(گزشتہ سے پیوستہ)
کولمبیاکے صدرکودھمکی،میکسیکوکے بارے میں نشاندہی،ہیٹی کوانتباہ ،یہ الفاظ نہیں،پالیسی کے سائے ہیں۔طاقت جب گفتگوسے انکارکردے توسفارت گری کاچراغ مدھم پڑجاتاہے اوراندیشے گہرے ہوجاتے ہیں جس کابالآخرانجام قوموں کی تباہی کے سوااورکچھ نہیں ہوتا۔ہیٹی میں حکومت کی تبدیلی بندوق کے سائے میں ہوئی۔گولیاں کم چلیں،مگر آنسوبہت بہے۔30برس گزرے مگرخوشحالی ابھی مقروض ہے۔یہ مثال وینزویلا کے لئے بھی ایک خاموش تنبیہ ہے۔
کیوباہمیشہ سے امریکی نفسیات میں ایک کانٹا رہاہے۔سوشلسٹ روایت اورکیریبیئن کی جغرافیائی اہمیت نے اسے مستقل ’’ٹارگٹ‘‘بنارکھا ہے۔ روبیوکی خاندانی نسبت اس معاملے کومزید حساس بنادیتی ہے۔ٹرمپ کے لہجے میں تنبیہ بھی تھی،دعویٰ بھی اورارادہ بھی۔ماضی کی مداخلتوں نے کئی خطوں کوتجربہ گاہ بنادیا،مگرنتائج آج بھی ٹھوکریں کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ہیٹی کی مثال ثابت کرتی ہے کہ حکومتیں بدلی جاسکتی ہیںمگرقومیں نہیں۔ ٹرمپ نے ’’جمہوریت‘‘کالفظ استعمال نہیں کیا،نہ ماریاکوریناماچاڈوپراعتمادکا اظہارکیا اور نہ گونزالیز پر گویا فیصلہ عوام نہیں،طاقت نے کرنا ہے۔یہیں سے سوال اٹھتاہے کہ کیاجمہوریت محض نعرہ رہ گئی ہے؟وینزویلاکی قیادت جمہوریت کاسواطاقت کی تبدیلی یانظام کی بقا؟ یہ سب ایسے سوال ہیں جن کے جواب طاقت کے پہاڑ تلے کچلے گئے ہیں۔
کوئی بیرونی طاقت اندرونی دراڑوں کے بغیرکامیاب نہیں ہوتی۔مادوروکے خلاف اندرکے ہاتھوں نے ہی راستہ ہموارکیا۔مگریہی حقیقت فوج کے عزت دارجرنیلوں کے لئے شرمندگی کاسامان بھی ہے۔وہ مزاحمت نہ کرسکے اورتاریخ سوال چھوڑگئی۔ حکومت کے حامیوں کے مالی مفادات،مسلح ملیشیا، کولمبین گوریلا،بدعنوانی کے جال اورملیشیاکی طاقت یہ سب وہ آگ ہے جوکسی بھی وقت شعلہ بن سکتی ہے۔ اقتدارکی رسہ کشی جب اسلحہ تھام لے توریاست کامستقبل سوالیہ نشان بن جاتاہے۔مادوروقیدمیں ہیں مگر شاویز کا نظام اپنی جڑوں سمیت موجودہے۔فوجی اور سیاسی اشرافیہ کے مفادات کے جال، ملیشیائیں اور مسلح گروہ یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ کھیل ختم نہیں ہوا؛ اب دراصل کھیل شروع ہوا ہے۔
وینزویلاکے تیل ومعدنی ذخائرہوں یاگرین لینڈکی برف تلے چھپی دولت ،طاقتیں ہمیشہ زمین سے نہیں،زیرِزمین دولت سے بندھی ہوتی ہیں۔عالمی سیاست کے اشارے بتا رہے ہیں کہ شمال وجنوب دونوں، ایک ہی نگاہ کے دائرے میں ہیں۔اب خوف صرف جنوب تک محدود نہیں۔ قطب شمالی کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے اوراس کے نیچے سونے کی نیند سوتے ذخائرجاگنے کوہیں۔گرین لینڈپرامریکی نگاہیں اسی خاموش لالچ کی ترجمان ہیں۔
بین الاقوامی قانون کبھی دنیاکی امیدتھامگر آباددنیامیں جنگل کے قانون کی واپسی کا خطرہ بڑھتا دکھائی دیتاہے۔جب بڑے ملک قانون کو ’’پسندوناپسند‘‘کے ترازومیں تولنے لگیں، تو عدالت تاریخ کے حضورخاموش کھڑی رہ جاتی ہے اورعالمی وبین الاقوامی قوانین ایک ٹوٹے ہوئے آئینے کی مانند کرچی کرچی ہوکرانسانیت کو بری طرح مجروح کردیتی ہیں۔
مادوروآپریشن نے یہ سوال سنگین کردیاہےکہ بین الاقوامی قانون محض کتابی جملہ ہے یا واقعی قوتِ نافذہ رکھتاہے۔جب طاقتوراپنی مرضی سے قانون کی تعبیر بدلنے لگے توکمزور قوموں کے لئے انصاف خواب بن جاتا ہے۔ مگردوسری طرف یورپی طاقتیں جانتی ہیں کہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی کھلی خلاف ورزی ہے،مگرخاموش ہیں۔ شایدمعاشی مفادطاقتور ہے ،شایدخوف غالب مگرتاریخ ان کی خاموشی بھی ریکارڈکررہی ہے۔
مادوروکی چینی سفارت کاروں سےملاقات کے بعدچین کی شدید مذمت اس امرکی علامت ہےکہ دنیاایک نئےبلاک کی تشکیل کےقریب ہے۔سردجنگ کی راکھ میں چنگاریاں پھر دہک رہی ہیں۔ٹرمپ کے اس اقدام نے روس اورچین کے لئے ایک کھلاپیغام اورایک نئی مثال قائم کردی ہے کہ اگرامریکاکرسکتاہے توچین تائیوان میں اورروس یوکرین میں کیوں نہیں؟ تاہم چین نے مذمت توکی ہےمگر ساتھ ہی دنیا سوچ رہی ہےکہ اگریہ راستہ چل نکلاتو تائیوان ، یوکرین اور دیگر خطے بھی اسی منطق کاشکارہوسکتے ہیں اوران کو روکنے کے لئے بھلاکیاجوازباقی رہ گیاہے۔ایک لکیرپارہوچکی ہے؛اب ہرقوت اپنی تشریح کاحق مانگے گی۔یہی خوف سینیٹرمارک وارنر نےبیان کیاکہ اب ہرملک اپنی تشریح لے کرکھڑاہوجائے گااوردنیانظم سے بےنظم کی طرف ڈھل جائے گی۔
یہ واقعات محض خبریں نہیں یہ آنے والے برس کی تمہیدہیں۔تاریخ کی پیشانی پر لکھا جا رہاہےکہ طاقت کامرکزمتحرک ہے،اوردنیا لرزاں۔ ریڈاراورکمانڈرخاموش کردئیےگئے،فلائٹ کمانڈر پلٹ گئے،دفاعی نظام معطل،اینٹی ایئرکرافٹ گنز خاموش رہیں یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں، اندرونی غداری کاشاخسانہ تھا۔گویااندرسےچراغ گل کیے گئےتھے۔تاریخ بتاتی ہے کہ ایبٹ آباد ہو یاتہران،جہاں اندرسے دروازہ کھلے،باہروالا زیادہ دیردستک نہیں دیتا۔ طاقت ہمیشہ باہرسے نہیں گرتی،اکثراندرسےڈھےجاتی ہے۔تاریخ کے اوراق بتاتےہیں کہ کامیابی صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اندرونی مضبوطی سے بنتی ہے۔جہاں کمانڈٹوٹے،وہاں ریاستیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔
بیرونی دشمن کی سازشیں ہمیشہ رہتی ہیں، مگر سب سے بڑاسوراخ اندرسے ہوتاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سلطنتیں،روم،عثمانی خلافت ،سویت یونین زیادہ تراندرونی کمزوریوں سے گریں،نہ کہ باہرکے حملوں سے۔امریکاکی جدید طاقت بھی وہاں ناکام دکھائی دی، صومالیہ میں عوامی مزاحمت کے آگے افغانستان میں مقامی اتحادیوں کے دھوکے کے باعث، ایران میں داخلی نظم وضبط اورجوابی تدبیرکے باعث۔ نتیجہ یہ کہ اداروں کی مضبوطی،قوم کے اندر اتحاد،فوجی قوت سے زیادہ اہم ثابت ہوتی ہے۔ فیصلہ سازی کی صفائی یہی وہ بنیادی سبق ہے کہ چین آف کمانڈ کی حفاظت سب سے بڑا دفاع ہےجوپاکستان کے لئے نہایت فیصلہ کن ہے۔
(جاری ہے)