Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پانچ گستاخوں کا مقدمہ

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شئیر کرنے والے ملعون گستاخوں کے مقدمات کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے، محترم ڈاکٹر کامران سرور ایڈوکیٹ نے ایسے ہی ایک عدالتی 37 صفحات پر مشتمل فیصلے سے اہم معلومات اخذ کرکے یہ معلوماتی تحریر لکھی ہے،وہ لکھتے ہیں کہ مقدمے میں ایف آئی آر نمبر 89 مورخہ 12 ستمبر 2022 ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل راولپنڈی میں درج کی گئی۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295-A، 295-B، 295-C، 34 اور 109 کے علاوہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعات 11 اور 22 کے تحت قائم کیا گیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ عمر نواز نے درخواست دائر کی کہ واٹس ایپ، ICQ اور KIK جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف گروپس بنائے گئے ہیں، جہاں ملزمان نازیبا اور توہین آمیز مواد مسلسل شیئر کر رہے ہیں۔ الزام ہے کہ ملزمان نے فحش تصاویر پر قرآنِ مجید کی آیات، اللہ تعالیٰ کا اسمِ مبارک، نبی کریم ﷺ کا نامِ اقدس اور امہات المؤمنینؓ کے مقدس نام توہین آمیز انداز میں چسپاں کر کے انہیں مختلف گروپس میں شیئر کیا، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی۔ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی نے انکوائری نمبر RE-750/2022 کے تحت تحقیقات کیں، جن کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مرکزی ملزم نے اپنے موبائل نمبر اور شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم کے ذریعےاکاؤنٹ بنایا۔ ٹیکنیکل اینالیسس رپورٹ ورژن 1.0 مورخہ 11 ستمبر 2022 کے مطابق ملزم نے مخصوص واٹس ایپ گروپس میں توہین آمیز مواد شیئر کیا۔ رپورٹ میں متعدد واٹس ایپ نمبرز، ای میل اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ کی تفصیلات شامل کی گئیں جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنیں۔تحقیقات کے دوران شکایت کنندہ کی فراہم کردہ سی ڈی کا ٹیکنیکل تجزیہ کیا گیا، جس سے 13 مختلف واٹس ایپ صارفین کی جانب سے توہین آمیز مواد شیئر کیے جانے کے شواہد ملے۔موبائل کا ڈیٹا نادرا اور سی ڈی آر کے ذریعے حاصل کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ نمبر کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں استعمال ہو رہا تھا۔ اس نمبر کا صارف اصل مالک محمد عرفان کا حقیقی بھائی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر حیدر عباس شاہ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی چھاپہ مار ٹیم نے 26 اکتوبر 2022 کو اسے کراچی سے گرفتار کیا۔ تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے موبائل فون برآمد ہوا۔ 23 نومبر 2022 کو ہونے والے ڈیجیٹل فرانزک تجزیے کے مطابق ملزم کے واٹس ایپ کے Sent فولڈر سے توہین آمیز تصاویر اور Media Dot Links فولڈر سے بچوں کی فحاشی پر مبنی مواد برآمد ہوا۔ تفتیشی افسر نے نتیجہ اخذ کیا کہ دفعات 11 اور 22 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295-A، 295-B، 295-C، 34 اور 109 کے تحت جرم کا مرتکب پایا گیا۔اسی طرح موبائل کی تفصیلات نادرا سے حاصل کی گئیں، جس سے تصدیق ہوئی کہ یہ نمبر ملزم محمد امین رئیس کے نام پر رجسٹرڈ تھا اور کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں استعمال ہو رہا تھا۔ 26 اکتوبر 2022 کو چھاپہ مار ٹیم نے محمد امین رئیس کو کراچی سے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے موبائل فون اور فعال واٹس ایپ اکاؤنٹ برآمد ہوا۔ ٹیکنیکل تجزیے سے معلوم ہوا کہ موبائل فون میں تین مختلف واٹس ایپ نمبرز چل رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ملزم نے ایک صارف “شیطان کافر” کے ساتھ گفتگو کے دوران توہین آمیز کلمات اور نازیبا حرکات کا اعتراف کیا، جن کی ویڈیوز گوگل فوٹوز میں محفوظ تھیں۔ مزید یہ کہ ایک دوسرے واٹس ایپ نمبر پر کلمۂ طیبہ، قرآنِ مجید اور حضرت عائشہؓ سے متعلق گستاخانہ تصاویر ارسال کی گئیں۔ موبائل میں ICQ، Tumblr اور KIK جیسی ایپلی کیشنز بھی پائی گئیں، جن میں توہین آمیز مواد اور گروپس موجود تھے۔ ملزم کے ای میل ایڈریس سے بھی بڑی تعداد میں توہین آمیز تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہونے کا ذکر تفتیشی رپورٹ میں موجود ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزم توہینِ مذہب اور الیکٹرانک جرائم کی سنگین دفعات کے تحت جرم کا مرتکب پایا گیا۔پہلے ملزم ف کے زیرِ استعمال موبائل نمبر کا ریکارڈ نادرا سے حاصل کیا گیا، جو قاسم آباد راولپنڈی میں استعمال ہو رہا تھا۔ اگرچہ یہ سم ملزم استعمال کر رہا تھا، تاہم یہ اس کے بھائی کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ تفتیش کے دوران ملزم سے مذکورہ سم، سم جیکٹ کارڈ اور دو موبائل فونز برآمد کیے گئے، جن میں مزید سم کارڈز بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک فون کے ٹیکنیکل تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ تین جی میل اکاؤنٹس منسلک تھے۔ تحقیقات کے مطابق یہی موبائل فون توہین آمیز مواد کی ترسیل کے لیے استعمال کیا گیا۔ (جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں