یہ لمحہ فکری مسرت کا ہے کہ آج بلوچستان کی علمی فضا میں جہاں پہاڑوں کی سنگینی دلوں کی غیرت سے ہم آہنگ ہے ہم اس مفکرِ ملت کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جس نے غلام ذہنوں میں آزادی کے خواب جگائے، اور جس کی صدائے دروں آج بھی ملتِ اسلامیہ کے قافلے کو منزل کی طرف بلاتی ہے۔ اپنی گفتگوکے آغاز میں سورہ الاحزاب کی آیت نمبر70 پڑھنے کی جو توفیق ملی، یہ آیت دراصل اقبالؒ کے فلسفہ خودی کی قرآنی اساس ہے۔ وہ اسی پیغام کو اپنی پوری فکر کا محور بناتے ہیں۔ آج جب ہم اقبالؒ کی یاد منانے کو جمع ہیں، تو یہ محض تعظیمِ ماضی نہیں بلکہ احیائے حال کا عہد ہے۔
اقبالؒ وہ چراغ ہیں جنہوں نے قرآن کو فکر کا منبع اور ایمان کو انسان کا سرمایہ قرار دیا۔اقبالؒ کا فکری جہان، ان کا فلسفہ دراصل قرآن ہی کی تفسیرِ جدید ہے۔ وہ کہتے ہیں:
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار
اقبالؒ کی شخصیت ایک فرد نہیں، ایک عہد ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں اور صاحبِ وحی کی تعلیمات کے نقیب بھی۔ فلسفہ بھی ان کا میدان ہے اور فقہِ حیات بھی ان کی میراث۔ ان کی فکر میں قرآن کا نور، تاریخ کا شعور، اور عمل کا زور یکجا ہے۔ ان کا کلام حقیقت میں قرآنِ حکیم کی ترجمانی ہے، اور وہ خود اپنی شاعری کو دعوتِ عمل سمجھتے ہیں۔علامہ اقبالؒ کی ذات کثیرالجہات تھی۔ وہ شاعر بھی تھے، فلسفی بھی، مفسرِ قرآن بھی اور سیاسی مدبر بھی۔ ان کی فکر کا منبع قرآن تھا اور ان کا نصب العین انسانِ کامل کی تخلیق۔ان کی نظر میں مومن وہ ہے جو زمین پر خدا کی حجت بن کر جیتا ہے، جو بندگی میں آزادی تلاش کرتا ہے، اور جو خودی کے آئینے میں اپنا خالق پہچانتا ہے۔ اقبالؒ نے انسانی فکر کو بندگی کے دائرے میں آزادیِ شعور عطا کی۔ ان کا پیغام صرف شاعری نہیں بلکہ ایک تہذیبی انقلاب کی صدا تھا۔یہ آیت دراصل قرآنِ حکیم کی فکری اساس کا خلاصہ ہے۔ جوہمیں اقبالؒ کے کلام، فلسفے اور سوانح میں جا بہ جا ملتی ہے۔
اقبالؒ نے یہی پیغام اپنے عہد کی مردہ روحوں میں پھونکا کہ ایمان جمود نہیں، حرکت ہے؛ اور امت کی بیداری خوفِ خدا اورراستبازی میں پنہاں ہے ،اور علم و عمل کی آمیزش سے ممکن ہے۔علامہ محمد اقبالؒ وہ نادر روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے قرآن کے پیغام کو نہ صرف سمجھا بلکہ اسے انسانی شعور کے نئے دور میں منتقل کیا۔وہ مفکر بھی تھے، مفسرِ قرآن بھی؛ فلسفی بھی تھے اور مدبرِ ملت بھی؛ادیب بھی، شاعر بھی، اور رہنما بھی۔ ان کی ذات میں مذہب، فلسفہ، سیاست اور ادب کا ایسا حسین امتزاج ملتا ہے جو اسلامی تہذیب کے کسی دوسرے مفکر میں نظر نہیں آتا۔ اقبالؒ کا کہنا تھا:
میری نوائے دو رنگی کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرمِ رازِ درونِ خانہ
یعنی وہ اپنی شاعری کو محض فن نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ایک فکری جہاد، ایک دعوتِ عمل اور قرآنی تفہیم کا تسلسل تصور کرتے تھے۔اقبالؒ کاپیغام جہاں انسان، مومن اور ملت کے لیے ہے وہاں اقبالؒ کی تعلیمات انفرادی بھی ہیں اور اجتماعی بھی۔ انسان کے باطن میں جو چراغِ خودی جلتا ہے، اقبالؒ نے اسی کو ملت کی روشنی قرار دیا۔ وہ مردِ مومن کو قرآن کا عملی پیکر سمجھتے ہیں جس کی نگاہ خود شناس ہو، جس کا عمل خالص ہو،اور جو اپنے خالق سے براہِ راست رشتہ رکھتا ہو۔اقبالؒ کا مردِ کامل، کسی فرقے یا خطے کا نمائندہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا معمار ہے۔وہ انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ اسلام ایک زندہ اور متحرک دین ہے، جو ہر دور میں نشاِ ثانیہ یعنی تجدیدِ حیات کا مطالبہ کرتا ہے۔
بیسویں صدی کا پہلا نصف ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے فیصلہ کن دور تھا۔ انگریز سامراج نے سیاسی غلامی کی زنجیر ڈالی،ہندو اکثریت نے اکثریتی جبر کی دیوار کھڑی کی، اور مسلمان مایوسی و خوف کے اندھیروں میں گم ہوگئے۔ علم کے مراکز ویران، قیادت منتشر، اور ملت کا شیرازہ بکھرا ہوا تھا۔ایسے میں اقبالؒ کی آواز بجلی کی کڑک کی مانند ابھری۔ انہوں نے غلامی کے سناٹے میں خودی کا نعرہ بلند کیا۔انہوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ اگر وہ اپنی اصل پہچان بھول گئے،تو نہ صرف ہندوستان میں، بلکہ پوری دنیا میں امتِ مسلمہ کے وجود پر سوال اٹھ جائے گا۔اقبالؒ نے اندلس کے زوال، ہسپانیہ کے المیے، اور مسلمانوں کی تاریخ سے عبرت دلاتے ہوئے کہا کہ اگر قومیں خودی کھو دیں تو سلطنتیں بھی ریت کا محل بن جاتی ہیں۔اقبالؒ کا فکری انقلاب وطنیت کا بت شکنی پرمبنی تھا۔اقبالؒ نے سب سے پہلے قومیت کے خول کو توڑا۔اس دورمیں وطنیت کابت مسلمانوں کے ذہنوںپر مسلط کیا جا رہا تھا۔ اقبالؒ نے اعلان کیا کہ مسلمان کی شناخت وطن سے نہیں، ایمان سے ہے۔
ان تازہ خداں میں بڑا سبب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ وہ آواز تھی جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اقبالؒ نے ان کے اندر نئی روح پھونکی،ان میں فکری خود اعتمادی اور سیاسی شعور پیدا کیا۔ان کی شاعری نے مسلمانوں کے دلوں میں زندگی کی تڑپ اور حرکت کی آرزو جگائی۔شاعرِ مشرق بطور مصلحِ قوم ،اقبالؒ کی شاعری میں ایک ایسی روحانی توانائی ہے جو دلوں میں یقینِ محکم، عملِ پیہم، اور محبتِ فاتحِ عالم پیدا کرتی ہے۔
ایک بلبل ہے کہ محوِ ترنم ہے اب تک
اس کے سینے میں نغموں کا تلاطم ہے اب تک
اقبالؒ کی آواز وقت کی گرد میں بھی زندہ ہے، کیونکہ ان کی فکر قرآن سے جڑی اور عمل سے بندھی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایمان محض عقیدہ نہیں،بلکہ عمل کا محرک اور قوتِ تخلیق کا سرچشمہ ہے۔جب ملتِ اسلامیہ کے سیاسی قائدین انتشار کا شکار تھے، جب کانگریسی مسلمان وطنیت کے فریب میں مبتلا تھے،تب اقبالؒ نے مسلم لیگ کے فکری محور کو درست سمت دکھائی۔ انہوں نے نہرو فارمولے اور مخلوط انتخابات کی مخالفت کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ مسلمانوں کی سیاسی موت ہے۔
قائد اعظم ؒنے اقبالؒ کے بارے میں کہا تھا وہ میرے دوست، میرے رہنما اور میرے فلسفی ہیں۔مسلم لیگ کے تاریک ترین ادوار میں وہ چٹان کی طرح استقامت سے ڈٹے رہے ،یہی استقامت دراصل اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی روح ہے کہ جب باطل ہرسمت سے حملہ کرے تومومن اپنے نظرئیے سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے۔
پھرسب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام کی نشاِۃ ثانیہ اقبالؒ کا خواب تھا۔ نشاۃِ ثانیہ محض مذہبی بیداری نہیں،بلکہ ایک عالمی فکری انقلاب کا عنوان ہے۔اقبالؒ نے اس تصور کو اسلامی فکر کی تجدید کے طور پر پیش کیا ،ایسی تجدید جو قرآن کے بنیادی اصولوں پر استوار ہو،لیکن زمانے کے تقاضوں کو بھی نظرانداز نہ کرے۔ ان کی نظر میں اسلام کوئی ماضی کی یاد نہیں، بلکہ مستقبل کی قوتِ محرکہ ہے۔اسی لئے اقبالؒ نے کہا:اسلام ایک پیغامِ عمل ہے، مذہب نہیں بلکہ ایک انقلابی تحریک ہے۔
(جاری ہے)