(گزشتہ سے پیوستہ)
چین کے قبضے میں موجوداکسائی چن، بھارت کے دعوے کے مطابق لداخ کاحصہ ہے۔پاکستان کے زیرانتظام آزادکشمیراورگلگت بلتستان،بھارت کے نقشے میں ابھی تک اس کے دعوے کاحصہ ہیں،جبکہ چین اروناچل پردیش کو’’ژانگنان ‘‘یعنی جنوبی تبت کاحصہ گردانتا ہے۔آئی ایس پی آرکے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری،اب کھلے عام کہتے ہیں کہ کشمیر’’تین ملکوں‘‘بھارت، پاکستان،اورچین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے،جومسئلہ فلسطین کی طرح عالمی ضمیرکی آزمائش بھی ہے اوراس اعتراف نے بین الاقوامی منظرنامے میں ایک نیازاویہ پیدا کر دیا ہے۔
19ویں صدی میں جب برطانوی حکمران برصغیرمیں اپنی جڑیں مضبوط کررہے تھے،ان کی توجہ مشرقی سرحدوں کی بجائے تجارتی شاہراہوں اورداخلی استحکام پرمرکوزرہی۔ تبت، سنکیانگ اورلداخ کے بیچ کی بنجروادیاں انہیں اس قدربے سودمحسوس ہوئیں کہ کئی متنازع خطوطارداغ- جانسن لائن،میکارٹنی، میکڈونلڈ لائن تجویزتوہوئیں،مگربین الاقوامی حیثیت کبھی نہ پا سکیں۔ تاریخ کی دھندمیں گم سرحدیں اپناسراغ پانے کے لئے بے تاب ہوچکی ہیں۔
انگریزوں کی بے فکری اورسیاسی ابہام،ایک ایسی الجھی ہوئی میراث چھوڑگئے جس کاخمیازہ آج تین ممالک بھگت رہے ہیں۔چین، جس کی کمیونسٹ حکومت نے1949ء میں اقتدار سنبھالا،صاف کہہ چکی تھی کہ ’’ہمارے کسی عہدیدارنے کسی بھارتی نمائندے سے سرحدکاکوئی معاہدہ نہیں کیا،لہٰذاہمارے لئے یہ لکیریں کاغذی حیثیت رکھتی ہیں‘‘۔جہاں مفادات باہم ہوں، وہاں نظریات پیچھے رہ جاتے ہیں۔پاکستان اورچین کی دوستی کاآغازنظریاتی ہم آہنگی سے نہیں ہوابلکہ ایک ایسے سیاسی خلامیں ہواجہاں بھارت کاسامراجی مزاج، امریکاکی محدودپالیسی اورسوویت یونین کاابہام تینوں نے راستہ ہموارکیا۔یہ وہ دوستی تھی جوسیاست کی پگڈنڈی سے شروع ہوکرمعیشت،دفاع،سفارت اوراب سی پیک جیسے بین الاقوامی منصوبوں تک جا پہنچی ہے۔
آج چین-پاکستان تعلقات سی پیک کی شکل میں ایک نئی بلندترین سطح پرپہنچ چکے ہیں۔یہ60ارب ڈالرسے زائدکامنصوبہ،محض اقتصادی راہداری نہیں،بلکہ چین کی عالمی حکمتِ عملی بیلٹ اینڈروڈانیشی ایٹوکامرکزی سنگِ میل ہے۔جودنیاکاسب سے بڑاتجارتی اورتعمیری پراجیکٹ ہے جس پرڈھائی ٹریلین ڈالرکی لاگت متوقع ہے اوریہ دنیاکے52مماممالک کوایک تجارتی لڑی میں پروکررکھ دینے کاوہ پراجیکٹ ہے جس کاچین نے نہ صرف خواب دیکھابلکہ عملی طورپراس کی تعبیرکافائدہ بھی اٹھانے کے لئے تیارہے کہ اس نے برسوں پہلے یہ کہاتھاکہ دنیاکوطاقت سے نہیں بلکہ تجارتی دوستی کے ساتھ فتح کریں گے۔پاکستان کے لئے بھی یہ اقتصادی بقا،توانائی کاتسلسل،اورعلاقائی رسائی کاراستہ ہے،جبکہ چین کے لئے گوادر سے خنجراب تک کازمینی راستہ، مشرق وسطی اورافریقاتک رسائی کی کلیدہے۔
تاریخ کاپہیہ رکنے والانہیں،لیکن اس کے نشانات کبھی مٹتے نہیں۔جودوستی کبھی پنچ شیل کی بنیاد پر اٹھی تھی،وہ زمیں بوس ہوئی،اور جومفاہمت، مفادات اوراخلاص کی فصل پرپروان چڑھی،وہ آج بھی قائم ہے فولادکی طرح مضبوط،اورموسموں کی طرح ہم آہنگ۔ ابتدا میں یہ سوال تھاکہ کیاچین نے پہل کی یاپاکستان نے؟توتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پہل ضرورت نے کی،قدم چین نے بڑھایا،اوردستِ تعاون پاکستان نے تھاما۔دشمن کادشمن جب دوست بن جائے تویہ سیاست کی سادہ حکمت کہلاتی ہے،مگرجب یہ دوستی دہائیوں تک قائم رہے، تواسے تاریخ کی دانائی کہاجاتاہے۔
چین اورپاکستان کارشتہ اب مفادات سے کہیں آگے،نظریاتی ہم آہنگی اورجغرافیائی ہم نصیبی کارشتہ بن چکاہے۔جس دوستی کی بنیاد سرحدی تبادلے پررکھی گئی،آج وہ عالمی اسٹیج پر مشترکہ بیانیہ،دفاعی اشتراک،اورسفارتی ہم آہنگی میں ڈھل چکی ہے۔اس طرح ایک نکتہ آغازسے ایک نظریاتی ہم آہنگی تک کایہ سفرفولای دوستی میں تبدیل ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ اب اس خطے پاک چین دوستی نے مودی اوراس کے اتحادیوں کی رات کی نیندیں اوردن کاچین کیوں بربادکردیا ہے؟اس کی سب سے بڑی وجہ پہلے توقوم پرست مودی اورآرایس ایس کاوہ نظریہ ہے جواکھنڈبھارت بنانے کاخواب دیکھ رہے ہیں کہ جہاں جہاں بحرہندکاساحل لگتاہے،وہ اکھنڈبھارت کاحصہ ہے اوردوسری طرف گریٹر اسرائیل کاخواب جواب ایک نقشے کی صورت میں نصف درجن مسلم مملکتوں کی سرزمین پرمشتمل ہوگااوریہودوہنودمملکتوں کی سرحدیں آپس میں مل جائیں گی اورسابقہ یہودی امریکی وزیرخارجہ سیکرٹری ہنری کیسنجرکاتخلیق کردہ ورلڈآرڈر جیساناپاک منصوبہ معرضِ وجودمیں آئے گا۔
یہ دنیاہمیشہ سے طاقت کے ترازومیں تولی جاتی رہی ہے۔کبھی سلطنتوں کے خیمے لہراتے تھے،اب کرسی کی چمک آنکھوں کوخیرہ کرتی ہے۔ماضی میں بھی بادشاہوں نے اپنی رعایاکو ’’جنت نشین‘‘کہا،اورآج جمہوریت کے علم بردارانہیں ’’قوم پرست‘‘کہہ کرجھانسہ دیتے ہیں۔ مگر کھیل وہی ہے،مہرے بدل گئے ہیں،چالیں باقی ہیں۔ جنگ کانیا بازارآج بھی گرم ہے،فرق اتناہے کہ تلواروں کی جگہ اب ٹی وی اسکرینوں پرنعرے گونجتے ہیں‘‘۔
(جاری ہے)