تاریخ کے لمحے جب کروٹ لیتے ہیں توان کی آہٹ صرف ایوانِ سلطنتوں میں نہیں سنائی دیتی،وہ قوموں کی روح میں اترکران کے مقدر کو نئے افق عطاکرتی ہے۔آج کی دنیاجس انتشار، اضطراب اورتہذیبی بیسمتی میں گھری ہوئی ہے، وہاں طاقت کے دودیوتاعقاب اوراژدہازمین کے نقشے رنگ رہے ہیں،مگرانسانیت کاضمیراب بھی ایک ایسی صداکامنتظرہے جواسے اس مادی طوفان کے شورسے نکال کراپنے باطن کی طرف لے جائے۔
دنیاکی سیاسی بساط پرجونقشے بنتے اورمٹتے رہتے ہیں،وہ صرف طاقت کے معرکوں کی کہانی نہیںیہ تہذیبوں کے خواب،قوموں کی روحوں میں اترتی صدیاں،اورتاریخ کے وہ لمحے ہیں جوپوری انسانیت کے مقدرکادھارابدل دیتے ہیں۔آج جب زمین کی سیاست عقاب واژدہے کی کشمکش میں سلگ رہی ہے،جب طاقت کے عالمی ستون لرزرہے ہیں اورتہذیبوں کی جڑیں نئے سوالات کے سامنے ڈگمگارہی ہیں،ایسے میں امتِ مسلمہ ایک بارپھرتاریخ کے موڑپرکھڑی ہے؛بالکل ویسے ہی جیسے بدرکی ریت میں،قسطنطنیہ کے دروازوں پر،یاغرناطہ کی خاموش گلیوں میں۔
اسی ہنگامِ دوراں میں کوئٹہ کاشہرجو تہذیبوں کے سنگم پرایستادہ اورصدیوں کی تہذیبی گواہیوں کاامین ہے اچانک ایک نئے نور سے روشن اورایک ایسی فکری روشنی کامرکزبناہے جہاں علامہ اقبال کاجہانِ فکرنئے سرے سے جگمگا اٹھا ہے۔یہاں منعقدہ سہ روزہ عالمی اقبال کانفرنس گویاقرونِ وسطی کی دانش گاہوں،بغدادوقرطبہ کی علمی محفلوں،اوردہلی ولاہورمیں گونجتی اقبال کی صداکا تسلسل بن گئی۔یہ اجتماع نہ صرف عالمِ اسلام کی فکری دھڑکنوں کویکجاکرتاہے بلکہ عصرِحاضرکے ذہنی انتشارمیں روحِ اقبال کی دوبارہ بیداری کااعلان بھی ہے۔
یہ اجتماع محض اہلِ علم کااکٹھ نہیں،یہ زمانے کی رفتارسے مکالمہ ہے؛ایک ایسامکالمہ جو نوجوانوں کوبتاتاہے کہ نہ امریکی عقاب کی جارحیت میں کوئی نجات ہے اورنہ چینی اژدہے کی حکمت میں کوئی بے خطاراستہ۔راستہ صرف وہی ہے جس کی طرف اقبال نے اشارہ کیاشاہین کی آزاد پرواز، خودی کی آگ،ایمان کی حرارت اورانسانیت کی خدمت کاجہان۔
یہ کانفرنس گویا تاریخ کے سینے پردستک ہے،امت کے سوئے ہوئے شعورکوجھنجھوڑنے کی ایک جرات ہے،اوراس یقین کااعلان ہے کہ اقبال آج بھی زندہ ہیں،ان کاپیغام آج بھی منزلوں کاتعین کرتاہے اورآج بھی قوموں کے مقدرکا چراغ بن سکتاہے۔
یہ وہ ساعت ہے جس میں تاریخ،تہذیب اورفکرکی تمام ندیاں ایک دوسرے سے آملتی محسوس ہوتی ہیں؛اورکوئٹہ کایہ اجتماع اس بات کی روشن دلیل بن گیاہے کہ قومیں جب اپنے فکری مرکزکی طرف لوٹتی ہیں توان کی تقدیرنئے سرے سے لکھ دی جاتی ہے۔اس عظیم فکری توشہ خانے کی ترتیب وتکمیل میں جس اخلاص،جانفشانی اور محبت کاکردارہے،اس کاسہراحافظ طاہر اوران کی پوری مخلص ٹیم کے سرہے وہ ٹیم جونہ صرف اقبال سے محبت رکھتی ہے،بلکہ اس محبت کوعمل کالباس پہناتی ہے۔اقبال شناسی کی یہ مشعل انہوں نے اس اندازسے روشن کی ہے کہ بلوچستان ہی نہیں پورا پاکستان،پوراعالمِ اسلام ان کاممنونِ احسان ہے۔
دنیاکے سیاسی افق پرجونقش ونگارابھررہے ہیں،وہ محض طاقت کے بدلتے ہوئے مراکزکی داستان نہیں بلکہ تہذیبوں کے باطنی میلان، فکری دھاروں اورتاریخی عمل کی گہری تہوں میں اتر جانے والی وہ کروٹیں ہیں جوقوموں کی زندگی میں فیصلہ کن موڑبن جاتی ہیں۔ دنیاکی تاریخ صرف واقعات کی تکرارنہیں،قوموں کے مزاج اور تہذیبوں کے باطن میں چلتی ہوئی وہ خفیف مگرفیصلہ کن لہریں ہیں جو تمدن کی سمت متعین کرتی ہیں۔ قومیں جب اپنے اندرجھانکنابھول جائیں توبیرونی علامتیں ان کے افکارپرنقوش ثبت کرتی چلی جاتی ہیں۔ دنیاکی تاریخ کے اوراق پرجب ہم نظر دوڑاتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ طاقت اور تہذیب ہمیشہ علامتوں میں سوچتی اوراستعاروں میں بولتی آئی ہے۔کبھی شیردبدبے کی علامت بنا ، کبھی گھوڑا چستی کی،کبھی بازشاہانہ رعب کانشان ٹھہرا اور کبھی اژدہاخوف اورحکمتِ عملی کامجموعی تصور بن گیا۔علامتیں قوموں کے مزاج،ان کے نفسیات اوران کی اجتماعی زندگی کی کشتی کو دھار انوربناتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جدیددنیانے بھی اپنی سیاسی کہانی علامتوں سے لکھی:امریکاکاعقاب عسکری تسلط کانشان بناتوچین کااژدہا اس کی تہذیبی حکمت، صبر، معاشی پھیلااوردیرپاتزویراتی مزاج کا مظہر ٹھہرا۔
عصرِحاضرمیں امریکاکے عقاب کوجس طرح قوت وغلبہ کااستعارہ بنایاگیاہے اورچین کے اژدہے کوحکمتِ عملی،معاشی رسوخ اور تہذیبی تسلسل کی علامت سمجھاجارہاہے،وہ دراصل دنیاکی ان دوہمہ گیرروایتوں کی ترجمانی ہے جوطاقت کے حصول میں مختلف راستے اپناتی ہیں۔آج کے سیاسی منظرنامے میں اگرامریکاکاعقاب طاقت کااستعارہ بن چکاہے اور چین کااژدہاقوت وحکمتِ عملی کا،تو یہ دونوں علامتیں دراصل طاقت کی اس کشمکش کی ترجمان ہیں جواکیسویں صدی کے افق پرروزِاول کی طرح تازہ ہے۔مگرعلامہ اقبال نے اپنے نوجوان کوان دونوں سے الگ اوربلندایک ایسی مخلوق سے نسبت دی جس کے پروں میں آفاق کی وسعت اورنگاہ میں بصیرت کی روشنی ہے۔
ایک جانب عسکری قوت،بین الاقوامی سیاست اورمالی بالادستی؛دوسری جانب تدبیر، صبر، وقت کی رفتارکواپنے حق میں موڑنے کی دیرینہ مہارت اورتہذیبی ضبط۔ لیکن علامہ محمد اقبالؒ نے جب اپنے نوجوان کوشاہین کہاتووہ ان دونوں روایتوں سے یکسرمختلف، ماورااورکہیں بالاتر تصور لے کرسامنے آئے۔علامہ اقبالؒ نے اپنے نوجوان کو شاہین کہا،تووہ ان دونوں علامتوں سے کہیں ماورا اورکہیں بالاترتصور لے کر سامنے آئے۔ اقبالؒ کاشاہین نہ سامراجی عقاب ہے نہ کثیر التہذیبی حکمت سے لبریزاژدہا۔اس کی اصل نہ غلبے میں ہے نہ چالاکی میں،بلکہ خودی کی اس لومیں ہے جس سے انسان اپنے اندرخداکی نیابت کا شعوربیدارکرتاہے۔یہی وہ بامعنی فرق ہے جو اقبالؒ کے شاہین کوعصرِحاضرکے عقاب اوراژدہے کی عالمی کشمکش میں ایک منفردمقام دیتاہے۔
امریکی عقاب طاقت وبرتری کی علامت ضرور ہے،مگراس کی پروازکامدارزمین کے وسائل اوردنیاوی غلبے کی کششِ ثقل میں بندھا ہوا ہے۔ یہ عقاب جس آسمان کامسافرہے،وہ سیاست کے پیچ درپیچ، معیشت کی حرص اورعسکری قوت کے غرورسے بھراہواہے۔اس کی نگاہ تیز ضرورہے،مگراس تیزی میں وہ خودغرضی شامل ہے جودوسروں کے آشیانوں کو تاراج کرنے میں عارمحسوس نہیں کرتی۔ اقبال ؒکاشاہین اس کے برعکس ہے۔وہ خاکبازی سے آزاد،قیدوبندسے ماورا، اورغنیمتِ دنیاسے بے نیازہے۔وہ رزقِ حلال کی جستجومیں اپنی چونچ کومردارسے آلودہ نہیں کرتا۔ وہ پہاڑوں کی تیزہواں میں پلتااور بلند مقامات کی خلوتوں میں اپنے آپ کو پہچانتا ہے۔اقبال کا شاہین دنیاوی تسلط کی علامت نہیں بلکہ خودی کی عظمت،روح کی آزادی اوراخلاقی بلندی کامژدہ ہے۔اس کی دنیامیں فتح وشکست کا معیاروہ نہیں جوسامراجی قوتیں طے کرتی ہیں۔وہ راستہ وہیں بنتادیکھتاہے جہاں دوسروں کیلئے صحرائے محشرکاساسناٹاہے۔گویااقبال نے نوجوانِ مسلم کواس بلندہمتی کی طرف بلایاجس میں طاقت، اخلاق کی دہلیزپارکیے بغیرجمال بن جائے۔
اقبالؒ کاشاہین ایک ایساکردارہے جس کی پروازکے پیچھے نہ شرقِ اقصیٰ کااژدہاہے نہ غربِ بعیدکاعقاب؛بلکہ اس کی پوری قوت اس کے باطن،اس کی خودی اوراس کی روحانی تربیت میں پوشیدہ ہے۔اقبال ؒنے بجاطورپرکہاکہ شاہین کارزق مردارنہیں اوراس کابسیرا بلندیوں میں ہے۔یہ محض ایک حیوانی صفت نہیں بلکہ نوجوانِ مسلم کی اس تطہیرِکردارکی طرف اشارہ ہے جس میں بلندہمتی،پاکیزگیِ خیال،قوتِ ارادی اور اخلاقی استقامت کاوہ امتزاج موجودہے جواسے دنیا کی طاقت کی روایتی علامتوں سے الگ کردیتا ہے۔ اس تمثیل کے تاریخی جوازکیلئے اگرہم اقبال کے مکاتیب،خطبات اورعلمی مراجع کی طرف رجوع کریں توپتہ چلتاہے کہ انہوں نے یہ استعارہ محض شاعرانہ ذوق سے نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کے اس فکری سرمایہ سے لیاجوابتدائے اسلام سے لے کرسلطنتِ عثمانیہ کے زوال تک امت کوبلندعزائم اورعالی ہمتوں کی دعوت دیتارہا۔تشکیلِ جدید الہیاتِ اسلامیہ (1930)میں اقبال نے صراحت کی کہ مسلمان کی قوت اس کی اخلاقی خودمختاری اورخالق کے حضورجواب دہی میں مضمرہے،نہ کہ زمین کے وسائل پرقبضے میں۔یہی تصوربعد ازاں ضربِ کلیم اوربالِ جبریل کی شاہین تمثیل میں مزید واضح ہوتاہے۔
(جاری ہے)