تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی؛وہ ہرلمحے قلم کے ٹک ٹک میں لکھتی ہے،اوروقت کے مقررہ لمحے پراس کے فیصلے سامنے آتے ہیں۔ آج تاریخ ایک بارپھراپنے صفحات پلٹ رہی ہے اوردنیاایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں طاقت کے دعوے،نظریات کے جال اورعلاقائی مفادات کی کشمکش نے عالمی امن وسلامتی کے توازن کوجھنجھوڑکررکھ دیاہے۔دنیاکی سیاست ایک ایسادریاہے جواپنی موجوں میں طاقت اوراثرورسوخ کے رنگ بکھیرتارہتاہے۔تاریخ کے صحیفے بارباریہ سبق دیتے ہیں کہ طاقت کے گھوڑے جوسرحدوں سے باہر دوڑتے ہیں،اکثراندرونی دیواروں کے رخنے سے ہی شکست کھاتے ہیں۔
کوئی بھی قوم یاریاست،چاہے وہ کتنی بھی طاقتورنظرآئے،جب تک داخلی یکجہتی،مضبوط قیادت اورنظم وضبط نہ رکھے،اس کی بنیادیں لرزاں رہتی ہیں۔ طاقت صرف فوجی قوت یا عسکری ہتھیارنہیں،بلکہ داخلی قیادت اورقومی ہم آہنگی کے بغیرعارضی اورغیرپائیدار رہتی ہے۔طاقت اورقوت محض جسمانی یاعسکری نہیں بلکہ ایمان،حکمت اورعقل کے ساتھ مربوط ہوتی ہے۔اسی پس منظرمیں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے حالیہ اقدامات نے عالمی سیاست میں ایک نیاہنگامہ کھڑاکردیاہے،جس کی لہریں وینزویلاسے شروع ہوکرممکنہ طورپر دیگر ممالک تک پہنچ سکتی ہیں۔
ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق2006ء کے آغازمیں ٹرمپ نے وینزویلامیں ایک حیران کن اورمتنازع فوجی کارروائی کی،جس میں نیکولس مادورو کو گرفتارکرکے امریکی خارجہ پالیسی میں غیرملکی مداخلت کے نئے خطرات کومنظرعام پرلادیاگیا۔یہ اقدام محض ایک علاقائی واقعہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست کے آسمان پرگرجتاہواوہ بادل ہے جس کے سائے میں کئی خطرات اورسوالات چھپے ہیں۔اورجونہ صرف طاقت کے استعمال بلکہ عالمی نظام،بین الاقوامی قوانین اوردیگر ممالک کے مستقبل کے لئے ایک غیرمعمولی نشان بن گئی ہے۔یہ واقعہ ہمیں یاددلاتاہے کہ طاقت صرف جسمانی یاعسکری نہیں بلکہ حکمت،قیادت اورداخلی نظام کے ساتھ مربوط ہوکرہی پائیداررہتی ہے۔
ٹرمپ کی یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب انہوں نے2025ء میں نوبل امن انعام نہ جیتنے کے بعداپنی بین الاقوامی ساکھ کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش کی۔اس اقدام نے ظاہرکیاکہ وہ وہی سخت گیر حکمت عملی اختیارکررہے ہیں جس کے خلاف ماضی میں خودمہم چلاتے رہے،اوراس سے دنیامیں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ دیگرممالک بھی ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔اس کانتیجہ عالمی برادری میں اضطراب اورغیر یقینی صورتحال کے طورپرنمودارہوا۔
جنوری2026ء کے آغازمیں،ٹائم میگزین کے مطابق صدرٹرمپ نے وینزویلاکے رہنمانیکولس مادوروکوگرفتارکرکے ایک متنازع فوجی اقدام کیا۔یہ اقدام بظاہرایک ملک کے اندرونی معاملے کی شکل اختیار کرتا ہے،مگرحقیقت میں یہ پوری دنیاکے لئے ایک انتباہ بھی ہے۔اس کارروائی نے واضح کیاکہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی وہی سخت گیرحکمت عملی اختیارکر رہی ہے جس کے خلاف وہ خودمہم چلاتے رہے۔
کرکس میں یہ کارروائی عالمی تشویش کاسبب بنی،کیونکہ دیگرممالک،خاص طورپرکولمبیا،کیوبا،اور گرین لینڈ،ممکنہ ہدف بننے کے خوف میں مبتلاہو گئے۔ خصوصاً کولمبیاکے صدرگستاوو پیڈ روکے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں اورٹرمپ نے پیڈروکو منشیات کے غیرقانونی رہنما قراردے کرکولمبیامیں ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی۔ کیوباکے حوالے سے بھی ٹرمپ کے بیانات میں تضاد نظر آیا،ایک طرف اسے ناکام قراردیا،مگربعدمیں کہاکہ مداخلت کی ضرورت نہیں،یہ خودگرجائے گامگردوسری طرف تنبیہ اورسابقہ ارادوں کااشارہ بھی موجودتھا۔ اس کے اثرات عالمی سیاست میں ایک غیریقینی کیفیت پیداکرگئے۔یہ واضح ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت صرف فوجی یا اقتصادی نہیں بلکہ سفارتی مہارت،نفسیاتی اثرات،اور غیرمستقیم دبائوکے ساتھ بھی استعمال ہوتی ہے۔
وینزویلاکے بعد،امریکی خارجہ پالیسی ممکنہ ہدف میں کولمبیا،کیوبااوردیگرخطوں کولے کرچلی جارہی ہے۔ٹرمپ کی دھمکیاں،فوجی مداخلت کے اشارے اور اقتصادی اثرات ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ عالمی طاقتیں اب مقامی مزاحمت،قانون اوراخلاقی حدود کو نظر انداز نہیں کرسکتیں۔وینزویلاکی کارروائی نے ٹرمپ کی گرین لینڈ کوامریکامیں شامل کرنے کی پرانی خواہش کودوبارہ اجاگرکیا،جس پر ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے سختی سے تردیدکرتے ہوئے سختی سے کہاکہ گرین لینڈکے مستقبل کافیصلہ وہاں کے عوام اور ڈنمارک کے حکمرانوں کاحق ہے۔برطانیہ اورفرانس نے بھی اس اقدام کومستردکیا۔برطانیہ کے وزیراعظم سرکیئراسٹارمر نے کہاکہ گرین لینڈ کے مستقبل کافیصلہ وہاں کے عوام اور ڈنمارک کے حکمرانوں کاحق ہے،اورہم ڈنمارک کی وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ سرحدیں طاقت سے تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔گرین لینڈ، گرین لینڈکے عوام اورڈنمارک کے عوام کاہے اوریہ ان پرمنحصرہے کہ وہ اس کے ساتھ کیاکریں۔ٹرمپ کاکہنا تھا کہ امریکاکوقومی سلامتی کے نکتہ نظرسے گرین لینڈ کی ضرورت ہے،جس پرگرین لینڈکے وزیراعظم جینس نیل سن نے واضح کردیاکہ بس بہت ہو چکا،اب ہم مزیددبائو برداشت نہیں کریں گے۔ مذاکرات مناسب چینل کے ذریعے اوراحترام کے ساتھ ہونے چاہئیں۔
یہ بیانات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ عالمی قوانین اورریاستوں کی خودمختاری،عسکری طاقت کے باوجود اولین اہمیت رکھتے ہیں۔یہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ عالمی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری،عسکری طاقت کے باوجوداولین اہمیت رکھتے ہیں۔طاقت کے مراکزا گر داخلی نظم وضبط اورقانونی دائرے کی پابندی نہ کریں توان کے اقدامات عارضی اور غیر مستحکم رہتے ہیں۔ایسے جارحانہ اقدامات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کے بلند بانگ دعوے،اگرمقامی عوام اورقانون کی مخالفت میں ہوں ، تو صرف بین الاقوامی سطح پر بحران پیداکرتے ہیں بلکہ عالمی امن کے لئے خطرناک صورت حال پیداکردیتے ہیں۔
(جاری ہے)