Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

محبت‘ ایمان و عمل کی بنیاد اور عبادت کی اساس

تعارف: تخلیقِ کائنات کا پہلا راز محبت‘ جب خالقِ کائنات نے فرمایا:میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، مجھے یہ محبوب ہوا کہ پہچانا جائوں، تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ مجھے پہچانا جائے۔یہ حدیثِ قدسی اس ابدی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ محبت ہی تخلیقِ کائنات کا پہلا سبب ہے۔اللہ کا ایک صفاتی نام الودود ہے‘ یعنی سب سے زیادہ محبت کرنے والا۔یوں محبت، وجود کا جوہر، روح کا منبع، اور ایمان کا پہلا بیج ہے۔
محبت اور ایمان قرآنی بنیاد‘ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔(البقرۃ : 165)
ایمان صرف عقیدے کا نام نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت ہے وہ کیفیت جس میں محبتِ الہی دل پر غالب آ جائے،اور باقی تمام محبتیں اس کے تابع بن جائیں۔جب بندے کا دل عشقِ الہی سے معمور ہو جاتا ہے،تو اس کا ایمان کامل، اس کے اعمال پاکیزہ، اور اس کی نیت خالص ہو جاتی ہے۔
محبت ایمان کا کمال‘ حدیثِ نبوی میںرسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فرمائے گا:کہاں ہیں وہ لوگ جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے؟آج میں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا۔(صحیح مسلم 2566 )اور ایک اور روایت میں:جو کسی سے اللہ کے لیے محبت کرے، اللہ اسے بھی اپنے لیے محبوب بنا لیتا ہے۔(صحیح مسلم 2567)
یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ محبت فی اللہ (اللہ کے لیے محبت) دراصل محبت للہ(اللہ کی محبت) کی راہ ہے۔یہ محبت انسان کو خالق کے قرب تک پہنچاتی ہے جہاں بندہ محبوبِ خدا بن جاتا ہے۔ائمہ معرفت کا موقف محبت ہی روحِ ایمان ہے ‘امام ابو حامد الغزالی(احیا علوم الدین، کتاب المحب)امام غزالی لکھتے ہیں:انسانی کمال یہ ہے کہ دل پر اللہ کی محبت غالب آ جائے اور باقی تمام محبتیں اس کے تابع بن جائیں۔اور مزید فرماتے ہیں:سچی محبت وہ ہے جو بندے کے ہر عمل کو خالص کر دے حتی کہ اس کی عبادت بھی محبت کا اظہار بن جائے۔ان کے نزدیک ایمان کا جوہر محبت ہے،اور محبت کے بغیر عبادت محض جسمانی حرکت،ایک خالی رسم بن جاتی ہے جس میں روح نہیں۔شیخ عبدالقادر جیلانی(الفتح الربانی و الفیوضات الربانیہ)
حضرت جیلانی فرماتے ہیں:محبت ایک ایسا اضطراب ہے جو دل کو خالق کی طرف کھینچتا ہے۔جب یہ آگ بھڑکتی ہے تو بندہ مخلوق پر شفقت اور خالق پر یقین سے بھر جاتا ہے۔مزید ارشاد فرمایا:جو بندہ اللہ سے محبت کرتا ہے، وہ بندوں سے بھی محبت کرتا ہے،کیونکہ ہر روح میں خالق کا نور ہے۔شیخ جیلانی کے نزدیک محبت کا معیار خدمتِ خلق ہے۔جس نے اللہ کو پہچانا، اس نے مخلوق سے محبت کی۔اور یہی محبت ایمان کو اخلاق میں بدل دیتی ہے۔شیخ اکبر محی الدین ابن عربیابن عربی فرماتے ہیں:میں دینِ عشق کا پیرو ہوں،جہاں محبت کا قافلہ جاتا ہے، وہی میرا دین و ایمان ہے۔وہ حدیثِ قدسی کی شرح میں لکھتے ہیں:اللہ نے محبت کی خاطر کائنات بنائی،تاکہ وہ اپنے حسن کو آئینے میں دیکھے اور وہ آئینہ انسان کا دل ہے۔ان کے نزدیک تخلیقِ انسان،خالق کے عشق کا مظہر ہے۔انسان کا وجود خدا کی محبت کی تجلی ہے،اور بندگی کا کمال اس وقت ہے جب بندہ فنا فی المحبوب ہو جائے۔تفسیرِ عشق اور مولانا جلال الدین رومی- مولانا فرماتے ہیں
عشق آن شعلہ است کہ چون بر افروخت
ہر چہ جز معشوق است بسوخت
عشق وہ آگ ہے جو بھڑک جائے تو محبوب کے سوا سب کچھ جلا ڈالتی ہے۔اور ایک اور مقام پر:از محبت دردہا صافی شود،وز محبت دردہا شافی شود‘محبت دکھوں کو پاک کرتی ہے،اور محبت ہی زخموں کا مرہم ہے۔
مولانا روم کے نزدیک عشقِ الہی بندے کو فنا سے بقا تک لے جاتا ہے جہاں وہ اپنی ہستی سے نکل کر محبوب کی ہستی میں ڈوب جاتا ہے،اور وہاں عقل خاموش ہو جاتی ہے، عشق بولنے لگتا ہے۔ محبت اور تعلقات اخلاقِ ایمان کی بنیادمحبت ہی تمام انسانی رشتوں کی بنیاد ہے۔ماں کی شفقت، دوست کی وفا، استاد کی عنایت یہ سب اللہ کی صفتِ الودود کے عکس ہیں۔جو اللہ سے محبت کرتا ہے،اور اللہ کی محبت میں مخلص اور وحید ہوجاتا ہے تو پھر وہ اس کی مخلوق سے نفرت نہیں کرتا۔دوسروں کی نہ عیب جوئی کرتا ہے۔ نہ برائی ۔ وہ برائی کاجواب نیکی سے دیتا ہے۔ زیادتی کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔ دوسروں کی مدد کرتا ہے اللہ کی محبت اور خوشنود کے لئے اور ان سے کوئی توقع نہیں رکھتا ہے۔ اس کیلئے مال و دولت غیر اہم ہوجاتے ہیں اور وہ ہر چیز سے بے نیاز اور مستغن ہو جاتا ہے۔ اس کو یہ بے نیازی اور استغنا خوش اور طمانیت دل و روح عطا رت ہے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مومن اپنے کردار سے محبت، رحمت اور خدمت کا مظہر بن جائے۔
جیسا کہ حضرت مولاناروم نے کہا:محبت نہ ہو تو عبادت بھی بت پرستی ہے؛اور اگر محبت ہو، تو خاموشی بھی تسبیح بن جاتی ہے۔نتیجہ: محبت دین کی روح، ایمان کی بنیادقرآنِ کریم فرماتا ہے:
اللہ ان سے محبت کرتا ہے، اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔(االمائد: 54)یہی محبت دوطرفہ بندھن ہے خالق بندے سے، اور بندہ خالق سے۔یہی ایمان کی معراج اور عمل کی روح ہے۔ جب دل عشقِ الہی میں ڈوب جائے،تو بندہ محض مومن نہیں،بلکہ محبوبِ خدا بن جاتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں عقل رک جاتی ہے اور عشق زباں بن جاتا ہے۔
خلاصہ‘ تخلیقِ کائنات کی بنیاد محبت ہے۔ ایمان کی تکمیل اللہ اور رسول ﷺ کی محبت سے ہوتی ہے۔ محبت فی اللہ، محبتِ الٰہی کا راستہ ہے۔ اصحاب علم و عرفان کے مطابق محبت روحِ ایمان ہے۔ مولانا رومی کے نزدیک عشق، فنا سے بقا کا دروازہ ہے اور محبت بندے کو قربِ الٰہی تک لے جاتی ہے جہاں وہ کہتا ہے: اللہ ہو الحب، والحب ہو الحق.اللہ ہی محبت ہے، اور محبت ہی حق ہے۔اللہ کا اسم الودود محبت پہچان ہے۔

یہ بھی پڑھیں