Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

طاقت، اسلحہ اور لیبیا ۔۔۔پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان کی دفاعی صنعت پہلی بارشمالی افریقا میں ایک نمایاں اوربراہِ راست اسٹریٹجک کھلاڑی کے طورپرابھررہی ہے،تاہم لیبیاکی داخلی تقسیم،بین الاقوامی اجارہ داراسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات، اوراقوام متحدہ کی غیرموثرمگرموجود پابندیاں اس عمل کوحساس بنا دیتی ہیں۔ فیصلہ سازوں کے لئے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ اقتصادی فائدے اورعالمی قانونی ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھاجائے۔ عسکری برآمدات کو سفارتی تنہائی کاسبب نہ بننے دیا جائیاورپاکستان کوایک ذمہ دار،قابل اعتماد اور اصولی دفاعی شراکت دارکے طورپرپیش کیا جائے۔
یقینااس نئی صورتحال پردفاعی مقتدرادارے بڑی تندہی سے موجودہ حالات میں اپنی پالیسیوں کی تشکیل میں مصروفِ کارہوں گے مگر ان حالات میں قانونی شفافیت اوردستاویزی تحفظ پرچند آراپر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کودفاعی معاہدوں کے ہرمرحلے میں اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندیوں سے متعلق قانونی رائے کو تحریری صورت میں محفوظ رکھناچاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بین الاقوامی فورم پرمؤقف کمزورنہ ہو۔قانون اگرچہ پابندی کوغیر موثر قرار دیاجاچکاہے،تاہم پاکستان کواقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ بیک ڈورڈپلومیسی چینل کے ذریعے پیشگی رابطہ رکھنا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ تنازعے سے بچاجاسکے۔
معاہدوں کوریاستی نہیں بلکہ ادارہ جاتی بنانے کے لئے دفاعی تعاون کوشخصیات یادھڑوں کے بجائے اداروں سے منسلک رکھاجائے، تاکہ لیبیاکی داخلی سیاست میں تبدیلی کی صورت میں معاہدے غیرمؤثرنہ ہوں۔
پاکستان کومشرقی لیبیاــایل این اے‘‘کے ساتھ تعاون کے ساتھ ساتھ مغربی لیبیاکی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت سے سفارتی توازن برقراررکھناچاہیے،تاکہ کسی ایک فریق کا حلیف تصورنہ کیاجائے۔
دفاعی برآمدات کے ساتھ’’صلاحیت کی تعمیر‘‘ کے لئے صرف ہتھیاروں کی فروخت کے بجائے تربیت،مینٹیننس،تکنیکی معاونت کو پیکیج کاحصہ بنایا جائے تاکہ پاکستان کاکردار طویل المدت شراکت دارکابنے۔
جے ایف17محض طیارہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک برانڈکے طورپرپیش کرناضروری ہے اورحالیہ پاک بھارت جھڑپ نے اقوام عالم کو انہی طیاروں کے استعمال سے پاکستانی عسکری تربیت اوربرتری نے ورطہ حیرت میں ڈال دیاہے۔اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان ان طیاروں اوردیگرفوجی وسازوسامان کوکم لاگت کے ساتھ خودانحصاری کی علامت کے طورپر مارکیٹ کیاجائے۔
لیبیاسے متعلق پالیسی کوسعودی عرب، قطراورمتحدہ عرب امارات کے ساتھ غیررسمی مشاورت کے ذریعے ہم آہنگ رکھاجائے تاکہ علاقائی تضادات سے بچاجاسکے۔
پاکستان کوایک واضح دفاعی برآمدات کے لئے ’’نیشنل آرمزایکسپورٹ پالیسی فریم ورک‘‘قومی فریم ورک تشکیل دیناچاہئے جہاں انسانی حقوق،داخلی استحکام اوربین الاقوامی قانون کوباضابطہ معیاربنایاجائے۔
عالمی میڈیااورتھنک ٹینکس میں پاکستان کے کردارکوذمہ دار،قانونی اوراستحکام پسندکے طورپر اجاگر کرنے کے لئے اسٹریٹجک کمیونیکیشن پلان تشکیل دیاجائے۔
غیرریاستی دبائوکے امکانات کی پیش بندی اورعالمی اسلحہ سازاجارہ داریوں کے ممکنہ دباکے پیش نظر قانونی ٹیم،سفارتی نیٹ ورک اورتجارتی اتحادی کوپیشگی متحرک رکھاجائے۔
مندرجہ بالا تمام بروقت اقدامات کے ساتھ ساتھ ہمیں ان رسک اسیسمنٹ کی طرف بھی توجہ دینے کی اشدضرورت ہے۔ہمیں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی تشریح،تحریری قانونی تحفظ کے ساتھ ساتھ سفارتی خطرات یعنی مغربی طاقتوں یاانسانی حقوق گروپس کی تنقیدکابھی سامناکرناپڑسکتاہے جس کے لئے پیشگی موثربیانیہ سازی اورسفارتی وضاحت کی مکمل تیاری از حد ضروری ہے۔
لیبیامیں اقتدارکی تبدیلی کوسیاسی خطرات کے طورپرپیش کرکے اس معاہدے کوسبوتاژکرنے کی کوشش کی جائے گی جس کے لئے ادارہ جاتی معاہدے،یکطرفہ وابستگی سے گریزکے لئے ہتھیاروں کاغیرریاستی عناصر تک پہنچنے کاواویلاکیاجائے گاجبکہ دنیابھرمیں ہونے والی دہشت گردی میں استعمال ہونے والااسلحہ کن ممالک کااستعمال ہورہاہے،اس کابھی ہم سب کو علم ہے۔دورنہ جائیں،ہمارے پڑوس افغانستان سے آنے والے خوارج اورفتنہ الہندکے تمام دہشت گردوں کے پاس برآمدہونے والا تمام جدیدترین امریکی اسلحہ اس بات کاعملی ثبوت ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے عالمی سودوں کی ادائیگی کے لئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کاپلیٹ فارم استعمال کیاجاتاہے اورعین ممکن ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے عالمی طاقتوں کے دباؤکے تحت پہلے تومعاہدے کی معطلی پرزورڈالیں،اوراگروہ اس میں کامیاب نہ ہوسکیں توادائیگیوں میں تاخیرکرکے ان معاہدوں کوغیرمعمولی نقصان پہنچا نے کی پالیسی اختیار کرلیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان مرحلہ وارڈیلیوری کے ساتھ ساتھ ایسامالی ضمانتوں کابھی لائحہ عمل تیاررکھے جس سے ان معاہدوں کی افادیت کومتوقع نقصان سے محفوظ رکھاجاسکے۔
ماضی کے تجربات سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارادشمن ہمیشہ کی طرح ایک دفعہ پھرپاکستان کانام غیرمستحکم ریاستوں سے جوڑنے کی کوشش کرے گااورپاکستان کے متعلقہ اداروں کوابھی سے پیشگی طورپرایک ذمہ دارریاست کامضبوط بیانیہ تیاررکھناہوگا۔اس اہم کام کے لئے انہیں عالمی طاقتوں کی پراکسی سیاست کے مقابلے اورتدارک کے لئے غیر جانب دار،کثیرجہتی سفارت کاری کے لئے مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کے لئے ابھی سے پوری تیاری کی ضرورت ہے۔
لیبیاکاسانحہ اوردفاعی معاہدہ محض ایک حادثہ یاایک سودا نہیں،بلکہ یہ اکیسویں صدی کی اسلحہ سیاست،ریاستی خودمختاری،اورعالمی طاقت کے بدلتے توازن کی علامت ہے۔پاکستان کیلئییہ ایک موقع بھی ہے اورامتحان بھی۔اگردانش مندی،قانونی احتیاط اورسفارتی توازن کے ساتھ قدم اٹھایاگیاتویہ معاہدہ پاکستان کوایک ذمہ دارعالمی دفاعی شراکت دارکے طورپرمستحکم کرسکتاہے بصورت دیگریہ عالمی سیاست کی ناہموارزمین پرایک لغزش بھی ثابت ہوسکتاہے۔

یہ بھی پڑھیں