Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

ڈیل ، ڈھیل اور ہیجانی سیاست

سیاسی منظر نامے میں انتشار کا عنصر کم نہیں ہونے پا رہا۔ تحریک انصاف اگرچہ صوبہ کے پی میں برسر اقتدار ہے لیکن تمام ادائیں حزب اختلاف والی ہیں۔جیل میں سابق وزیراعظم کی موت کی افواہ پھیلا کر جو ہیجان پیدا کیا گیا وہ اب کچھ کم ہوا ہے۔ جماعت کے شعلہ بیاں ترجمان اور بیرون ملک پناہ گزین کچھ سوشل میڈیائی سورما تحریک انصاف کے جذباتی لیکن نادان ہمدردوں کے جذبات بھڑکانے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ پہلے کہا گیا کہ خان ڈٹ گیا ہے ۔پھر کہا گیا کہ بانی چیئرمین کی صحت ناساز ہے۔ یہ نعرے لگائے گئے کہ عوام کا جم غفیر حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔ پھر سیاسی ملاقاتوں کے معاملے پر شعلہ بیانی کی گئی ۔ اب شنید ہے کہ در پردہ’ڈیل‘ کے ذریعے’ڈھیل‘ کے حصول کی تگ و دو جاری ہے ۔ایسی خبروں کی تصدیق یا تردید ہر دو فریقین کے ذمے لازم ہے۔ ارباب اقتدار اپنے پائوں مضبوط کر رہے ہیں جبکہ اصحاب انصاف ان کے پائوں سے زمین کھینچنے میں مصروف ہیں۔ سوجھ بوجھ رکھنے والے یہ مشورہ دیتے ہیں کہ کے پی صوبے میں کارکردگی پر توجہ دینا ضروری ہے۔ صوبے میں تحریک انصاف کا تیسرا دور اقتدار جاری ہے ۔دہشت گردی، لاقانونیت اور انتظامی معاملات میں بہت سی خامیاں اب تحریک انصاف کے حسن کارکردگی کو مسخ کر رہی ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حالیہ شکست کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا سکتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ جو صوبہ جماعت کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے کیا وہاں اب عوام کا مزاج بدل رہا ہے؟ تحریک انصاف کی حالیہ قیادت یہ پہلو نظر انداز کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی صفوں میں ان شعلہ بیاں حضرات کو پذیرائی مل رہی ہے جو احتجاج اور محاذ آرائی کے علم بردار ہیں۔ ہر انتخابی شکست کو دھاندلی کا شاخسانہ قرار دے کر صوبائی حکومت کی کارکردگی کے تنقیدی جائزے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مظلومیت کا بیانیہ چونکہ سوشل میڈیا پر ہاتھوں ہاتھ بک رہا ہے اس لیے تحریک انصاف کے باضابطہ عہدے دار اور خود ساختہ ترجمان اسی راگ میں اپنا کلام پیش کر رہے ہیں۔ ہمہ وقت غیر مصدقہ خبروں کی بنیاد پر سیاسی ہیجان پھیلا کر اپنے ہمدردوں کو بہلایا پھسلایا تو جا رہا ہے لیکن سیاسی میدان میں کوئی قابل ذکر پیشرفت دکھائی نہیں دے رہی۔
رفتہ رفتہ تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت اپنی ساکھ گنوا رہی ہے۔ جس خبر کو بنیاد بنا کر جارحانہ بیانیہ بنایا جاتا ہے وہ چند گھنٹوں بعد ایک افواہ ثابت ہو جاتی ہے۔ اس طرز عمل نے سنجیدہ حلقوں میں بطور سیاسی جماعت تحریک انصاف کی مجموعی ساکھ کو بے حد متاثر کیا ہے۔ حالیہ مثال وہ جھوٹی خبریں ہیں جو سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران قید وفات پا جانے کے حوالے سے پھیلائی جاتی رہیں۔ ان جھوٹی خبروں کی بدولت تحریک انصاف کے حامیوں اور سابق وزیراعظم کے مداحوں کو بے حد رنج اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ صد شکر کہ ان کی ہمشیرہ نے گزشتہ روز جیل میں ملاقات کے بعد اپنے بھائی کی صحت اور سلامتی کے حوالے سے تمام خدشات اور جھوٹی خبروں کی تردید کر دی ۔یہ عمل قابل غور ہے کہ تحریک انصاف کے بانی کی سلامتی کے حوالے سے جھوٹی خبروں کو ہوا دینے میں بھارتی میڈیا اور بعض غیر ملکی سوشل میڈیا اکائونٹس پیش پیش رہے۔
یہ حقیقت شبے سے بالا ہے کہ پاکستان کا سیاسی استحکام ہمارے ازلی دشمن بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہے۔ معرکہ حق میں آپریشن سندور کی شرمناک ناکامی مودی سرکار اور بی جے پی کے لیے عمر بھر کا طعنہ بن چکی ہے۔ عسکری شکست کے بعد عالمی سطح پر ہر قابل ذکر سفارتی محاذ پر بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عسکری اور سفارتی شکستوں کی جلن مودی سرکار کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی ۔پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ہندوستان نے چومکھی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند دہشت گرد گروہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا کر ہر ترقیاتی منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔کے پی صوبے میں طالبانی دہشت گردی عروج پر ہے۔ یہ دونوں گروہ افغانستان کی سرزمین پر بھارت کی چھتری تلے افغان عبوری حکومت کے تعاون سے سرگرم عمل ہیں۔ریاست پاکستان نے ان دہشت گرد باغی گروہوں کو فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان قرار دے رکھا ہے۔ طالبان کی عبوری حکومت سے پاکستان کی بڑھتی کشیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس تناظر میں کے پی کی صوبائی حکومت کا کردار بہت سنجیدگی کا متقاضی ہے ۔ سیاسی اختلافات کو ریاست کے خارجہ امور میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ کے پی صوبے میں غیر قانونی تارکین وطن افغان شہریوں کا معاملہ بے حد حساس ہے۔ ان تارکین وطن کی آڑ میں دہشت گردوں کے ہمدرد اور سہولت کار معصوم پاکستانیوں کا لہو بہاتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اس اہم معاملے پر گو مگو کا شکار ہے۔ وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی رویہ دہشت گردی جیسے اہم معاملے پر تحریک انصاف کے اجتماعی شعور کو متاثر کر رہا ہے ۔
غیر قانونی افغانیوں اور کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے صوبائی حکومت کو پورے ملک کی سوچ سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ بھارت کی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے والے گروہوں سے مذاکرات کا بیجا اصرار تحریک انصاف کی کج فہمی کا ثبوت ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف اعلانیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس زہریلی سوچ نے سیاست سمیت کھیلوں اور ثقافتی رابطوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے کشیدہ حالات میں تحریک انصاف کے خیر خواہوں کا بھارتی میڈیا پر اظہار رائے کرنا مناسب نہیں ۔گو آئین و قانون کے تحت وہ اپنا بیانیہ دنیا بھر میں پیش کرنے میں آزاد ہیں لیکن آپریشن سندور کے بعد بھارت میں اٹھنے والی پاکستان دشمنی کی لہر اس امر کی متقاضی ہے کہ تحریک انصاف بھارتی میڈیا پر انحصار کرنے سے گریز کرے۔

یہ بھی پڑھیں