Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

دارالحکومت میں شجرکاری اور بے بنیاد ہیجان

اسلام آباد ایک سر سبز و شاداب شہر ہے۔ ہری بھری سبز پہاڑیاں اور شا ہراؤں کے دونوں جانب درختوں کی قطاریں بے حد دلکش نظارہ پیش کرتی ہیں ۔جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی یہ شادابی تب ہی برقرار رہ سکتی ہے جبکہ ارباب اختیار ماحول دشمن عناصر کا سدباب کرتے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح جڑواں شہروں خصوصا اسلام آباد میں انتقال آبادی کی شرح بہت تیزی سے بڑھی ہے ۔وفاقی دارالحکومت میں سرسبز درختوں کے درمیان کنکریٹ کی بنی عمارتیں نمودار ہونے لگی ہیں ۔مقامی رہائشی ان تعمیراتی کاموں اور ٹریفک کے اژ دھام سے بہت مضطرب رہتے ہیں ۔حال ہی میں ماحول کے تحفظ کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک بحث بہت شدت اختیار کر گئی ہے۔
یہ خبر تواتر سے میڈیا پر نشر ہوتی رہی کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے )کے زیر نگرانی متعدد بڑے درخت کاٹ دیے گئے ہیں۔ کاٹے گئے درختوں کی تعداد اور متاثرہ رقبے کا طول و عرض جان کر ہر صاحب فہم شہری پریشان ہوا ۔گود رختوں کے کاٹے جانے کی خبر درست تھی۔ لیکن اس کا سیاق و سباق بیان نہ کیے جانے سے شہریوں میں ابتدائی مرحلے میں منفی تاثر پیدا ہوا ہے۔ سی ڈی اے حکام اور وفاقی حکومت کے اہلکاروں کی جانب سے معاملے کی وضاحت بھی سامنے آ چکی ہے۔ یہ وضاحت کافی تسلی بخش اور جامع ہے ۔عوام میں پھیلی بے چینی میں واضح کمی آئی ہے تاہم یہ پہلو بھی پوری شدت سے اجاگر ہوا ہے کہ میڈیا پرکسی اطلاع یاخبر کو پیش کرتے ہوئے درست پس منظر اور مصدقہ اعداد و شمار کا استعمال کیا جانا چاہیئے۔ رواں سال کے آغاز میں درختوں کی کٹائی کا عمل کوئی خفیہ مجرمانہ کاروائی نہیں تھی بلکہ اس ماحول دوست مہم کاحصہ تھی جس کے تحت وفاقی دارالحکومت سے ماحول دشمن اور مضر صحت درختوں کو ختم کر کے مفید پودوں کو کاشت کیا جائے گا ۔ایف نائن اور شکرپڑیاں کے اطراف میں جنگلی شہتوت (پیپر ملبری )درختوں کی بہتات ہے ۔یہ درخت پولن انرجی کا باعث بنتا ہے۔ اسلام آباد کے مستقل رہائشی اور سیاحت کیے لیے آنے والے شہری پولن الرجی کی وجہ سے مستقل اذیت کا شکار بنتے چلے آ رہے ہیں ۔ماہرین ماحولیات کی سوچی سمجھی رائے تھی کہ جنگلی شہتوت کے درختوں کی بدولت اسلام آباد کی فضا میں پولن الرجی پھیلانے والے عناصر کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ دمے کےمرض میں مبتلا عمر رسیدہ شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں ۔اس صورتحال کے پیش نظر تین برس قبل بھی سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت وفاقی دارلحکومت سے یہ مضر صحت درخت کاٹے گئے تھے ۔وفاقی حکومت اور سی ڈی اے اہل کاروں کے مطابق حالیہ مہم درا صل الرجی اور دیگر متعدی امراض کا سدباب کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ ان مضر صحت درختوں کے کاٹے جانے کے بعد کیے جانے والے سروے کے مطابق پولن الر جی کے کیسز میں٪ 3 2فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ پہلو قابل توجہ ہے کہ حالیہ مہم میں محض درخت کاٹے نہیں جا رہے بلکہ ان کی جگہ نئے درخت کاشت بھی کیے جا رہے ہیں۔ شجرکاری کے لیے مقامی ماحول سے مناسبت رکھنے والے ایسے پودے کاشت کیے جائیں گے جو انسانی صحت اور قدرتی حیات کے لیے مفید ہوں گے ۔حکام کے مطابق نئی شجرکاری مہم میں شیشم، چنار اور سکھ چین جیسے درختوں کی کاشت کی جائے گی ؛جس سے بتدریج دارلحکومت کے ماحول میں مزید بہتری پیدا ہوگی ۔سی ڈی اے حکام اور وفاقی وزرا کا یہ فیصلہ بے حد حوصلہ افزا ہے کہ ہر کاٹے گئے مضر صحت درخت کی بدلے تین ماحول دوست درخت کاشت کیے جائیں گے۔ جبکہ بعض مقامات پر جگہ دستیاب ہونے کی صورت میں ایک کے بدلے دس درخت بھی لگائے جائیں گے۔ اس مہم کے بروقت آغاز سے اس سال مارچ کے موسم میں پولن انرجی کی شدت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ ماضی میں مارچ کے مہینے میں وفا قی دارالحکومت کے شفا خانوں میں متاثرہ مریضوں کی بھرمار ہو جاتی تھی۔ اس سال ماحول دوست اقدامات کی بدولت ہسپتالوں پر الرجی کے مر یضوں کا دباؤ کم ہو جائے گا ۔توقع ہے حا لیہ اقدامات کے نتیجے میں اسلام آباد کا موسم اور فطری حسن مزید نکھر جائے گا۔ وفاقی حکومت اور سی ڈی اے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تمام مثبت دعووں کو عملی جامع پہنا کر ناقدین کے پروپیگنڈے کو غلط ثابت کریں۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے شہریوں کی فکر مندی لائق تحسین ہے۔تاہم جو عناصر اچھے اقدامات کا سیاق و سبا ق مسخ کر کے میڈیا پر پیش کر کے عوام میں ہیجان پیدا کرتے ہیں ان کی مذمت بھی لازم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور عوام مل کر وفاقی دارالحکومت سمیت پورے ملک میں ما حولیا تی تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں