Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

عصرِ حاضر کی جنگیں اور نظمِ ریاست کا چیلنج

عصرِحاضرکی بین الاقوامی سیاست ایک بار پھراس موڑپرآن کھڑی ہوئی ہے جہاں طاقت کاسکہ چلتاہے اوراصول کتابوں میں رہ جاتے ہیں۔سامراجی رویوں کی وہ پرانی دستاویزیں جنہیں تاریخ نے مردہ سمجھ لیاتھا،نئے عنوانوں اورنئی اصطلاحات کے ساتھ پھرزندہ ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔وینزویلامیں امریکی اقدام محض ایک علاقائی واقعہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست کے افق پر ابھرتا ہواوہ بادل ہے جس کے پیچھے بہت سے سوال پوشیدہ ہیں۔ طاقت کابے لگام استعمال،منرونظریے کی نئی قوت،فوجی مداخلت کی تازہ مثالیں،عالمی اداروں کی خاموشی اورچھوٹے ممالک کی بے بسی یہ سب مل کر ہمارے عہد کی وہ تصویربناتے ہیں جس میں امن ایک خواب اورانصاف ایک نایاب شئے دکھائی دیتاہے۔تاریخ نے بارہاثابت کیاہے کہ جب بڑی طاقتیں خودکوقانون سے ماوراسمجھنے لگتی ہیں توکمزور اقوام کی تقدیرمیدانِ جنگ میں لکھی جاتی ہے۔
یہ مضمون اسی پس منظرمیں وینزویلاکے واقعات کوپرکھنے،امریکی طاقت کے طرزِاستعمال کو سمجھنے،عالمی ردِعمل کوجانچنے اورخاص طورپراس سوال کاجائزہ لینے کی کوشش ہے کہ اس تمام ہنگامے کے بعددنیاکے محصورومحکوم خطوں میں کیاردِعمل جنم لے گا،اورعالمی نظام آئندہ کس سمت بڑھتاہوانظرآتاہے۔
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے وینزویلامیں فوجی کارروائی کے بعدجس لب ولہجے میں گفتگوکی،اس نے دوصدی پرانے منروڈاکٹرائن کونئے رنگ میں زندہ کردیا۔ٹرمپ کی جانب سے وینزویلامیں براہ راست فوجی کارروائی بظاہرایک ملک کے خلاف اقدام ہے،مگردر حقیقت یہ پوری دنیاکے لئے ایک اعلان ہے۔یہ اقدام چین،روس اوردنیاکی دیگرمقتدر مگر آمرانہ حکومتوں کے لئے ایک خاموش پیغامِ بھی ہے کہ طاقت کی لغت ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ جب بھی سامراجی قوتوں نے خودکوعالمی منصف قرار دیا ، دنیامیں نیاعدم توازن جنم لیتارہا۔اب سوال یہ ہے کہ کیاٹرمپ نے محض وینزویلاپرحملہ کیاہے،یادنیاکے سیاسی نقشے پرنئے خطوط کھینچ دیے ہیں؟کیایہ کارروائی محض ایک ملک تک محدودواقعہ ہے یاچین وروس جیسی طاقتوں کے لئے بھی ایک نئے سیاسی نقشِ قدم کی نشاندہی؟ تاریخ کہتی ہے کہ نظریات جب طاقت کے سائے میں بولتے ہیں تومحض جملے نہیں رہتے،وہ سمتیں متعین کرتے ہیں۔
وینزویلاکے صدرنیکولس مادوروکی گرفتاری اورامریکی جیل میں قیددراصل اس نظریے کی مجسم صورت ہے کہ طاقت جب قانون بن جائے توانصاف پس پشت چلاجاتاہے۔ٹرمپ کااعلان کہ’’ہم وینزویلا کو چلائیں گے‘‘جیسے جملوں نے عالمی سفارت کاری میں ہلچل مچادی بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے دورِجسارت کااشارہ ہے۔ٹرمپ کایہ عندیہ کہ ضرورت پڑی توزمینی فوج بھی اتاریں گے،ایک نئی روش کی خبردیتاہے گویاطاقت کوزبان سے نہیں،عمل سے ثابت کرنے کازمانہ دوبارہ پلٹ آیاہے۔وزیر ِخارجہ مارکو روبیوکے رابطے اورڈیلسی روڈریگیزکا رضامندلہجہ اس امرکی علامت ہے کہ چھوٹے ممالک کے پاس انکارکا حوصلہ کم ہوتاجارہا ہے۔ ٹرمپ کایہ کہناکہ’’وہ مہربان ہیں،مگرچارہ نہیں‘‘ عالمی سیاست کافقرہ نہیں، پوری تاریخ کابین السطورخلاصہ ہے۔
کیاکسی ملک کودوردرازسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟یہ سوال محض تجزیہ نہیں،تاریخ کاامتحان ہے۔ کیا دوربیٹھے طاقتور ، مقامی معاشروں کے مزاج سمجھے بغیرمحض عسکری دباؤسے اپنے اہداف حاصل کرپائیں گے؟ تاریخ نے اس کاجواب کئی بارنفی میں دیاہے۔طاقت سے حکومت توگرائی جاسکتی ہے،مگردلوں پرحکم نہیں چلتا۔وہ مقامی مزاحمت،وہ پوشیدہ نفسیات،وہ قومیت کا شعور یہ سب ایسے عوامل ہیں جوکسی بھی ’’ریموٹ حکومت‘‘کوعدم استحکام میں دھکیل دیتے ہیں۔امریکی سوچ کہتی ہے ہاں!مگرزمینی حقیقتیں بتاتی ہیں کہ قومیں کنٹرول سے نہیں،رضامندی سے چلتی ہیںاور رضامندی تاریخ کاسب سے نایاب جوہرہے۔امریکی حکام کو یقین ہے کہ منصوبہ کامیاب رہے گا،مگرتاریخ کاحافظہ کچھ اور کہتاہے۔
بین الاقوامی تھنک ٹینکس پہلے ہی خبردارکرچکے تھے کہ اچانک معزولی،ریاست کے دھڑوں کوٹکراتی گلیوں میں بدل سکتی ہے۔ طاقت جب اداروں سے بڑی ہوجائے تواقتدار، سیاست نہیں رہتاغلبے کی رسہ کشی بن جاتاہے کرائسزگروپ اورنیویارک ٹائمزپہلے ہی وینزویلامیں ممکنہ افراتفری سے خبردارکرچکے تھے۔ طاقت کاخلاکبھی خالی نہیں رہتا۔جہاں حکومت ٹوٹے وہاں اسلحہ بولتاہے اور گروہ زورآزماتے ہیں۔یہی خوف ہے کہ اگرریاست کے داستاں گوکمزورپڑجائیں،توقصہ گوئی کاحق بندوق سنبھال لیتی ہے۔
مادوروکی معزولی امریکی عسکری قوت کے عملی مظاہرہ کے طورپرپیش کی گئی۔حیرت کی بات یہ کہ ایک امریکی فوجی بھی نہ مرا،اورمقصدحاصل ہوامگر تاریخ سوال کرتی ہے کیایہی کامیابی ہے؟لیکن سوال یہ ہے کہ کیاصرف جانی نقصان نہ ہوناہی اخلاقی فتح ہے؟ کیا اقوام کی خودمختاری بھی کوئی معنی رکھتی ہے؟وینزویلاکے اندر خوشی کی لہریں کچھ حلقوں نے ضرور دکھائیں ،مگر سرحدوں سے باہراضطراب بڑھا۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں نتائج اپنی حقیقی شکل میں آنے کے لئے وقت کے طویل پردوں کے پیچھے کھڑے ہیں؟
ٹرمپ کی نیوزکانفرنس میں لہجہ فاتحانہ تھا۔فتح کے ترانے بجتے رہے،مگرتاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ طاقت کے بل پرحکومتیں بدلیں مگرسماج نہ بدلا؛تاریخ کے اوراق میں درج عراق،افغانستان اوردیگرممالک کی ناکام داستانیں گواہ ہیں کہ عسکری فتح کے بعد سیاسی امن قائم کرنافقط اعلان سے ممکن نہیں ہوتا۔عراق سے افغانستان تک مثالیں دستک دیتی ہیں کہ عسکری جیت کے بعدسیاسی امن قائم کرنا میدانِ جنگ سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔اصل جنگ عسکری کارروائی کے بعدشروع ہوتی ہے۔
گزشتہ تین دہائیوں کے تجربات چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ بندوق راستہ بناتی ہے مگرمنزل نہیں دیتی۔قومیں بیرونی قوت کے فیصلے کو قبول نہیں کرتیں،وہ وقت کے ساتھ اپنافیصلہ صادر کرتی ہیںاوروقت کسی کاقیدی نہیں۔ 2003ء کاعراق آج بھی ناسورکی طرح لہورستا ہے۔افغانستان میں دودہائیوں کے بعدامریکی افواج کاذلت آمیزانخلادنیاکویاددلاتاہے کہ طاقت کے ایوانوں کی عمارت ریت پرکھڑی ہوتو ہواکی پہلی لہرہی کافی ہوتی ہے۔تاریخ خاموش نہیںوہ ماضی کے آئینے میں حال کودیکھتی ہے۔
1823ء میں منرونے جوجملہ کہاتھا،ٹرمپ نے اسے نیالہجہ عطاکیا۔ٹرمپ کایہ کہناکہ ہم نے منرونظریہ بہت پیچھے چھوڑدیامحض فقرہ نہیں،مغربی نصف کرے کے سیاسی نقشے پرایک تازہ لکیرہے۔ ہم نے اسے پیچھے چھوڑدیاگویااب صرف عدم مداخلت نہیں،بلکہ تسلط کاکھلااعلان ہے۔مغربی دنیاکوہماراحلقہ قراردیناصرف نعرہ نہیں،عالمی سیاسیات کانیاضابطہ ہے۔پیغام واضح ہے امریکا اپنی جغرافیائی برتری پرکوئی سوال برداشت نہیں کرے گا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں