Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

دو سال!کرپشن 5300ارب روپے ’’ترقی‘‘ہی ’’ترقی‘‘

پاکستان کی معیشت پہلے ہی قرضوں، مہنگائی اور کمزور حکمرانی کے بوجھ تلے کراہ رہی تھی، مگر آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ نے ملی بھگت، مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا جو نقشہ پیش کیا ہے، وہ قومی سطح پر ایک ہولناک جھٹکا ہے۔ صرف دو سال میں 5300ارب روپے کی کرپشن، ضائع شدہ وسائل اور بدانتظامی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ریاستی ڈھانچہ نہ صرف شفافیت سے محروم ہے بلکہ طاقتور طبقوں کی لوٹ مار نے ترقی کی ہر راہ مسدود کر دی ہے۔ یہ اعداد و شمار محض مالی نقصان نہیں، بلکہ ایک گہری بیماری کی علامت ہیں ،جو پاکستانی ی معیشت کی سانسیں روک رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی تازہ جائزہ رپورٹ 20نومبر کو جاری کی ہے۔ اس میں پاکستان میں ہونے والی مجموعی مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران مختلف شعبوں میں ملا کر صرف 5300 ارب روپے کی کرپشن، ضائع شدہ رقوم اور مالی بدانتظامی سامنے آئی ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستانی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، کیونکہ ملکی صورت حال پہلے ہی مالی بحران، قرضوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ صرف کرپشن کے براہِ راست کیسز تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ان تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے جہاں سرکاری وسائل کا غلط استعمال، پالیسیوں میں کمزوریاں، یا شفافیت کی کمی موجود ہے۔ ملکی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، مگر جب ایک بڑا عالمی ادارہ (آئی ایم ایف)باقاعدہ رپورٹ میں یہ لکھے کہ پاکستان میں کرپشن اور طاقتور طبقے کی لوٹ مار (ایلیٹ کیپچر) نے ملک کی ترقی کو بری طرح روک دیا ہے، تو یہ ایک سخت وارننگ ہے کہ ملکی نظام خطرناک حد تک خراب ہو چکا ہے۔
آئی ایم ایف کی اس رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ جنوری 2023 ء سے دسمبر 2024ء کے دوران کرپشن کے خلاف کارروائیوں میں تقریباً 5.31 ٹریلین (یعنی 5,310 ارب روپے) کی رقم ریکور ہوئی ہے۔ یعنی اتنی بڑی دولت کرپشن میں ضائع ہو چکی تھی کہ جب پکڑی گئی تو اس کا صرف یہ حصہ واپس ملا۔ اصل نقصان یعنی ملک نے جتنی ترقی کھوئی، جتنے منصوبے خراب ہوئے، جتنا ٹیکس غائب ہوا وہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پچھلے دو سال میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا مجموعی حجم نہایت محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 5300 ارب روپے بنتا ہے۔ اس میں سرکاری خریداریمیں بے ضابطگیاں، ٹیکس نظام میں چوری، سرکاری اداروں کا خسارہ، سبسڈی میں بدانتظامی اور توانائی کے شعبے میں رقوم کا ضیاع وغیرہ شامل ہیں۔ یہ وہ شعبے ہیں جہاں عالمی ادارے پہلے بھی پاکستان کو شفافیت بڑھانے کی تجاویز دیتے رہے ہیں۔یہاں ایسے ہی اعداد شامل کئے گئے ہیں جو سرکاری رپورٹس یا آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سالانہ رپورٹس میں موجود رہتے ہیں۔ ان رپورٹس میں صوبوں میں کرپشن نہیں بلکہ بے ضابطگیاں درج کی جاتی ہیں، جو بدعنوانی کی ایک خوبصورت تعبیر ہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ سالوں میں پنجاب میں سرکاری خریداری، ترقیاتی فنڈز، صحت اور تعلیم کے منصوبوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ عام طور پر سالانہ بنیاد پر درج بے ضابطگیاں درجنوں ارب روپے تک پہنچتی رہی ہیں۔ جبکہ امام الکرپشن کا صوبہ، یعنی سندھ پنجاب سے کیسے پیچھے رہ سکتا ہے؟ یہاں بلدیاتی ادارے، صحت کے منصوبے اور پبلک ورکس انتہائی غیر شفاف اقسام میں شمار ہوئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹس میں اکثر اربوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پولیس بجٹ، تعمیرات اور ترقیاتی اسکیموں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں بھی ترقیاتی فنڈز، بلدیاتی نظام اور ٹھیکوں کی تقسیم پر شدید نوعیت کے اعتراضات سامنے آتے ہیں۔ ان دونوں صوبوں میں بھی بے ضابطگیوں کا حجم اربوں روپے کی سطح پر پہنچا ہوا ہے۔صوبوں کے لٹنے والے ان کھربوں روپوں سے نیب نہایت معمولی مقدار کی ریکوری کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ نیب کی دو سالہ رپورٹ میں پنجاب کو واپسی تقریباً 330ملین درج ہے، سندھ میں 320ملین کی بازیابی ممکن ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں صرف 41ملین اور بلوچستان میں صرف 5ملین روپے کی ریکوری ہوسکی ہے۔کرپشن کے گڑھ شعبے؟ سرکاری خریداری، پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اسی شعبے میں رپورٹ ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ PPRA قوانین کے تحت کام کرنے کے باوجود نرخ بڑھا کر خریداری، کم معیار کا سامان اور منظور شدہ کمپنیوں کو ترجیح سالانہ سینکڑوں ارب روپے بے ضابطگیوں کی شکل میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ ٹیکس نظام، ٹیکس چوری، غلط گوشوارے اور اندرونی ملی بھگت کی وجہ سے پاکستان ہر سال کھربوں روپے کے ٹیکس سے محروم رہتا ہے۔ توانائی کا شعبہ: یہاں دو طرح کا نقصان ہوتا ہے۔ ایک بجلی چوری اور دوسرا ناقص انتظامی فیصلے۔ سرکلر ڈیٹ کی بڑی وجہ یہی دو عناصر ہیں۔ سرکاری ادارے، پی آئی اے، ریلوے، اسٹیل مل جیسی کمپنیوں میں نقصانات بجٹ پر بوجھ بنتے ہیں، انتظامی کرپشن بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ یہ ادارے مجموعی طور پر ہر سال اربوں روپے کھا جاتے ہیں۔وہ کرپشن جو رپورٹ میں شامل نہیں؟یہ وہ شعبے ہیں جہاں کرپشن یا مالی نقصانات کا تخمینہ لگانا مشکل ہوتا ہے، مگر ماہرین ان کو خاموش کرپشن کہتے ہیں۔ زمینوں کی الاٹمنٹ اور اراضی مافیا، اس میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے، مگر درست نمبر کبھی سامنے نہیں آتے۔ ٹھیکوں کی اندرونی تقسیم: ملکی تاریخ میں بے شمار کیسز اٹھائے گئے مگر زیادہ تر بغیر نتائج کے بند ہو گئے۔ پولیس اور مقامی ادارے: یہ روزمرہ کرپشن ہے، عام شہری جس میں براہِ راست پھنس جاتا ہے۔ سبسڈی میں بے جا فائدہ اٹھانا، کئی کمپنیاں اصل حق دار نہ ہونے کے باوجود کروڑوں روپے کی سبسڈی لے جاتی ہیں۔کرپشن اور تباہی،پاکستان کی مجموعی معاشی تباہی میں کرپشن کا حصہ فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کرپشن کے عالمی اشاریے میں بھی طویل عرصے سے خراب کارکردگی دکھا رہا ہے، جو سیدھا اثر معیشت، روزگار، سرمایہ کاری اور ترقی پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان کا اسکور 27 میں سے 100 ہے۔ جتنا کم اسکور ہو، اتنی زیادہ کرپشن سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان 180 ملکوں میں سے 135ویں نمبر پر ہے۔ یعنی دنیا کے کرپٹ ترین ملکوں کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں موجود 5300ارب روپے کی رقم پاکستان کے پہلے سے دبے ہوئے معاشی ڈھانچے کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ صوبائی سطح پر بے ضابطگیاں، وفاقی اداروں کی کمزور شفافیت، ٹیکس چوری، سرکاری خریداری اور توانائی کے شعبے کی ناکامیاں، یہ سب مل کر ملک کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی دیوار بن چکے ہیں۔ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو کرپشن کا یہ بوجھ پاکستان کی معیشت کو ایک ایسے مقام تک لے جائے گا جہاں سے واپسی نہایت مشکل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں