پیارے بیٹے!یہ خط اُس درد کی زبان ہے جو میں ہر صبح اپنے چاروں طرف پھیلا ہوا دیکھتا ہوں۔ انسانوں کے چہروں پر مسکراہٹیں تو ہوتی ہیں مگر آنکھوں میں خالی پن بسیرا کر رہا ہوتا ہے۔ جب ہر ہاتھ میں ایک جگمگاتی اسکرین ہے مگر دل کے اندر ان جانا خوف ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں صرف سمجھاؤں نہیں بلکہ تمہارے ساتھ مل کر اس زمانے کی تہہ میں اتروں تاکہ ہم جان سکیں کہ یہ چمکدار دنیا دراصل روشنی ہے یا فریبِ نظر۔ پیارے بیٹے! ہماری تہذیب اس وقت ایک نازک دہلیز پر کھڑی ہے۔ عقل آگے دوڑ رہی ہے مگر دل پیچھے رہ گیا ہے۔ ہم نے سمندر پار کی خبریں لمحوں میں پہنچانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے مگر اپنے اندر کے اضطراب کو سمجھنے کی توفیق کھو دی ہے۔ انٹرنیٹ نے علم تک رسائی آسان کر دی ہے مگر علم کو تجربہ بننے سے روک دیا ہے۔ موبائل فون نے ہمیں ہر لمحہ ایک دوسرے سے جڑے رہنے کی صلاحیت دی مگر بد قسمتی سے اسی کے ذریعے ہم اپنے قریب ترین لوگوں سے دور ہو گئے۔ اب ہنسی چیٹ کی سطحی مسکراہٹوں میں قید ہے، دکھ ایموجیز میں بدل گئے ہیں اور انسان کا وجود چند تصویروں میں سمٹ گیا ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں رشتے آن لائن بنتے ہیں مگر دل آف لائن رہتے ہیں۔ بیٹے جی! تجھے شاید محسوس نہ ہو مگر اس تبدیلی نے ہماری گھروں کی فضا بدل دی ہے۔ وہ گھر جہاں کبھی باہمی گفتگو کا ماحول، ہنسی کی آواز اور ماں باپ کے تجربوں کی روشنی ہوا کرتی تھی وہاں اب خاموش اسکرینیں جگمگا رہی ہیں۔ ماں واٹس ایپ گروپس میں مصروف ہے، باپ خبروں کے تجزیوں میں گم ہے، بیٹا گیمز میں کھویا ہے، بیٹی لائکس اور فالوورز کی گنتی کر رہی ہے۔ ایک ہی گھر میں چار افراد رہتے ضرور ہیں مگر ان کی دنیا چار مختلف سمتوں میں بکھری ہوئی ہے۔ یہ کیسی نئی اذیت ہے کہ قریب رہ کر بھی دلوں میں فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ ڈیجیٹل جہان ہمیں ایک گہری نفسیاتی تقسیم میں مبتلا کر چکا ہے۔ فوری تشفی” کی عادت۔ انسان اب انتظار کو برداشت نہیں کر پاتا۔ فوراً جواب چاہیے، فوراً داد چاہیے، فوراً خوشی چاہیے۔ مگر زندگی کے حسین تجربات ہمیشہ تدریج میں بنتے ہیں۔ جلدی میں حاصل کی گئی ہر چیز سطحی ہوتی ہے اور جو سطحی ہو وہ دیرپا نہیں رہتی۔بیٹے! یاد رکھو، یہ تیز رفتار زندگی ہمیں اندر سے خالی کر رہی ہے۔
پیارے بیٹے! ایک اور خطرناک روش جو اس زمانے نے عام کر دی ہے، وہ ہے “تصویر کی مصنوعی روشنی”۔ ہر شخص اپنی زندگی کو ایک جشن کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ سیر و تفریح کی تصویریں، پرکشش کھانوں کے فوٹو، مسکراتے ہوئے چہرے مگر یہ سب چمک اکثر اندر کے اندھیرے کو چھپانے کے لیے ہوتی ہے۔ ان خوشنما تصویروں کے پیچھے کتنی پژمردگیاں چھپی ہیں، کتنی بے سکونیاں خاموش ہیں اور کتنے دل تنہائی کے درد میں تڑپ رہے ہیں۔ مگر ہم ان حقیقتوں کو نہیں دیکھ پاتے۔ اخلاقی زوال اس سارے منظر کا سب سے اندوہناک پہلو ہے۔ جو باتیں کبھی شرم و حیا کے پردے میں رکھی جاتیں اب وہ عام بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ جو راز کبھی سینے میں دفن ہوتے آج وہ چند کلکس میں پوری دنیا کے سامنے آ جاتے ہیں۔ شرم و حجاب کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ انسان کی نجی زندگی اب عوامی تماشہ بن چکی ہے، اور ہم اس تماشے کو ’’آزادی‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ ہمارے پاس کروڑوں کتب، ہزاروں لیکچرز اور لاتعداد کورسز دستیاب ہیں، مگر علم کے بجائے اب مواد زیادہ ہے۔ ہم ہر چیز کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں مگر کسی چیز کے ماہر نہیں۔ علم کی چوڑائی بڑھ گئی ہے مگر گہرائی مٹ گئی۔ ہماری عقل وسیع ہے مگر فہم چھوٹا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں جدیدیت نے روحانیت کو شکست دی ہے۔
پیارے بیٹے! میں تمہیں زندگی کے کچھ اصولوں کی صورت میں ایک سمت دینا چاہتا ہوں تاکہ تم اس طوفان میں سلامت رہ سکو۔ (1) حقیقت کو مجاز پر فوقیت دو۔ جو دنیا اسکرین پر ہے وہ دھوکا بھی ہو سکتی ہے، اس لیے اپنی آنکھوں سے دیکھنا، دل سے محسوس کرنا اور زبان سے سچ کہنا سیکھو۔ (2) معیار کو مقدار پر ترجیح دو۔ کم دیکھو مگر اچھا دیکھو۔ معمولی تفریحات کی بجائے علمی، فکری یا روحانی مواد سے تعلق بناؤ۔ (3) گہرائی پر محنت کرو۔ ہر موضوع پر معمولی علم کے بجائے چند چیزوں میں کامل فہم حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ (4) تخلیق کو استعمال پر ترجیح دو۔ دوسروں کا بنایا ہوا دیکھتے رہنے کے بجائے خود کچھ بناؤ، کچھ لکھو، کچھ سوچو ۔(5) خلوت اختیار کرو۔ ہر روز کچھ لمحے صرف اپنے اور اپنے رب کے لیے وقف کرو۔ اپنی خاموشی کو سنو، اپنے دل کی دھڑکن میں معنویت تلاش کرو۔ (6) فطرت کی طرف واپس آؤ۔ مصنوعی روشنیوں سے نکل کر درختوں، پرندوں، بادلوں، ہوا اور بارش کے ساتھ دوبارہ تعلق قائم کرو۔ یہی تعلق روح کو زندہ رکھتا ہے۔ (7) صبر کو فوریت پر ترجیح دو۔ فوری نتائج کی خواہش انسان کو کمزور بناتی ہے۔ صبر نہ صرف قوت دیتا ہے بلکہ اخلاص پیدا کرتا ہے۔
بیٹے! یاد رکھ، ہر ایجاد دو دھاری تلوار ہے۔ آگ نے روشنی بھی دی اور جلا بھی دیا، بجلی نے قوت بھی دی اور تباہی کا امکان بھی لائی، گاڑیاں بنیں تو سفر آسان مگر حادثے بڑھ گئے۔ انٹرنیٹ نے علم عام کیا مگر فتنے بھی پھیلائے۔ اصل فیصلہ آلے کا نہیں، نیت اور استعمال کا ہوتا ہے۔تمہاری نسل کے سامنے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ تمہیں دو متوازی دنیاؤں میں توازن رکھنا ہے۔ ایک دنیا جو اسکرین پر چمکتی ہے اور ایک وہ جو اسکرین کے پیچھے سانس لیتی ہے۔ دونوں کو پہچانو۔ دونوں کو اپنی حدود میں رکھو۔ طوفان میں بہہ جانا نہیں بلکہ رخ طے کرنا سیکھو۔تمہارا ایمان تمہارا محافظ ہے، تمہاری عقل تمہارا رہنما، تمہارا کردار تمہارا اثاثہ اور تمہارا مقصد زندگی تمہارے رب کی رضا ہے۔ اگر یہ سب ساتھ ہیں تو تم کسی بھی طوفان میں ڈوبو گے نہیں۔ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تمہیں اس دور کی لغزشوں سے محفوظ رکھے۔ تمہارے ذہن کو حکمت، نگاہ کو حیا، دل کو سکون اور ہاتھوں کو نیکی کی طاقت عطا فرمائے۔ تم جہاں بھی ہو، خیر کے سفیر بنو۔
بیٹے! یاد رکھو کہ یہ آلے تمہارے خدمتگار رہیں نہ تم ان کے غلام ہو۔ یہ دنیا تمہارے امتحان کا میدان ہے، تمہارا اصل گھر وہ ہے جہاں نہ انٹرنیٹ ہوگا اور نہ اسکرین بلکہ صرف تمہارے اعمال، تمہاری نیت اور تمہارا رب ہوگا۔ وہاں روشنی تمہارے کردار سے اُٹھے گی۔اللہ ہمیں دنیا کی چمک میں کھو جانے سے بچائے، ہمیں ہدایت پر قائم رکھے، اور ہماری زبان کو سچ، ہمارے دل کو ایمان، اور ہمارے ہاتھوں کو نیکی کا وسیلہ بنائے۔آمین، ثم آمین، یا رب العالمین۔