پنجاب کونسل اف دی آرٹس ڈیرہ غازی خان نے عظیم صوفی شاعر خواجہ غلام فرید کی شخصیت، شاعری اور ان کے افاقی پیغام سے عام ادمی اور خصوصا نوجوانوں کو روشناس کرانے کے لیے تین روز خواجہ غلام فرید انٹرنیشنل کانفرنس کا اہتمام کیا ،یہ کانفرنس کمشنر جناب اشفاق احمد چوہدری کی سرپرستی میں ہوئی اس کانفرنس میں غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے وائس چانسلر جناب اشفاق احمد چٹھہ کا بھرپور تعاون حاصل رہا یہ کانفرنس 15اور 16 دسمبر کو آرٹس کونسل ڈیرہ غازی خان کے آڈیٹوریم جبکہ تیسرا روز کوٹ مٹھن میں خواجہ فرید کے مزار پر حاضری تھی۔ کانفرنس کا افتتاح کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن جناب اشفاق احمد چوہدری نے کیا اس موقع پر ملک کے ممتاز خطاط اختر تحسین اور عبدالعزیز کے خواجہ غلام فرید کی شاعری پر مبنی فن پارے نمائش کے لیے رکھے گئے تھے، حلقہ ارباب ذوق کی طرف سے آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں روہی کا خوبصورت ماڈل پیش کیا گیا، آرٹس کونسل کی عمارت اور آڈیٹوریم کو فریدی رومال سے ڈیزائن کیے گئے پینافلیکسس سے سجایا گیا، تمام مندوبین کو فریدی رومال پہنائے گئے افتتاحی سیشن کی صدارت کمشنر اشفاق احمد چودھری نے کی، نظامت کے فرائض ڈاکٹر راشدہ قاضی اور پروفیسر محبوب جھنگوی نے ادا کئے، تلاوت عبدالرحمن معینی جبکہ نعت شریف محمد اسلم کلاچی نے پیش کی، ڈائریکٹر آرٹس کونسل مقبول احمد رانا نے سپاسنامہ پیش کیا کانفرنس کے تمام مندوبین اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا غازی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اشفاق احمد چٹھہ کی نمائندگی پروفیسر ڈاکٹر ارشد منیر لغاری نے کی اور وائس چانسلر کا پیغام پڑھا اور کانفرنس کے انعقاد پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا ،کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن جناب اشفاق احمد چودھری نے اپنے صدارتی خطاب میں آرٹس کونسل کی انتظامیہ کو خواجہ غلام فرید انٹرنیشنل کانفرنس کے شاندار انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ خواجہ غلام فرید کی شخصیت متنوع صفات کی حامل تھی وہ عالم دین تھے صوفی باصفا تھے اور بلند پایہ شاعر تھے یہ ان کی شاعرانہ عظمت ہے کہ ان کا ایک ایسا مکمل دیوان موجود ہے جو سوز و ساز _عشق، مناظر قدرت کی دلکشی اور تصوف کے باریک مسائل پر مشتمل ہے ان کے کلام میں وحدانیت، عشق رسول ،مناظر فطرت ،امن، بھائی چارے اور برداشت کا سبق ملتا ہے جس کی آج بہت ضرورت ہے کانفرنس کے پہلے روز کا دوسرا سیشن خواجہ غلام فرید کی زندگی اور ان کی شخصیت کے حوالے سے تھا اس سیشن کے ماڈریٹر پی ایچ ڈی سکالر ضیا اللہ سیال تھے، اس انٹرویو ڈائیلاگ میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ سرائیکی کا سربراہ ڈاکٹر ممتاز خان اور لیہ سے ائے ہوئے سکالر، رائٹر ڈاکٹر حمید الفت ملغانی تھے اس ڈائیلاگ میں خواجہ غلام فرید کی شخصیت اور ان کی زندگی کے مختلف گوشوں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی اس سیشن کے بعد فلاور سکول کے بچوں نے خواجہ غلام فرید کی کافی “پیلھوں پکیاں نی” پر خوبصورت ٹیبلو پیش کیا اس کے بعد ماہر فریدیات ڈاکٹر شہزاد قیصر اور انٹرنیشنل سکالر عدنان خان کے پیغامات ڈپٹی ڈائریکٹر نعیم اللہ طفیل نے پڑھ کر سنائے۔ تیسرا سیشن خواجہ غلام فرید کی شاعری پر مشتمل تھا ممتاز دانشور اور گورنمنٹ کالج لیہ کے سابق پرنسپل ڈاکٹر مزمل حسین نے خواجہ فرید کی شاعری نو ابادیاتی تناظر میں پر پرمغز مقالہ پیش کیا ان کے بعد ماہر فریدیات مجاہد جتوئی نے خواجہ غلام فرید کی شاعری کے فنی محاسن پر سیر حاصل گفتگو کی اس کے بعد سوال جو اپ کا سیشن ہوا مہمانوں کو یادگاری شیلڈیں پیش کی گئی کانفرنس کی پہلی شب محفل مشاعرہ برپا ہوئی جس کی صدارت سرائیکی وسیب کے ممتاز شاعر عزیز شاہد نے کی جبکہ نظامت اصغر گرمانی نے کی دیگر معروف شعرا میں قربان کلاچی، محبوب جھنگوی، صابرہ شاہین، منظور بھٹہ، مخدوم نوید ستاری، اسحاق علیم، شاہدہ وفا علوی، خلیل فریدی اور اسلم کلاچی نے اپنا کلام پیش کیا۔
کانفرنس کے دوسرے روز خواجہ غلام فرید کی شاعری کے مناظر پر مبنی مقابلہ مصوری ہوا جبکہ کانفرنس کا موضوع “خواجہ فرید کی شاعری میں پیغام” تھا اس سیشن کے ماڈریٹر پروفیسر محبوب جھنگوی تھے گورنمنٹ ایس کالج بہاولپور کے شعبہ سرائیکی کے سربراہ ڈاکٹر عصمت اللہ شاہ نے “عصر حاضر میں خواجہ فرید کے پیغام کی اہمیت” خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان کے راجن پور کیمپس کے استاد ڈاکٹر ارسلان شبیر نے” عصر حاضر میں بین المذاہب ہم اہنگی میں صوفیا اور مسلم حکمرانوں کے افکار و کردار کے اثرات” غازی یونیورسٹی کی ڈاکٹر راشدہ قاضی نے سک اور مونجھ پر بات کی، اس موقع پر امریکہ کی ریاست نیویارک میں موجود ڈیرہ غازی خان کے شاعر حماد خان کا خواجہ غلام فرید کو منظوم خراج تحسین پیش کیا گیا ،انٹرنیشنل سکالر ندیم سعید نے نیویارک سے خواجہ فرید کی شاعری میں انسانیت، برداشت اور بھائی چارے کے حوالے سے بات کی ،گورنمنٹ کالج راجن پور کے سابق پرنسپل ڈاکٹر شکیل پتافی نے “انسانی اقدار کو مضبوط کرنے میں خواجہ فرید کے کلام اور ان کے کردار” کے حوالے سے گفتگو کی اس سیشن میں ممتاز صوفی سکالر صاحبزادہ عاصم مہاروی چشتی اہم مقرر تھے انہوں نے اپنی گفتگو میں “صوفی ازم اور روحانیت کی اہمیت اور خواجہ فرید کے مقام” پر بات کی ان کی گفتگو کے بعد سوال اور جواب کا سیشن ہوا پروفیسر محبوب جھنگوی نے کانفرنس کے دو روز کا خلاصہ حاضرین کے سامنے پیش کیا دوسرے روز کے اس سیشن کے اختتامی تقریب تقسیم انعامات پر مشتمل تھی نظامت محبوب جھنگوی نے کی ممبر پنجاب اسمبلی محمد حنیف خان پتافی نے شرکاء میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیں،مقابلہ مصودی میں حبیب الرحمن نے اول قرۃ العین نے دوسری جبکہ انعم فاطمہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی، پوزیشن ہولڈرز میں نقد انعامات جبکہ تمام شرکاء کو سرٹیفیکیٹس پیش کیے گئے، مہمان خصوصی حنیف خان پتافی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواجہ فرید امن، محبت کے شاعر تھے ان کا کلام میں بھائی چارے اور برداشت کا پیغام ملتا ہے ،کانفرنس کی دوسری شب محفل موسیقی پر مشتمل تھی، محبوب جھنگوی نے پروگرام کی کمپیرنگ کی پٹھانے خان کے بیٹے اقبال پٹھانے خان روہی کے فنکار موہن بھگت اور اعظم لاشادی نے محفل موسیقی میں اپنے فن کا جادو جگایا اس محفل میں وقاص اور ان کی ٹیم نے صوفی رقص پیش کیا کانفرنس کے تیسرے روز شرکاء کو آرٹس کونسل سے خواجہ فرید کے دربار کوٹ مٹھن شریف لے جایا گیا انہیں دربار سے ملحقہ خواجہ فرید میوزیم کا دورہ کرایا گیا، خواجہ فرید سے منسوب نوادرات کلمہ نسخے اور دیگر تبرکات دکھائے گئے ،شرکاء نے خواجہ فرید کے مزار پر فاتح خوانی کی، ملک کی سلامتی استحکام کی دعائیں کیں اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب کونسل آف دی آرٹس محبوب عالم، ڈائریکٹر پنجاب کونسل آف دی آرٹس مقبول احمد رانا، ڈپٹی ڈائریکٹر نعیم اللہ طفیل، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز فضل کریم قاسم کھوسہ اور تمام عملے کو مبارکباد دی.












تحریر : انجینئر محمد عمر خان