یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے تاریخی سہروردی گراونڈ میں جن لاکھوں انسانوں سے خطاب کیا وہ نہ تو ’’اوورسیز پاکستانی‘‘تھے، نہ وہ مولانا کے ووٹر تھے اور نہ ہی انہیں مولانا سے کسی قسم کا کوئی لالچ تھا،تاریخی سہروردی گرائونڈ میں عالمی ختم نبوت کانفرنس میں جو لاکھوں انسان جمع تھے وہ سب کے سب بنگلہ دیش کے مقامی مسلمان تھے اور عشق رسول ﷺسے سرشاری نے ان کے دل و دماغ کو روشن خیالی عطا فرمائی تھی، ڈھاکہ کے سہروردی گرائونڈ میں منعقدہ عالمی ختم نبوت کانفرنس کے اسٹیج پر ہندوستان، بنگلہ دیش، پاکستان کے علما کرام کے علاوہ حرمین شریفین کی مقدس سرزمین سے تشریف لائے ہوئے علما ء کرام بھی موجود تھے، لیکن اس عالمی کانفرنس کے ’’دولہا‘‘ اور مہمان خصوصی مولانا فضل الرحمن تھے،یہی وہ مولانا پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ جو انہیں موجودہ زمانے کے دوسرے ہم عصر سیاست دانوں میں نہ صرف یہ کہ ممتاز کرتا ہے ،بلکہ ہم جیسے صحافت کے طالب علم باطل پرستوں کو یہ چیلنج کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کی پوری سیکولر ،لبرل اور ملحد، دنیا کے پاس مولانا فضل الرحمن جیسا کوئی دوسرا سیاست دان ہو تو سامنے لائے ؟ سیکولرشدت پسند ہوں،ملحدین شتونگڑے ہوں ، امریکی پٹاری کے یوتھئے ہوں یا ’’ملا ناگوری‘‘اینڈ کمپنی کے راتب خور فیس بکئیے، ان کے پاس گالیوں اور مولانا کے خلاف دشنام طرازیوں کے سوا کچھ بھی نہیں، مولانافضل الرحمن کو عالمی سطح پر ملنے والی بے انتہا عزت وتکریم امریکی پٹاری، قادیانی لابی اور ملا ناگوری اینڈ کمپنی سے ہضم نہیں ہو رہی،لیکن جسے رب العالمین عزت عطا فرمائے شیطان اور اس کی ذریت کو پسند ہو نہ ہو اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا۔
اسلام آباد سے لے کر ڈھاکہ اور سلہٹ تک آج مولانا فضل الرحمن جس طرح سے دین اسلام اور ’’پاکستانیت‘‘کی محبت کو عام کر رہے ہیں ، ختم نبوتﷺ کی دولت کو عام کر رہے ہیں،اس کی وجہ سے صرف قادیانیت کے قلعوں پر ہی نہیں بلکہ منافقین پر بھی لرزہ طاری ہے، ڈھاکہ کے سہروردی گرائونڈ میں لاکھوں عشاق رسول ﷺسے مولانا فضل الرحمن کے خطاب کی گونج پوری دنیامیں سنائی دے رہی ہے،صرف ڈھاکہ ہی نہیں، بلکہ لندن تک کی قادیانی لابی مولانا کے خلاف متحرک ہو چکی ہے، مولانا فضل الرحمن نے ڈھاکہ میں عالمی ختم نبوت کانفرنس کے لاکھوں بنگالی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج میں آپ کے سامنے امتِ مسلمہ کی وحدت، محبت اور خیرسگالی کا پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں۔ یہ میرا ذاتی دورہ نہیں، یہ ایک روحانی و ایمانی رشتہ رکھنے والے دونوں ممالک کے عوام کا باہمی رشتہ ہے۔ میں یہاں پاکستان کی عوام کی طرف سے، اپنے کارکنوں کی طرف سے، اور پوری امت کی طرف سے محبت و اخوت کا پیغام لے کر آیا ہوں۔‘‘ ہم ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے ’’میں یہاں یہ اعلان کرنے آیا ہوں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان دو قومیں نہیںہم ایک امت ہیں، ایک دین رکھتے ہیں، ایک قرآن رکھتے ہیں، ایک نبی ﷺ مانتے ہیں۔ہمارے دلوں کی دھڑکن ایک ہے۔ہمارے درمیان اگر کسی دور میں سیاسی رکاوٹیں آئیں، اگر کچھ فاصلوں نے جنم لیا،تو یہ فاصلے دلوں کے نہیں تھے، یہ سیاست کے تھے۔امت کبھی جدا نہیں ہوئی۔’’ عقیدہ ختم نبوت ﷺ ہماری مشترکہ اساس ہے‘‘ میں نے یہاں آتے ہی عرض کیا کہ ہمارا بنیادی نکتہ وہی ہے جو ہر مسلمان کا ہے:عقیدہ ختم نبوت ﷺ۔یہ عقیدہ متحد کرتا ہے، منتشر نہیں کرتا۔یہ ایمان کی بنیاد بھی ہے اور امت کی وحدت کا مرکز بھی۔میں نے پاکستان میں بھی کہا، آج ڈھاکہ میں بھی کہتا ہوں:جو قوت اس عقیدے پر کھڑی ہے، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔’’ہمارا پیغام تشدد نہیں، استقامت ہے‘‘ ہماری جدوجہد ہمیشہ امن کی جدوجہد رہی ہے۔ہم نے کبھی خونریزی کو اپنا راستہ نہیں بنایا۔ہم نے کبھی ریاست کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائے، نہ ہی دوسروں کو اٹھانے دیا۔
ہماری تحریک کی بنیاد ہے،اصلاح، شرافت، قانون، آئین، اخلاق اور اتحاد۔ہم آج بنگلہ دیش میں بھی یہی بات کہہ رہے ہیں کہ امت کے مسائل کا حل تشدد میں نہیں سمجھوتے، حکمت اور استقامت میں ہے۔’’اگر آپ پیدل آئیں گے تو ہم دوڑ کر آئیں گے‘‘ میں یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو مضبوط بنانے میںہم ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔اگر آپ ہماری طرف پیدل آئیں گیتو ہم دوڑ کر آئیں گے۔اگر آپ ہاتھ بڑھائیں گے،تو ہم گلے لگانے کو تیار ہوں گے۔یہ دورہ اسی محبت اور اخوت کا مظہر ہے۔’’ہم سیاست کے پردے میں امت کی تقسیم قبول نہیں کرتے‘‘ آج دنیا میں بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مسلم دنیا تقسیم ہو جائے۔وہ چاہتی ہیں کہ ہم چھوٹی چھوٹی وحدتوں میں بٹ جائیں،ایک دوسرے کے خلاف ہو جائیں،اپنی توانائی ایک دوسرے سے لڑنے میں صرف کر دیں۔میں یہاں بنگلہ دیش کے عوام، علمائے کرام اور قیادت کے سامنے یہ بات رکھتا ہوں کہ:ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی امت کے اتحاد کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ہم نے ہمیشہ سیاست کو امت کی خدمت کیلئے استعمال کیاامت کو سیاست کیلئے قربان نہیں ہونے دیا۔’’ہماری اکائیاں الگ ہو سکتی ہیں، امت نہیں‘‘ پاکستان اپنی جگہ ایک ملک ہے، بنگلہ دیش اپنی جگہ ایک ملک ہے،لیکن امت ایک ہے۔
تاریخ میں قومیں بنتی اور بکھرتی رہتی ہیں،مگر امت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ہماری زبانیں، ثقافتیں، حکومتیں مختلف ہو سکتی ہیں،مگر ایمان، قرآن اور رسول ﷺ ایک ہیں۔’’پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کا مستقبل امن میں ہے‘‘ میں یہاں اعلان کرتا ہوں:ہمارا مستقبل لڑائی میں نہیں،معاشی ترقی میں ہے،تعلیمی تعاون میں ہے،دینی بھائی چارے میں ہے۔ہم چاہتے ہیں کہدونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھے تعلیمی تعاون مضبوط ہوطلبہ کا تبادلہ ہودینی تحقیق کے دروازے کھلیںاہلِ علم ایک دوسرے سے سیکھیںسیاست فاصلے بڑھانے کا ذریعہ نہ بنیعوام کے دلوں میں نفرت نہ ڈالی جائے ’’میں یہاں دشمنی مٹانے آیا ہوں‘‘ میں یہاںنہ شکایت لے کر آیا ہوں،نہ احتجاج کرنے آیا ہوں،نہ ماضی کے زخم چھیڑنے آیا ہوں۔میں آیا ہوں کہ ماضی کو عزت کے ساتھ دفن کیا جائے اور مستقبل کو روشن کیا جائے۔ہم تلخیوں کو اپنے راستے سے ہٹا کرمحبت کا نیا دروازہ کھولیں۔’’میرا ڈھاکہ سے وعدہ‘‘ آج میں ڈھاکہ کے عوام سے وعدہ کرتا ہوں:ہم بھائی بن کر آگے بڑھیں گے ہم امت کے اندر فاصلے کم کریں گے ہم ظالم قوتوں کے ایجنڈے کو ناکام بنائیں گیہم محبت اور اخلاق کو اپنا راستہ بنائیں گیہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گیاور میں آپ سب سے بھی یہی چاہتا ہوں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلق کو نئی روح دیں۔