(گزشتہ سے پیوستہ)
2000ء کے عشرے میں جب امریکااپنی طاقت کے عروج پرتھا،پاکستان کی حکمت عملی اور چین کی سرمایہ کاری نے عالمی توازن کو بدل دیا،مگرپاکستان اورچین کی حکمت عملی نے اسے مقروض بنا دیا۔اس منظرنامے نے عالمی طاقتوں کے مفاہمت کے اصول کو دوبارہ سے واضح کیا۔امریکی خزانے پرقرضوں کے بوجھ اورمعاشی دباؤنے امریکاکوسیاسی و اقتصادی طورپرمحتاط بنادیا۔عالمی مالیاتی تجزیہ نگاروں نے کہاکہ پاکستان اورچین کی یہ مشترکہ حکمت عملی امریکاکی عالمی حکمرانی کیلئے ایک محتاط نشان ہے۔ عالمی میڈیامیں پاکستان کو ایسا ’’ایشیائی شطرنج کاماہر‘‘قراردیاجس نے امریکی طاقت کے بلندوبالامیناروں کے سائے میں خاموش لیکن مستحکم حکمت عملی سے اپناچراغ روشن رکھا، پاکستان نے عالمی سیاست میں خاموش مگر موثرحکمت عملی دکھائی جوچپکے سے میدان میںاس کی فتح یابی کی نویدبن گئی۔
امریکانے ایٹمی صلاحیت روکنے کیلئے ہر ممکن تدبیرآزمائی،کہیں این پی ٹی کاجال اورکہیں سی ٹی بی ٹی کادام مگرپاکستان کے عسکری وسیاسی دماغ بھی کم زیرک نہ تھے‘ ہرگرہ کوگرہ ہی سے کھولااوراپنے قومی مفادپرکوئی آنچ نہ آنے دی۔ امریکی دبائو اور دھمکیوں کے باوجودپاکستان نے اپنے قومی مفادکومقدم رکھااورشدیدترین دباؤ کے باوجودپاکستان نے ثابت قدمی سے اپنی پوزیشن برقراررکھی۔بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کوعملی جامہ پہنا دیا۔ 28مئی1998ء کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے عالمی طاقتوں کوواضح کردیاکہ قومی خودداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔یہ دن پاکستان کیلئے نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی فتح بھی ثابت ہوا۔ گویا پاکستان نے اپنے قومی مفادکے علم کو بلندکیااوردنیا کے طوفانی سمندرمیں اپنی کشتی کو مضبوط رکھ کر طوفان کامقابلہ کیا۔
امریکانے ایٹمی صلاحیت روکنے کیلئے ہر ممکن تدبیرآزمائی،مگر پاکستان کے عسکری وسیاسی دماغ بھی کم زیرک نہ تھے‘ ہرچال کا حکمت سے جواب دیااوراپنے قومی مفادپرکوئی آنچ نہ آنے دی۔ جنرل اسلم بیگ نے تاریخی مہارت دکھاتے ہوئے دستخط بھارت کے ساتھ مشروط کردیے، خاص طورپرامریکاکے دباکوناکام بنایا۔یہ سیاسی چال ایک تاریخی شاہکارتھی۔
جیسے صحرامیں ایک درخت نے طوفان کے مقابلے میں سرنہ جھکایا،پاکستان نے عالمی دباؤے سامنے اپنی شاخیں مضبوط رکھیں۔عالمی طاقتیں حیران تھیں کہ پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کوکیسے محفوظ رکھا؟
جب دباؤحدسے بڑھاتوبظاہررضامندی ظاہر کی گئی،مگرکس چابک دستی سے،سی ٹی بی ٹی، این پی ٹی پردستخط انڈیاکے دستخط سے مشروط کر دیے گئے،یوں گویابازی اپنے ہاتھ میں رکھی گئی اور انہی کی چال انہی کے نام سے چلائی گئی۔ امریکا نے ڈاکٹرشکیل کی حوالگی کیلئے ہرحربہ استعمال کیا،مگرپاکستان نے اپنی مضبوط اسٹیبلشمنٹ نے اسے بالکل کامیاب نہیں ہونے دیااوربری طرح ناکام بنایا۔طالبان اورحقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے امریکی منصوبے نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ ردی کی ٹوکری میں گئے ۔ گویا دشمن کا جال تنہاہوااورقومی طاقت نے اپنی دھات سے ہردھاگے کوتوڑدیا۔گویادشمن کے جال کو پاکستانی حکمت عملی نے نہ صرف توڑدیابلکہ اسے اپنی چھائوں میں محفوظ کرلیا۔آخروہ دن آگیاجب بھارت نے دوبارہ دھماکے کرکے عالمی بساط الٹ دی۔ پاکستان کوگویا آسمان سے موقع ملا۔چاغی کی پہاڑیوں نے28 مئی کے دن وہ ولولہ دیکھاجب قوم نے اپنی حمیت کااعلان زمین سے آسمان تک سنا دیا۔
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے حوالے سے پابندیوں،دبااورعالمی پروپیگنڈے کی آندھیاں چلتی رہیں،مگرریاست نے اپنے اس اثاثے کی ایسی حفاظت کی کہ امریکادانت بھینچتارہ گیا ۔ امریکی پابندیوں اوردبائوکے باوجود پاکستان نے ڈاکٹر قدیر کی حفاظت کوممکن بنایا۔پاکستان نے جنرل مشرف اور جنرل باجوہ کے باوجودڈاکٹرشکیل کی امریکا حوالگی کامیاب نہ ہونے دی،امریکی ہرحربہ آزما چکے تھے مگرپاکستان کاداخلی انفراسٹرکچرکامیاب رہا۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ قومی اثاثوں کی حفاظت میں عالمی دباؤناکام رہتاہے اورقومی اثاثے صرف ہتھیاریاوسائل سے نہیں، بلکہ حکمت عملی اورداخلی نظم سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔امریکی دبائو کے باوجود قومی مفادکے تحفظ نے عالمی تجزیہ نگاروں کو حیرت میں ڈال دیا۔پاکستان کی داخلی مضبوطی اورقومی قیادت کی حکمت عملی نے ایک مثال قائم کی۔
امریکی کوششوں کے باوجود پاکستان نے کوئٹہ شوری یاحقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کی،جس سے داخلی نظم وضبط کے تحفظ کی مثال قائم ہوئی۔طالبان اورحقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنا،ایک عاقلانہ حکمت عملی تھی جس نے امریکاکی فوجی کوششوں کو ناکام بنایا،امریکانے پابندیاں لگائیں اورہرحربہ استعمال کیا،مگرداخلی سکیورٹی کے باعث ڈاکٹر قدیر محفوظ رہے۔ خودکش حملوں کی آگ بھڑکانے کی کوششیں ہوئیں،بازومروڑنے کی تدبیریں اختیارکی گئیں،مگرپاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ اپنے ہاتھ میں رکھا، نہ کوئٹہ شوریٰ پر کاری ضرب لگی،نہ حقانی نیٹ ورک پر،گویاایک شیرنے اپنے بچوں کوشکارکی دنیاسے محفوظ رکھا اور دشمن کوصرف خالی دانت دکھائے۔
محترمہ بینظیربھٹوکے دورمیں پاکستان نے شمالی کوریاکے ساتھ ایسا سٹریٹجک تبادلہ کیاجس نے خطے کے توازن کونئی کروٹ دی،میزائل ٹیکنالوجی ادھر آئی،ایٹمی فہم وفراست ادھر گئی ۔ محترمہ بینظیربھٹوکے دورمیں شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی گئی۔پاکستان نے نہ صرف اپنی فوجی استعدادبڑھائی بلکہ شمالی کوریاکے ساتھ تبادلہ عمل میں بھی عالمی طاقتوں کو حیران کیا۔پاکستان نے شمالی کوریاسے میزائل پروگرام کی ڈرائنگز حاصل کیں،اورساتھ ہی انہیں’’بریف کیس‘‘ تحفے کے طورپرفراہم کرکے عالمی سیاسی بازیگری میں اپنی مہارت دکھائی۔ پاکستان نے نہ صرف میزائل ٹیکنالوجی میں اپنی فوجی استعدادبڑھائی بلکہ شمالی کوریاکے ساتھ تبادلہ عمل میں بھی عالمی طاقتوں کو حیران کردیا۔
اسامہ بن لادن کی مخبری کے پس منظرمیں شکیل آفریدی کی حوالگی کامعاملہ ہویابین الاقوامی دبا، امریکانے ہردرکھٹکھٹایا،مگر ریاستی ڈھانچے نے اسے ملکی خودداری کے ترازومیں تولا اور فیصلہ ملکی وقار کے حق میں ہوا۔اس اقدام نے خطے میں طاقت کے توازن کوبرقراررکھااورامریکی دبائوکوحکمت سے کمزورکیا۔
پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار، جدید ٹیکنالوجی اورمضبوط قیادت موجودہے۔شام،عراق یا لیبیاکی طرح تباہی کاخطرہ یہاں نہیں۔قومی مفاد کے تمام اقدامات داخلی اوربین الاقوامی نظم وضبط کی بنیادپرہیں۔جیسے پہاڑاپنی جڑوں کی مضبوطی سے طوفان کوبرداشت کرتے ہیں، پاکستان بھی اپنی داخلی قوت سے ہرخطرہ سہتااوربرداشت کرتا ہے۔
پاکستانی عسکری حکمت عملی نے یہ کمال بھی دکھایاکہ امریکاکے جدیدترین اسلحے کے بہاؤ کو کنٹرول کرکے اس کی فوجی حکمت عملی میں خلل ڈال دیا۔امریکانے افغانستان میں جدید ترین اسلحہ اور فوجی سازوسامان کنٹینرزکے ذریعے پہنچائے، مگر پاکستانی اداروں نے راستے میں ہی ہرچیز کوچیک کیا۔ راستے میں رک کرنہ صرف اشیاکی جانچ کی جاتی بلکہ غیرقانونی اور’’نامعقول‘‘سامان روک لیاجاتا۔امریکی اسلحہ جب کنٹینرزمیں افغانستان کی طرف روانہ ہوتاتوراستوں کی گرد بہت کچھ اپنے اندر سمیٹ لیتی۔چیک پوسٹیں جاگتی رہتیں، اور مخصوص افراداپناحصہ لے جاتے۔یوں ہر قافلہ منزل تک پہنچنے سے پہلے تاریخ کاایک اور قصہ بن جاتا۔یہ حکمت عملی امریکی منصوبوں کو ناکام کرنے کااہم ذریعہ بنی۔جدید ہتھیار بھی پاکستان کی حکمت عملی کے سامنے بے بس ہوگئے۔ امریکی تجزیہ نگارحیران تھے کہ اتنے جدیداوروسیع وسائل کے باوجودمنصوبے کس طرح ناکام ہوگئے۔عالمی ذرائع نے پاکستان کی داخلی نگرانی اورسٹریٹجک مہارت کی تعریف کی۔گویاایک چالاک میزبان نے اپنے گھرمیں آنے والے مہمان کی ہرحرکت پرنظررکھی، اوراپنی قومی سلامتی کیلئے ہرقدم پر اسے راستے سے ہٹادیا۔(جاری ہے)