستان اور افغان طالبان نے دومسلم ثالثوں (قطراورترکی)کے ہمدردانہ توسط سے ایک نئے عہدِ امن کی بنیادرکھنے کی کوشش کی ہے۔
حالیہ مشترکہ اعلامیے میں دونوں فریقوں نے اس امرپراتفاق کیاہے کہ اگرجنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی توذمہ دارفریق پرسزا عائدکی جائے گی۔اس معاہدے کی ضمانت دوست ممالک نے دی ہے۔یہ دراصل ایک ایساعہدہے جس میں قانون اورضمیر،دونوں فریقوں کوجوابدہی کے دائرے میں لاتے ہیں۔یہ دراصل خطے کی تاریخ میں ایک نیاباب ہے۔ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اکثراعتمادکی کمی اورپالیسی کی ناہمواری کاشکاررہے لیکن اس اعلامیے میں پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیاگیاہے کہ امن صرف نیت سے نہیں بلکہ نظام سے بھی قائم ہوتاہے۔یہ شق ایک قانونی ضمانت ہے کہ معاہدہ محض رسمی نہ ہوبلکہ عملی جوابدہی کے اصول پراستوارہو۔اسلامی نقطہ نظرسے یہ وہی تصورہے جسے قرآن یوں بیان کرتا ہے: اور وعدہ پورا کرو، بے شک وعدہ کے بارے میں باز پرس ہوگی۔(بنی اسرائیل:34) یہ آیت دراصل کسی بھی سیاسی معاہدے کواخلاقی بنیاد عطا کرتی ہے۔
دونوں ممالک نے جنگ بندی برقرار رکھنے پراتفاق کیاہے،اوراس کے قواعدوضوابط استنبول میں چھ نومبر کوطے کیے جائیں گے۔ استنبول، جوماضی میں مشرق ومغرب کے سنگم کا استعارہ رہاہے،اب شایدجنوبی ایشیا کے امن کے نئے باب کاعنوان بننے جارہاہے۔ استنبول کاانتخاب علامتی حیثیت رکھتاہیوہ شہرجومشرق کی روح اور مغرب کے شعورکاامتزاج ہے۔یہی امتزاج پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں درکار ہے، روحانی وابستگی کے ساتھ سیاسی تدبرجس کیلئے میں پہلے دن سے اپنی گزارشات گوش گزار کررہا ہوں۔یہ مذاکرات دراصل اعتمادسازی کے دوسرے مرحلے کی نمائندگی کرتے ہیں۔اگریہ مرحلہ کامیاب ہوتوایک نئے امن معاہدے کی بنیاد پڑسکتی ہے جومستقبل میں سرحدی تحفظ اور تجارتی روابط تک پھیل جائے گا۔
افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے کہاکہ استنبول مذاکرات کے بعددونوں فریق دوبارہ ملاقاتیں کریں گے اور باقی مسائل پرغوروخوض ہوگا۔یہ بیان ظاہرکرتا ہے کہ طالبان حکومت نے بھی یہ محسوس کرلیاہے کہ طاقت کے بجائے مکالمہ ہی استحکام کاراستہ ہے۔ افغان تاریخ میں پہلی بارایک ایسی حکومت ابھررہی ہے جوبالآخربین الاقوامی ضابطوں کوجزوی طورپر تسلیم کررہی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں انقلاب آہستہ آہستہ ادارے کی شکل اختیارکرتاہے۔یہ بیان اس امرکی علامت ہے کہ امن ابھی سفرکے مرحلے میں ہے ،منزل ابھی فاصلے پرنیک نیتوں اورعمل کی منتظرہے۔
ترکی کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیاکہ ایک نگرانی اورتصدیق کانظام تشکیل دیاجائے گا۔ دونوں فریقوں نے ایک مشترکہ نگرانی و تصدیق کانظام قائم کرنے پربھی اتفاق کیاہے جوکسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے کااختیاررکھے گا۔ یہ قدم نہ صرف ایک بین الاقوامی شفافیت کا مظہرہے،جوسفارت کاری کی دنیامیں ایک مثبت پیش رفت قراردی جاسکتی ہے بلکہ ایک عالمی ضامن کے وجودکوبھی ظاہرکرتاہے۔ترکی،جواسلامی دنیا کے سیاسی توازن میں مرکزی کردار رکھتا ہے، اس معاہدے کے ذریعے ایک اخلاقی ضامن کے طور پر ابھرا ہے۔یہ اقدام اس بات کاثبوت ہے کہ امن صرف فریقین کی خواہش سے نہیں بلکہ بین الاقوامی اعتمادسے بھی تقویت پاتاہے۔
امن کی بنیادکمزوری نہیں بلکہ قوتِ باز دار پرہونی چاہیے۔اسی لئے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈمارشل عاصم منیرنے پشاورمیں واضح کیاکہ پاکستان اپنے تمام ہمسایوں سے امن چاہتا ہے، مگرشدت پسندی ہرگزبرداشت نہیں کی جائے گی۔یہ الفاظ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ امن اگرکمزوری نہیں بلکہ قوت کے وقار کے ساتھ قائم ہوتو وہی پائیدارہوتاہے۔یہ دراصل قوتِ عزم اورسیاسی صبرکا امتزاج ہے۔یہ پیغام داخلی اورخارجی دونوں سطحوں پرہے۔اندرونِ ملک عوام کیلئے تحفظ کاوعدہ،اورہمسایہ ممالک کیلئے احتیاط کی وارننگ ۔ یہ وہی اصول ہے جسے قرآن یوں بیان کرتاہے:اوران کے مقابلے کیلئے جتنی طاقت جمع کرسکتے ہو،کرو(الانفال:60)
آرمی چیف نے قبائلی عوام کی غیرمتزلزل حمایت کوسراہااورسیکیورٹی فورسزکے ساتھ ان کے تعاون کوقومی یکجہتی کی علامت قراردیا۔یہ خطہ، جو کبھی جنگ کامیدان تھا،آج وفاداری اور قربانی کی علامت بن چکاہے۔قبائلی عوام کاتعاون دراصل پاکستان کے اندرونی استحکام کی ضمانت ہے۔یہ وہ خطہ ہے جہاں غیرت،شجاعت اوردیانت کی روایات صدیوں سے زندہ ہیں۔یہ پیغام دراصل ایک قومی مفاہمت کی علامت اورایک تاریخی تسلسل کا اظہارہے،جس میں پشتون خطے کے عوام ہمیشہ قومی وحدت کے ستون رہے ہیں اورمرکز اور سرحد ایک ہی دھڑکن پردھڑکتے ہیں۔
آرمی چیف نے قبائلی عوام کے جرگے میں ان کے دکھ دردکوسمجھتے ہوئے اس بات کابھی یقین دلایاکہ پاکستان،افغان سرزمین سے دہشت گردی قطعاً برداشت نہیں کرے گا۔یہ جملہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ ریاستی خوداعتمادی کا اعلان ہے۔پاکستان نے برسوں دہشت گردی کی آگ میں اپنے ہزاروں شہری کھوئے ہیں۔اب وہ مرحلہ آگیاہے کہ تحمل کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی لازم ہوگیاہے۔پاکستان نے واضح کیاہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی ہرگزبرداشت نہیں کی جائے گی۔یہ بیان ریاستی خودمختاری کے عزم کامظہرہے،جو کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات میں احترامِ باہمی کی بنیادفراہم کرتا ہے۔ یہ پیغام افغان حکومت کیلئے بھی ایک اشارہ ہے کہ عدم مداخلت ہی بقاکی ضمانت ہے۔
آرمی چیف نے یاددلایاکہ افغانستان سے مسلسل دہشت گردی کے باوجودپاکستان نے گزشتہ برسوں میں تحمل کامظاہرہ کیااورسفارتی و معاشی اقدامات کے ذریعے تعلقات کوبہتر بنانے کی سعی کی۔یہ دراصل بردباری کی سیاست ہے۔ جب طاقتورقوم غصے کی بجائے تدبیرکو اختیار کرے تویہ اس کی اخلاقی برتری کی علامت ہوتی ہے۔پاکستان نے سفارت کاری، تجارت، اور انسانی ہمدردی کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی اورپاکستان ہمیشہ مفاہمت کے دامن میں محبت،ایثاراوراخلاص جیسی قوت کی پوشیدہ تلوارکے حصول کیلئے حکیمانہ صبرکی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتاچلاآرہاہے اوراب وہ نتائج کی امید رکھتاہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں