جنوبی ایشیاء کی حالیہ صورتحال کافی تشویش ناک ہے۔ ریاست کے ایوانوں سے لے کر کھیل کے میدانوں تک ہندوتوا سوچ تقویت پاتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کے بعد بھارتی تعصب کا نشانہ اب بنگلہ دیش ہے۔ آج سے تقریباً ساڑھے پانچ دہائیاں قبل سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر اندرا گاندھی نے تکبر بھرے لہجے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’’آج دو قومی نظریہ خلیجِ بنگال میں غرق ہوگیا‘‘۔ شائد تاریخ کے اس موڑ پر یہ انہیں اپنی سب سے بڑی تزویراتی فتح لگ رہی تھی لیکن وقت کی گردش اور تاریخ کے بدلتے ہوئے دھاروں نے یہ ثابت کر دیا کہ نظریات جغرافیائی لکیروں کے مٹنے سے ختم نہیں ہوتے۔ آج تقریبا ًساڑھے پانچ دہائیوں بعد، خلیج بنگال کی وہی موجیں اندرا گاندھی کے دعوےکی نفی کررہی ہیں۔ دو قومی نظریہ ایک نئی توانائی کے ساتھ بنگال کے نوجوانوں کے لہو میں دوڑ رہا ہے۔گزشتہ برس بنگلہ دیش میں آنےوالی تبدیلی محض ایک رجیم چینج نہیں بلکہ ایک پورےبیانیےکی تجدید تھی۔ شیخ حسینہ واجد دہلی کے زیرِ سایہ بنگلہ دیش کو بھارت کی ایک کٹھ پتلی اور سیٹلائٹ ریاست بنائے ہوئے تھی۔ البتہ ڈھاکہ تو مزید دہلی کے تسلط میں نہ رہا جبکہ دخترِ بانیِ بنگلہ دیش اپنے ازلی گھر بھارت ضرور جا پہنچی۔
آخر گِل اپنی، صرفِ درِ میکدہ ہوئی
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
بنگلہ دیش کی یہ سیاہ تاریخ اب قصہِ پارینہ بن چکی ہے۔ نوجوان انقلابیوں نے ثابت کر دیا کہ لسانی تفاخر اور علاقائی سیاست وقتی ہو سکتی ہے، لیکن جبر و استبداد اور غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کی حس کبھی ختم نہیں ہوتی۔اس ابھرتے ہوئے نئے بنگلہ دیش کا چہرہ عثمان ہادی تھا۔ وہ نوجوان جس نے ’’انقلاب منچ‘‘کے پلیٹ فارم سے بھارتی سامراج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اور حسنیہ واجد کا تختہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عثمان ہادی کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس تلملاہٹ کا نتیجہ ہے جو مودی سرکار کو بنگلہ دیش کے بدلتے ہوئے تیور دیکھ کر ہو رہی ہے۔ ہادی کا قصور یہ تھا کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے نیٹ ورک کو بےنقاب کررہا تھا، وہ میرٹ اور حقیقی آزادی کا داعی تھااورسب سے بڑھ کر وہ دو قومی نظریے کا کھلا حامی تھا۔ اسے شہید کر کے دہشت گرد ہندوستان فرار تو ہو گئے، لیکن اس کی شہادت نے بنگلہ دیش کے طول و عرض میں بھارت مخالف جذبات کو ایک ایسی آگ میں بدل دیا جس میں اب بھارتی قونصل خانے اور دہلی کے پٹھوں کے دفاتر محصور نظر آتے ہیں۔ بھارت دنیا بھر میں اپنی فلموں اور اوچھے ہتھکنڈوں سے یہ واویلا تو کرتا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہے اور تمام فتنہ و فساد پاکستان سے جنم لیتا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت میں اس کے اپنے شہری ہی محفوظ نہیں ہیں۔ سرحد پار تو کیا ہی کہیں۔ ہندوتوا کی مکروہ سوچ اب کھل کر دنیا کے سامنے آرہی ہے۔ کینیڈا میں سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو، آسٹریلیا کے ساحل پرفائرنگ ہو یا پاکستان اور بنگلہ دیش میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی، مودی کی بی جے پی سرکار نے جمہوریت کا نقاب اتار پھینکا ہے۔ بھارت ایک مستحکم اور خود مختار بنگلہ دیش سے اس لیے ڈرتا ہے کیونکہ ایک آزاد ڈھاکہ کبھی بھی دہلی کی کٹھ پتلی بننا پسند نہیں کرے گا۔ بھارت کی تشویش کی اصل وجہ پاک-بنگلہ بھائی چارہ اور دوستی ہے جو برسوں کی نفرت انگیز پراپیگنڈا مہم کے باوجود دوبارہ جی اٹھی ہے۔آج پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تلخیاں ختم ہو رہی ہیں اور محبت کی ایک نئی جہت جنم لے رہی ہے۔ بنگالی عوام کو یہ ادراک ہو چکا ہے کہ 1971 ء میں انہیں آزادی نہیں بلکہ ایک نئی غلامی کے معاہدوں میں جکڑا گیا تھا۔ شیخ مجیب کے دور کے وہ معاشی معاہدے جنہوں نے بنگلہ دیش کو بھارتی منڈیوں کا پابند بنا دیا تھا، اب نئی نسل کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔اندرا گاندھی غلط تھی اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ درست تھے۔ دو قومی نظریہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کا وہ تہذیبی مقدر ہے جو سرحدوں کا محتاج نہیں۔ عثمان ہادی کے لہو نے اس نظریے کی آبیاری کی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دو الگ ریاستیں ہونے کے باوجود ایک ایسی نظریاتی دیوار بن کر ابھر رہے ہیں جس کے سامنے ہندوتوا کی سازشیں ریت کے گھروندے ثابت ہوں گی۔ کیونکہ ہندوتوا کے نظریات مادہ پرستی، جارحانہ قوم پرستی، سامراجیت اور استحصال کو ہوا دیتے ہیں۔ جبکہ اسلام انسانیت کی تفریق کی بجائے انھیں ایک ملت میں منسلک کرتاہے۔ اسلام کا نصب العین انسانیت کو رنگ، نسل، زبان اور قوم پرستی کے بندھنوں سے آزاد کرکے ایک ملت میں منسلک کرنا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے ایک تقریر میں دو قومی نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’مسلمانوں اوردنیا کی دوسری اقوام میں اصولی فرق یہ ہے کہ قومیت کا اسلامی تصور دوسری اقوام کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ ہماری قومیت کا اصل اصول نہ اشتراک زبان پر ہے نہ اشتراک وطن، نہ اشتراک اغراض اقتصادی بلکہ ہم لوگ اس برادری میں ہیں جو جناب رسالت مآبﷺ نے قائم فرمائی ہے۔‘‘
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمیﷺ
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے ہے مستحکم جمعیت تیری
بنگلہ دیش اور پاکستان کا یہ نیا اتحاد خطے کے امن کا ضامن اور بھارتی تسلط کے خاتمے کا آغاز ہے۔ دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈوبا نہیں، بلکہ وہیں سے ایک نیا سورج بن کر طلوع ہو رہا ہے۔