Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

عصرِ حاضر کی جنگیں اور نظمِ ریاست کا چیلنج

(گزشتہ سے پیوستہ)
چین آف کمانڈکیاہے؟فیصلہ کہاں بنتاہے؟ کس کوحکم پہنچتاہے؟کون اسے نافذکرتاہے؟ قیادت کوگمراہ کرنا،غلط معلومات پہنچانا، فیصلوں میں تاخیرپیدا کرنا،کمانڈ میں دراڑڈالنا،نہ صرف ان سب کابروقت تدارک کرکے ایسے عناصرکی سختی سے سرکوبی کرنااور انہیں آہنی ہاتھوں سے انجام تک پہنچاناریاست کی سب سے اولین ذمہ داری ہےکیونکہ ریاست کی نازک ترین جگہ یہی ہے۔ جدیدجنگ میں اصل ہدف میزائل سسٹم نہیں،ٹینک نہیں،فوجی اڈے نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا دماغ ، اعصابی نظامِ ریاست،کمانڈوکنٹرول سینٹر ہیں ، اس لئے پاکستان کے لئے خاص سبق یہی ہےکہ خفیہ اداروں کی ہم آہنگی،سول واطلاعاتی جنگ میڈیا+ سوشل میڈیا پردشمن کی طرف سے افراتفری پھیلانے والےموادسے بچاؤ،ملٹری قیادت میں اعتماد ،اندرونی غداروں، لیکرزاور سہولت کاروں کی روک تھام کامضبوط نظام قائم موجود ہو۔ اگرچین آف کمانڈ محفوظ ہودشمن جیت نہیں سکتاچاہے اس کے پاس کتنی بھی ٹیکنالوجی ہو۔
یادرکھیں کہ تیسری دنیاکے ممالک پرواضح ہو چکاہے کہ اب جنگیں صرف سرحدوں پرنہیں ہوتیں بلکہ کرنسی پرحملہ،سوشل میڈیاکے ذریعے انتشار، سیاسی تقسیم پروکسی وارپرجاری ہیں ۔ معاہدے کمزورہیں، اقوامِ متحدہ غیرموثرہے،بڑی طاقتیں اپنامفاددیکھتی ہیں جس کی بنا پرتیسری دنیاکے ممالک لازماًایٹمی ڈیٹرنس،ایٹمی ٹیکنالوجی، میزائل نظام،دفاعی اتحادکی طرف جائیں گے۔ اسی پس منظرمیں چین،روس اورپاکستان تیسری دنیا کی اس دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نئے عالمی اتحادکے ممکنہ مراکزبن رہے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی ایٹمی طاقت،جنگی تجربہ اوراسٹریٹجک محل وقوع رکھتاہے،اسی لئےسعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کےبعدخلیجی ممالک پاکستان سے سکیورٹی شراکت چاہتےہیں، اس کی بنیادی وجوہ خطے میں اسرائیل وایران تنازع، امریکاپراعتبارکی کمزوری ، خودمختاردفاع کی ضرورت لازم سمجھی جارہی ہے۔ پاکستان کے لئے بنیادی سبق یہ ہے کہ صرف ہتھیار کافی نہیں، اصل ضرورت محفوظ،متحد، بیدار قیادت، طاقتورچین آف کمانڈ، قومی وحدت اور اندرونی استحکام انتہائی ضروری ہے۔ اگراندر سے غداری نہ ہوتو دنیاکی بڑی سے بڑی طاقت جدید ترین ہتھیاروں کے باوجودکسی قوم کوشکست نہیں دے سکتی۔
ریاستیں توپوں سے نہیں بکھرتیں،نظم کی ٹوٹتی ہوئی زنجیروں سے بکھرتی ہیں۔جب چین آف کمانڈٹوٹ جائے توعسکری قوت ریت کا گھربن جاتی ہے۔ریاستیں ہتھیاروں سے نہیں ، نظم سے قائم رہتی ہیں۔جب کمان ٹوٹتی ہے توفوجیں طاقتور ہوتے ہوئے بھی ہارجاتی ہیں اورجب نظم سلامت ہوتو کمزوربھی سرخروہوجاتے ہیں۔پاکستان، ترکی، ایران سب مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔سلامتی ووقارکا راز اس نظم میں پوشیدہ ہے۔یہی سبق وینزویلا سکھا گیا اوریہی سبق پاکستان سمیت پوری دنیاکےلئے پیغام ہے کہ ملکوں کی سلامتی توپ وتفنگ سے نہیں،وفاداری اورنظمِ کمان سے عبارت ہوتی ہے۔ایک سادہ جملے میں مرکزی سبق یہی ہے کہ ریاست کودشمن باہرسے کم،اندرسے زیادہ توڑتا ہے، اس لیے پاکستان کے لئے سب سے اہم کام مضبوط اورمحفوظ چین آف کمانڈہے۔
دنیاایک نئے موڑپرکھڑی ہے ،طاقت کے دعوے،نظریات کے جال اورمعدنی دولت کی کشش نے تاریخ کودوبارہ متحرک کردیاہے۔ سیاست اب محض بیانات کاکھیل نہیں رہی؛یہ اعصاب ، معیشت،ٹیکنالوجی اورداخلی اتحادکامعرکہ ہے۔تاریخ ہمیشہ خاموش نہیں رہتی ، وہ فیصلے محفوظ رکھتی ہے،اوروقت آنے پرسنابھی دیتی ہے تاہم تاریخ کے منصف جلدی فیصلہ نہیں کرتے۔وہ منتظررہتے ہیں قلم ٹک ٹک کرتارہتاہے،اوروقت صفحہ پلٹتارہتاہے۔آج جوطاقتوردکھائی دیتاہے،کل خود کٹہرے میں کھڑاہوسکتاہے۔اصل طاقت وہی ہےجو عدل کے ترازومیں قائم رہ سکے۔
تاریخ کےصفحات گواہ ہیں کہ بیرونی جارحیت کی کامیابی ہمیشہ بارود،بمباری اور ٹیکنالوجی کی مرہونِ منت نہیں رہی؛اس کے پیچھے اکثروہی خنجرکار فرما رہا ہے جواندرسے لگتاہے۔ وینزویلاکے حالیہ واقعات ہوں یاماضی کے ابواب ،جہاں اندرونی صفوں میں رخنہ نہ پڑا،وہاں امریکاجیسی بڑی عسکری قوت بھی اپنی تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجودکامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی بلکہ ذلت آمیز انجام کی تاریخ سے امریکی ندامت بھری پڑی ہے۔
صومالیہ میں پھنسے ہوئےامریکی دستے ہوں، افغانستان کی شکستہ وادیوں سے ہونے والا انخلا ہو یا تہران میں ناکام کارروائی ،ہرجگہ ایک ہی سبق رقم ہواکہ بیرونی طاقت اس وقت تک ناقابلِ تسخیرنہیں ہوتی جب تک اندرونی دیوارسلامت رہتی ہے۔جس ریاست میں نظمِ کمان برقراررہے،قومی عزم بیدار ہو اوراداروں کا رشتہ عوام کے اعتماد سے جڑا رہے، وہاں ٹیکنالوجی کے پہاڑبھی ریت ثابت ہوتے ہیں۔اسی پس منظرمیں ایک اورلمحہ فکریہ سامنے آتاہے۔جب چھوٹے ممالک یہ دیکھتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کمزوراور طاقتور کی مرضی کے تابع ہوچکاہے،توان کے دلوں میں یہ احساس جنم لیتاہے کہ اپنی بقاکے لئے خودکفالت اور دفاعی خودانحصاری ناگزیرہے۔یہ بھی بعیدنہیں کہ تیسری دنیاکے کئی ممالک اپنی سلامتی کے تصورکوایٹمی واسٹریٹجک صلاحیت سےجوڑنے لگیں،اوراس راہ میں وہ چین، روس یا پاکستان جیسے ممالک کی طرف دیکھیں جوپہلے ہی دفاعی میدان میں اہم تجربہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون،اور دیگرعرب ممالک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی،اسی بدلتے ہوئے عالمی احساس کاعکاس ہے۔
لیکن تاریخ کایہ باب ہمیں ایک اورسبق بھی دیتاہےکہ اصل قوت ہتھیارنہیں،ایمان دار قیادت ، قومی وحدت اوراداروں کےدرمیان مضبوط اعتماد ہے ۔ جوقومیں اندرسے ٹوٹ جائیں، انہیں باہر سے صرف دھکا دیناپڑتاہے؛اورجواندر سے مضبوط ہوں،انہیں بڑے سے بڑاطوفان بھی جھکانہیں سکتا۔وقت اپنے فیصلے محفوظ رکھتاہے مگر تاریخ آج بھی یہی کہہ رہی ہے کہ سلامتی کی بنیاداسلحےسے زیادہ اتحادمیں ہے،اوردفاع کاپہلا مورچہ ریاست کے اندرکانظم وضبط ہے۔

یہ بھی پڑھیں