Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

شبِ عروس قونیہ، ترکی رومی محبت اور وصال کی ایمان افروز تقریب

قونیہ ترکی کا وہ مقدس شہر ہے جہاں مولانا جلال الدین رومی نے اپنی روحانی زندگی کے سب سے روشن اور گہرے برس گزارے، اور جہاں ان کی محبت خدا کا نور آج بھی جگمگا رہا ہے۔ ہر سال 17 دسمبر کی شب قونیہ ایک روحانی چراغ دان بن جاتا ہے۔
یہ وہی رات ہے جسے شبِ عروس کہتے ہیںوہ مبارک لمحہ جب رومی دنیاوی پردے سے اٹھ کر محبوبِ حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ رومی نے اسے کبھی بھی موت نہیں کہا؛ وہ ہمیشہ اسے شبِ وصال اور شبِ ملاقات کہنے کی وصیت رتے رہے۔
753 برس سے یہ رات ترک سرزمین پر عشقِ الہی کی سب سے عظیم علامت بن چکی ہے۔ دنیا بھر سے اللہ کے عاشق قونیہ کا رخ کرتے ہیںامریکہ، یورپ، برطانیہ، ایران، عرب دنیا، اور ایشیا سیسرکاری و سفارتی شخصیات، علما، صوفیا، دانشور، درویش اور عام عقیدت مند، سب صرف ایک مقصد کے ساتھ جمع ہوتے ہیں:محبتِ خدا کو محسوس کرنا، اس میں ڈوب جانا، اور اسے دنیا بھر میں پھیلانا۔اور روح ا سون پانا اس رات قونیہ کا شہر نور عشق میں نہا جاتا ہے‘گلیاں خاموش ہو جاتی ہیں، دل جاگ اٹھتے ہیں،اور فضا آہستہ آہستہ یہ پیغام سناتی ہے:یہ ملاقات کی رات ہے عاشقوں کی شبِ وصال!
یہ وہ ساعت تھی جب رومی نے جسمانی دنیا کو چھوڑا،لیکن ان کی روح، ان کا نور، ان کی خوشبو اور ان کی محبت ترک سرزمین پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئی اور یہ محبت خدا علامت بن گئی۔ اسی لیے قونیہ کو کعب عشاق کہا جاتا ہیوہ مقام جہاں محبتِ خدا میں رنگ و نسل اور زبان کی تمام سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔شبِ عروس کا راز شمس و رومی کی ملاقات، الہی معرفت اور نورِ خدا کی تجلی شبِ عرس کا اصل راز رومی کی زندگی کے اس مبارک لمحے سے پھوٹتا ہے جب شمسِ تبریزی نے ان کے دل میں الہی عشق کا دروازہ کھولا۔علم نور میں بدل گیا، نور محبت میں ڈھل گیا،اور محبت ایسا بہتا ہوا الہی دریا بنی جو آج تک انسانیت کے دلوں کو سیراب کر رہی ہے۔
رومی اپنے سفرِ عشق کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں:میں خوش ہوں میں اپنے رب سے محبت کرتا ہوں اور اللہ کے تمام بندوں سے محبت کرتا ہوں۔
سماع خاموش دعا، بے آواز ذکر، اور قلب و روح کا طواف محبت خدا میں۔ شبِ عرس کی سب سے لطیف، پاکیزہ اور روحانی کیفیت سماع ہے۔یہ کوئی رقص نہیںیہ دعا ہے، ذکر ہے، ایک بے آواز فریاد ہے۔درویش حقیقت کے مرکز کے گرد گردش کرتے ہیں:ایک ہاتھ آسمان کی طرف اللہ کی عطا و فیض کا نشان،دوسرا ہاتھ زمین کی طرف مخلوقِ خدا کی خدمت کی علامت۔سفید لباس نفس کے مرنے اور فنا ہونے کی علامت ہے۔ان کا گھومنا روح کے اللہ کے نور کے گرد طواف کی مانند ہے۔ہر گردش دل کے اندر یہ نغمہ پیدا کرتی ہے:میں تیرے سوا کسی کا نہیںاے خدا قونیہ کا یہ اجتماع سات صدیوں سے زندہ معجزہ1273 سے آج تک 17 دسمبر کی یہ رات کبھی ماند نہیں پڑی۔ہر سال نئے نور، نئی تازگی اور نئی معنویت کے ساتھ لوٹتی ہے۔
رومی جسمانی طور پر رخصت ہو گئے،لیکن ان کی موجودگی ان کا عشق، ان کی خوشبوآج بھی قونیہ میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ان کی مثنوی، ان کی حکمت، ان کی شاعری اور ان کی تعلیمات آج بھی اسی طرح زندہ، روشن اور تازہ ہیں جیسے ابھی کہی گئی ہوں۔رومی ہر اس دل میں زندہ ہیں جو اللہ کو تلاش کرتا ہے،اور ہر اس روح میں جو محبت سے روشن ہوتی ہے۔
رومی کی وصال کی باتیںجب میں اس دنیا سے جائوں گاوہ انجام نہیں وہ ملاقات رب جو محبوب سے وصال ہے میں مسکرایا، کیونکہ میں اپنے محبوب تک پہنچ کر ہی حقیق اور ابد زندگی پائوں گا شبِ عروس اللہ کے عاشق شاعر رومی کی موت کی رات نہیں،بلکہ انسان کی بیداری کی رات ہے۔وہ بیداری جس میں دل ہر شے میں اللہ کو دیکھنے لگتا ہے،محسوس کرنے لگتا ہے،اور انسان خالق کی محبت سے مخلوقِ خدا کو جوڑنے کا راز پا لیتا ہے۔
753 برس سے قونیہ میں جاری موجِ عشق کی گواہی اور محفلِ عشق یہ پیغام دیتی ہے: موت اندھیرا نہیںروشنی ہے۔موت فنا نہیںبقا ہے۔موت غم نہیںوصال اور خوشی ہے۔یہ وہ رات ہے جب زمین خاموش رہتی ہے،آسمان نغم وصال گاتا ہے،اور عاشقانِ حق عشقِ الہی میں محو ہو کرقونیہ میں پروانوں کی طرح جمع ہوتے ہیںاور روحانی سکون پاتے ہیں ۔ راقم کو یہ سعادت ہر سال حاصل ہورہی ہے۔ الحمد للہ

یہ بھی پڑھیں