Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

وفاق المدارس برسوں کا سفر،اور کھلا چیلنج ؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
5) امسال مجموعی طور پر فارغ التحصیل علما و عالمات کی تعداد پینتالیس ہزار ایک سو اڑسٹھ بنتی ہے جبکہ گزشتہ سال کی نسبت مجموعی طور پر دو ہزار چھ سو چھیاسٹھ کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔6) تجوید للحفاظ و الحافظات کے سالانہ امتحان میں دس ہزار سات سو پچانوے طلبا و طالبات شریک ہورہے ہیں‘گزشتہ سال کی نسبت مجموعی طور پر چار سو چھیانوے طلبا وطالبات کا اضافہ ہے۔7) تجوید للعلما و العالمات میں پانچ ہزار سات سو چورانوے علما و عالمات شریک امتحان ہونگے‘اس میں گزشتہ سال کی نسبت سات سو پندرہ کا اضافہ ہورہا ہے۔8) دراسات دینیہ سال اول بنین و بنات کے سترہ ہزار چھ سو ستر طلبا و طالبات شریک امتحان ہونگے۔جبکہ دراسات دینیہ سال دوم بنین وبنات کے بارہ ہزار تین سو پچھتر طلبا وطالبات سالانہ امتحان میں شرکت کریں گے۔9) مجموعی طور پر دراسات دینیہ بنین و بنات میں مجموعی تعداد تیس ہزار پینتالیس بنتی ہے‘گزشتہ سال کی نسبت مجموعی طور پر دو سو اکسٹھ کا اضافہ ہوا ہے۔
10) امسال الحمدللہ وفاق المدارس کے تحت سالانہ امتحانات برائے 1447ھ/2026 میں شرکا کی مجموعی تعداد چھ لاکھ انسٹھ ہزار تین سو پینتیس بنتی ہے‘حسب سابق گزشتہ سالوں کی مانند اٹھائیس ہزار تہتر کا قابل تحسین ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
مذکورہ اعداد وشمار سے مدارس دینیہ کی تعلیمی و تربیتی،علمی و فکری ہمہ جہت خدمات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے‘یہ یقینا پاکستان کے ہزاروں مدارس دینیہ،ڈھائی لاکھ سے زائد علما کی دیرینہ کاوشوں کا جہاں مظہر ہے وہیں عوام الناس کا ان اداروں پر اعتماد کا اظہار بھی ہے۔
جس طرح ملحق مدارس اور شرکائے امتحان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اسی تناسب سے امتحانی مراکز اور نگران عملے میں بھی گرانقدر اضافہ ہوا۔
بعض بڑے جامعات ایسے بھی ہیں جن میں تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک ہی ادارہ میں الگ الگ اضافی سینٹر بھی بنائے گئے ہیں جن میں مستقل نگران اعلیٰ اور معاون نگران بھی اصولی ضابطہ کے مطابق مقرر کئے جاتے ہیں۔
اسی طرح زیادہ تعداد والے امتحانی مراکز میں نگران اعلی کے ساتھ ایک ’’نائب نگران اعلی‘‘ کی تقرری بھی کی جاتی ہے‘نگرانی کیلئے جن مدارس کے اساتذہ و معلم کا انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے اس کیلئے درجات کتب کے ہر پچیس طلبا کے داخلوں کے حساب سے تقرری عمل میں لائی جاتی ہے‘یعنی درجہ کتب کے ملحق جس مدرسہ کے پچیس سے انچاس تک طلبا ہوں تو اس ادارہ سے ایک معاون نگران کی تقرری کی جاتی ہے‘ پچاس یا اس سے زیادہ طلبا ہوں تو ان کے دو معاون نگران لئے جاتے ہیں‘ اسی پچیس کی تعداد کے تناسب سے وفاق المدارس کا ضابطہ ہے ۔اور یہ نگرانی کیلئے ادارہ کی جانب سے نام بھیجنا ضروری ہے۔ نگران اعلیٰ کیلئے بنیادی طور پر کم از کم پانچ سے دس سال نگرانی کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔
سالانہ امتحانات کے مکمل نظام کو مانیٹر کرنے کیلئے وفاق المدارس کی مرکزی و صوبائی قائدین ملک بھر کے سینٹروں کا ہنگامی معائنہ کرتے ہیں‘ اراکین امتحانی کمیٹی و مجلس عاملہ سمیت مسلین بھی سینٹروں کا دورہ کر کے رپورٹیں لکھتے ہیں‘ عمومی طور پر ہر سینٹر کیلئے نگران اعلی کے پاس ایک فائل ہوتی ہے جس میں سینٹر کے حوالہ سے تمام ضروری تفصیلات موجود ہوتی ہیں‘ اسی فائل میں یومیہ رپورٹ کا اندارج کا صفحہ بھی ہوتا ہے‘ سینٹر میں کسی بھی نوعیت ضروری اور اہم بات لکھنا نگران اعلی کیلئے لازمی ہوتا ہے‘ ان اندراجات کی روشنی معائنہ کیلئے آنے والے وفاق المدارس کے ذمہ داران تصدیق کرتے ہیں‘
جبکہ مدارس بنات کے سینٹروں کے معائنہ کیلئے اراکین وفاق کی ذمہ دار خواتین معائنہ کر کے رپورٹیں مرتب کرتی ہیں اور وہ رپورٹیں متعلقہ مسلین کے ذریعہ مرکزی دفتر کو ارسال کردی جاتی ہیں۔
امسال امتحانی مراکز اور مقرر کردہ نگران عملہ کی تعداد کا ایک اجمالی جائز۔
1) مراکز امتحان بنین برائے درجات کتب نو سو پچاس ہیں‘جس میں سات ہزار چار سو چار نگران عملہ کی تقرری کی گئی ہے۔2) مراکز امتحان بنات برائے درجات کتب کی تعداد دو ہزار نو سو ستائیس ہے‘ ان مراکز میں خواتین معلمات پر مشتمل نگران عملہ کی تعداد اٹھارہ ہزار ایک سو اٹھاون ہے۔3) مجموعی مراکز امتحان برائے بنین و بنات کی تعداد تین ہزار آٹھ سو ستتر ہے۔4) مجموعی نگران عملہ پچیس ہزار پانچ سو باسٹھ ہے۔5) گزشتہ سال نسبت مجموعی مراکز امتحان میں تین سو پندرہ کا بڑا اضافہ ہوا ہے جبکہ نگران عملہ برائے مراکز بنین وبنات میں مجموعی اضافہ دو ہزار نو سو چار ہوا ہے۔6) شعبہ تحفیظ میں امتحانی مراکز برائے بنین نو سو چالیس ہیں۔7) امتحانی مراکز بنات برائے شعبہ تحفیظ دو سو چالیس ہیں۔8) شعبہ تحفیظ کے مجموعی مراکز امتحان برائے بنین و بنات کی تعداد گیارہ سو اسی ہے۔9) گزشتہ سال کی نسبت امسال مجموعی طور پر مراکز امتحان برائے تحفیظ میں ایک سو پانچ کا اضافہ ہوا۔10) ممتحنین تحفیظ برائے بنین کی تعداد دو ہزار سات سو سات ہے۔ 11) شعبہ تحفیظ بنات میں ممتحنات کی تعداد امسال تیرہ سو سات ہے۔12) امسال مجموعی طور پر شعبہ تحفیظ میں ممتحنین و ممتحنات کی تعداد چار ہزار چودہ ہے۔13) گزشتہ سال کی نسبت شعبہ تحفیظ کے ممتحنین و ممتحنات میں دو سو اٹھاون کا اضافہ ہوا۔۔
اس سال وفاق المدارس کی امتحانی کمیٹی نے نگران عملے کے بین الصوبائی اور بین الاضلاع تبادلے بھی کئے ہیں‘ امسال ان بڑے اداروں کے امتحانی مراکز اور ان بڑے اداروں سے لئے گئے نگران اعلی حضرات کی تشکیلیں کی گئی ہیں جبکہ ان کے ہمراہ دو معاونین بھی ان کو دئیے گئے ہیں‘۔امسال جن بین الصوبائی نگران اعلی اور دو معاونین کے تبادلے کئے گئے ہیں ان اداروں کی تعداد چونتیس ہے۔
جبکہ چاروں صوبوں میں بین الضلاع پچاس سے زائد امتحانی مراکز میں بھی تبادلے کئے گئے ہیں‘یہ تبادلے اور تقرریاں صوبائی نظما و اراکین امتحانی کمیٹی نے مشترکہ مفصل اجلاس میں متفقہ طور پر طے کئے‘اس تبدیلی کا بنیادی مقصد معیار و نظام امتحان کو مزید فعال و مثر اور مفید بنانا ہے‘ برسوں سے وفاق کے امتحانی نظام سے منسلک ان تجربہ کار نگران عملہ سے دوسرے صوبوں کے نگرانوں کو بھی یقینی طور پر فائدہ ہوگا۔ان شااللہ اس اہم تبدیلی سے مستقبل میں دور رس نتائج بھی مرتب ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں