Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پانچ گستاخوں کا مقدمہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
تفتیشی افسر نے ملزم ف کو متعلقہ تعزیری اور PECA دفعات کے تحت جرم میں ملوث قرار دیا۔مزید تفتیش میں ایک تیسرے ملزم ’’و‘‘ ساکن پشاور، کے قبضے سے بھی موبائل فون اور واٹس ایپ برآمد ہوا۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ یہ سم اس کی والدہ کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ ملزم فیس بک میسنجر پر جعلی نام سے اکاؤنٹ استعمال کر رہا تھا، جس کے ذریعے وہ مقدس ناموں پر نازیبا تصاویر لگا کر مسلسل نفرت انگیز اور توہین آمیز مواد پھیلا رہا تھا۔ملزم کے قبضے سے مقدس اوراق بھی قبضے میں لے کرپنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور بھیجے گئے، جن پر توہین کے ثبوت موجود تھے ۔ 12 اکتوبر 2022 کی DNA اور سیرولوجی رپورٹ کے مطابق برآمد شدہ نمونوں کا DNA ملزم سے میچ کر گیا۔ تفتیشی افسر نے ملزم کو براہِ راست توہینِ مذہب اور الیکٹرانک جرائم، بالخصوص PECA کی دفعہ 11 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295-A، 295-B اور 295-C کے تحت ملوث قرار دیا۔اسی مقدمے میں چوتھے ملزم کو 19 ستمبر 2022 کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے موبائل فون اور سم نمبر برآمد ہوئی۔ ٹیکنیکل رپورٹ کے مطابق ملزم نے ایک توہین آمیز واٹس ایپ گروپ میں نازیبا مواد اور توہین آمیز کارٹون شیئر کیے۔ تفتیشی افسر نے اسے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-A اور PECA 2016 کی دفعہ 11 کے تحت ملوث پایا۔14 مارچ 2023 کو تمام ملزمان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی۔ تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے ٹرائل کا مطالبہ کیا، جبکہ استغاثہ نے مقدمہ ثابت کرنے کے لیے مجموعی طور پر 13 گواہان عدالت کے سامنے پیش کیے۔عدالت نے سب سے پہلے گواہوں کی ساکھ کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ استغاثہ کے تمام تیرہ (13) گواہان جرح کے دوران اپنے بیانات پر قائم رہے۔ عدالت کے مطابق ان کی گواہیوں میں کوئی ایسا نمایاں تضاد سامنے نہیں آیا جو استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بنا سکے۔ ڈیجیٹل فارنزک شواہد اور زبانی شہادتوں کو عدالت نے باہم مربوط، قابلِ اعتماد اور قابلِ بھروسا قرار دیا۔عدالت نے دفاع کی جانب سے اختیار کیے گئے اس موقف کو بھی مسترد کر دیا کہ ملزمان کو محض ادارہ جاتی کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی مسلمان افسر محض کارکردگی دکھانے کے لیے خود توہینِ مذہب کا
مواد تیار نہیں کر سکتا، لہٰذا یہ دعویٰ محض مفروضے پر مبنی اور ناقابلِ قبول ہے۔اس کے بعد عدالت نے مقدمے کی قانونی حیثیت پر غور کیا اور واضح کیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-A کے تحت کارروائی کے لیے دفعہ 196 ضابطہ فوجداری کے مطابق حکومت کی باقاعدہ اجازت ضروری ہوتی ہے۔ چونکہ اس مقدمے میں دفعہ 295-A کے تحت ایسی اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی، اس لیے عدالت نے وکلائے صفائی کے اس اعتراض کو درست تسلیم کیا۔بعد ازاں عدالت نے دفعہ 295-C کے تحت تفتیش کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔ وکلاء دفاع کا اعتراض تھا کہ اس جرم کی تفتیش قانون کے مطابق ایس پی رینک کے افسر کو کرنی چاہیے، جبکہ موجودہ کیس میں سب انسپکٹرز نے تفتیش کی۔ تاہم عدالت نے یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ چونکہ یہ تفتیش ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی براہِ راست نگرانی میں مکمل کی گئی، اس لیے یہ قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ ریمارکس بھی دیے کہ اللہ تعالیٰ، نبی کریم ﷺ کے نامِ مبارک، قرآنِ پاک کی آیات، قرآنِ مجید اور امہات المؤمنینؓ کی بے حرمتی کرنے والے کو یوں ہی آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق حکومتِ پاکستان نے ہمیشہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔عدالت نے مثال کے طور پر مارچ 2009 میں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی گئی اس قرارداد کا حوالہ دیا، جس کے ذریعے “مذاہب کی توہین” کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور دنیا سے مطالبہ کیا گیا کہ مذاہب کی توہین کے خلاف قوانین وضع کیے جائیں۔ یہ قرارداد 26 مارچ 2009 کو منظور کی گئی، حالانکہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اسے مسلم ممالک میں آزادیِ اظہار پر قدغن کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ حکومتِ پاکستان نے آزادیِ اظہار کے نام پر کسی بھی مذہب یا عقیدے کی توہین کے خلاف عالمی سطح پر حدود و قیود نافذ کرنے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ اسی سلسلے میں سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک کو اس وقت بلاک کیا گیا تھا جب اس نے “Everybody Draw Muhammad Day” کے نام سے ایک گستاخانہ صفحے کی تشہیر اور میزبانی کی۔ یہ پابندی اس وقت اٹھائی گئی جب فیس بک نے مذکورہ صفحے تک رسائی بند کر دی۔اسی طرح جون 2010 میں سترہ ویب سائٹس پر مسلمانوں کے لیے توہین آمیز اور تحقیر آمیز مواد کی میزبانی کے باعث پابندی عائد کی گئی۔ اس کے بعد سے حکام کی جانب سے مختلف ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز، جن میں گوگل، یاہو، یوٹیوب، ایمیزون، ایم ایس این، ہاٹ میل، بنگ اور دیگر عالمی سوشل میڈیا ویب سائٹس شامل ہیں، کے مواد کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ پلیٹ فارمز عوامی ذہن پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔موجودہ مقدمے میں عدالت نے یہ ثابت شدہ حقیقت تسلیم کی کہ ملزمان نے اللہ تعالیٰ کے نام، قرآنِ مجید کی آیات، قرآنِ پاک اور نبی کریم ﷺ کے نامِ مبارک کے اوپر فحش اور برہنہ تصاویر چسپاں (superimpose) کر کے انہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر اور فارورڈ کیا۔ عدالت کے مطابق یہ ایک نہایت سنگین، اشتعال انگیز اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔عدالت نے مجموعی طور پر تفتیش کے معیار اور استغاثہ کے شواہد کو برقرار رکھا۔ اسی سنگین جرم کی پاداش میں عدالت نے تمام ملزمان کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت سزائے موت اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مختلف سزائیں سنائیں۔ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل پر فیصلہ دیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں