Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی

تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی،تاریخ ہر لمحے قلم کی زبان میں لکھتی ہے،اوروقت کے مقررہ لمحے پراس کے فیصلے سامنے آتے ہیں۔ آج دنیاایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کےدعوے، نظریات کےجال اورعلاقائی مفادات نےعالمی امن وسلامتی کےتوازن کو جھنجھوڑ کررکھ دیاہے۔ تاریخ بارباریہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے گھوڑے جوسرحدوں سے باہر دوڑتے ہیں اکثر اندرونی دیواروں کے رخنے سے شکست کھاجاتے ہیں۔کوئی قوم یاریاست،چاہے کتنی بھی مضبوط نظر آئے، جب تک داخلی یکجہتی اورمضبوط قیادت نہ رکھے،اس کی بنیادیں لرزاں رہتی ہیں۔
تاریخ کبھی بہری نہیں رہتی؛ہرلمحہ اس کی قلم کاری کی گونج سنتے ہوئے انسانی اعمال کے فیصلے سامنے آتے ہیں۔ہرقوم کی عظمت یا زوال کی کہانی صفحاتِ تاریخ میں محفوظ ہے اور عالمی طاقتوں کی حرکات وسکنات ہمیشہ ایک سبق کے طورپرباقی رہتی ہیں۔تاریخ کے طویل وپیچیدہ کارواں میں بعض ایسے موڑآتے ہیں جہاں کمزورسمجھی جانے والی اقوام بھی قوت وجرأت کی ایسی داستان رقم کر جاتی ہیں کہ سپر پاورزکی پیشانی پرشکن اوردلوں میں اضطراب پیداہوجاتاہے۔یہ بھی یادرہے کہ تاریخ کبھی خالی ہاتھ بھی نہیں رہتی اورنہ ہی طاقت کے مراکزاپنی ہرحرکت کاحساب چھپاتے ہیں۔ ہر اقدام،ہرفیصلہ اورہرمحاذکی کہانی قلم کی زبانی محفوظ رہتی ہے۔برصغیرکے اس خطے میں قائم پاکستان نے نہ صرف اپنی خودمختاری کی حفاظت کی بلکہ عالمی طاقتوں کیلئےایک ایساسبق قائم کیاجسے صرف علم وحکمت کے ترازومیں ناپاجاسکتاہے۔ طاقت محض عسکری یا جسمانی نہیں بلکہ ایمان،حکمت اورعقل کے ساتھ مربوط ہوتی ہے۔یہی سبق نائن الیون کے واقعہ کے بعد پاکستان نے تاریخ میں رقم کیاکہ آج خودمغرب اور امریکی دفاعی وسیاسی تجزیہ نگاربھی پاکستان کی اس حکمت عملی پرانگشت بدنداں ہیں۔
برصغیرکے اس خطے میں قائم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ بھی کچھ ایسی ہی داستانِ عزیمت سے عبارت ہے۔یہ وہ ملک ہےجس نےمحض وسائل کی کمی کے باوجود،عزم و ارادہ اورحکمت وتدبرکے ہتھیار سےدنیاکی عظیم طاقتوں کے حسابِ سودوزیاں میں ہلچل پیدا کر دی۔پاکستان کی تاریخ کایہ باب خاص اہمیت رکھتا ہےکیونکہ اس نے نہ صرف اپنی خود مختاری کی حفاظت کی بلکہ عالمی طاقتوں کوایسے سبق سکھائے جوتاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے رقم ہوں گے۔افغانستان کی جنگ،ایٹمی دھماکے،اسامہ بن لادن کا معاملہ،شمالی کوریاکےمیزائل اورایبٹ آبادمیں سٹیلتھ ہیلی کاپٹر کاواقعہ،یہ سب ایسے مواقع ہیں جہاں پاکستان نے عالمی طاقتوں کے دبائوکوناکام بنایااورقومی مفادکومقدم رکھا۔یہ رپورٹ ان حکمت عملیوں،سیاسی تدابیر اور عسکری واقتصادی فیصلوں کامفصل تجزیہ ہے جس نے پاکستان کوخطے میں ایک مستحکم اورمحفوظ ایٹمی طاقت کےطورپرقائم رکھا۔یہ بات تاریخ کے اوراق میں کسی مبالغے کےبغیردرج کی جا سکتی ہےکہ جس قدراسٹریٹجک اور نفسیاتی نقصان پاکستان نےامریکاجیسی متکبرطاقت کوپہنچایا، اس کی مثال کسی اور ریاست کے ہاں مشکل ہی سے ملتی ہے۔پاکستان نے اس لحاظ سے تاریخ رقم کی کہ پاکستان نےدنیاکی کسی بھی ریاست کے برعکس امریکاکووہ نقصان پہنچایاجس کاتصوربھی مشکل تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگاکہ جس قدرنقصان سپرپاور امریکا کوپہنچایا،وہ کسی اور ریاست کے بس کی بات نہیں۔کہیں وہ میدانِ سیاست میں مہرہ بنا،کہیں معمہ؛کہیں اتحادی کہلاکربھی امتحان بنارہا۔
سردجنگ کےبعدامریکاعالمی سیاست میں بالادستی کادعویدارتھا،مگرپاکستان نے افغانستان میں گڈاوربیڈطالبان کےکھیل سے امریکاکی منصوبہ بندی کوناکام بنایا۔کھربوں ڈالر امریکی خزانے سےخرچ ہوئے،مگر نتائج صرف پاکستان کےحق میں گئے۔یہ اسٹیبلشمنٹ کی مہارت کامنہ بولتاثبوت ہےکہ وہ چھوٹے مگرعسکری دانشمندانہ اقدامات سے عالمی طاقتوں کی حکمت عملی کوکس طرح ناکام کرسکتے ہیں۔تاریخ کاآئینہ جب ہم پرپڑتا ہے، توایک حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ طاقت کے بلندمیناربھی ایک عاقل دشمن کی حکمت عملی کے سامنےلرزسکتے ہیں۔پاکستان نےیہ ثابت کیاکہ کسی بھی عالمی سپرپاور کوصرف طاقت اور وسائل کے ذریعے شکست دیناممکن نہیں،بلکہ عقل،حکمت اورداخلی استحکام کی ضرورت ہے ۔
1979ء سے شروع ہونے والی سردجنگ کی کشمکش میں امریکانے پاکستان کوافغانستان میں ایک اہم کھلاڑی کے طورپراستعمال کیا۔ امریکاکا مقصد محض صرف سوویت یونین کے مقابلہ کے لئے پاکستان کواستعمال کرنانہیں تھا بلکہ اس خطے کی معدنیات اور پٹرول پر اپنا تسلط قائم کرنا مقصود تھامگرپاکستان نےاس جنگ میں امریکی دھمکی کے بعدشمولیت تو اختیارکرلی مگرامریکی منصوبہ بندی کواپنے قومی مفادکےمطابق موڑ دیا۔طالبان کے دودھڑے ’’گڈطالبان اوربیڈ طالبان‘‘ کے کھیل میں پاکستان نے امریکی منصوبوں کو الجھاکرکھربوں ڈالرامریکی خزانے سےضائع کردئیے۔ گویا امریکاکی طاقت کا کمرہ سیاست ایک خالی کمرے میں گونجتارہااورپاکستان نےہرکمرے کی دیوار پر اپنےنقوش ثبت کردئیے۔امریکا کی طاقت کے بلند مینارکےسائےمیں پاکستان کی حکمت عملی نے خاموشی سے اپنی بنیادیں مضبوط کیں، اورہرقدم پر امریکی منصوبوں کی دیواریں کھچکیاں کھاتی رہیں۔ امریکی عوام اورکانگریس میں حیرت واضطراب پیداہواکہ اتنے بڑےوسائل کےباوجودکامیابی حاصل کیوں نہیں ہو رہی۔ عالمی تجزیہ نگاروں نے پاکستان کی حکمت عملی کو’’اسٹیلتھ سٹرٹیجی‘‘ قراردیا، یعنی ایسی حکمت عملی جونظرنہ آئے مگراثرڈالے۔ پاکستان نے’’گڈطالبان اوربیڈطالبان‘‘کی امریکی سازش کےاس کھیل کواپنے قومی مفادکے مطابق موڑدیا۔گویاامریکی منصوبہ خودان کے گلے پڑگیااورپاکستان نےامریکاکو افغانستان میں گڈطالبان، بیڈطالبان‘‘کے کھیل میں الجھاکراربوں ڈالرخرچ کروائےاورعالمی مقروض بنادیا۔پاکستان کی اس حکمت عملی نے نہ صرف امریکا کو ناکام بنایابلکہ اس کے خزانے سے کھربوں ڈالرخرچ کروادیے،جس سے عالمی مالیاتی توازن بھی متاثرہوا۔چین نےامریکی بانڈزخریدکرامریکا کومزیداقتصادی طور پر کمزور کیا مگراس کارنامے میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کاکردارسب سےاہم رہا۔عالمی میڈیانے پاکستان کی حکمت عملی کو’’شطرنج کااستاد‘‘قراردیا۔امریکی تجزیہ نگارحیران تھےکہ اتنے بڑے وسائل کےباوجود افغانستان میں کامیابی کیوں حاصل نہیں ہورہی۔گویاایک تجربہ کارشاگردنے استاد کے کھیل میں چھپی چالوں کوسمجھ کرمات دےدی۔ پاکستان کی خاموش حکمت نے امریکی منصوبوں کوالجھادیااور عالمی منظرنامے پرگہراناقابل تلافی اثرچھوڑا۔
چین نےاگراربوں ڈالرکےامریکی بانڈز خرید کراسے اپنامقروض بنایاتواس داستان کاایک باب پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بھی لکھاگیا۔یہ بھی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے طویل مدتی کھیل کی کامیابی تھی۔دودہائیوں تک افغانستان کےدشت وکوہ میں گڈطالبان اور بیڈطالبان کی شطرنج نے امریکاکو اس قدرالجھائےرکھاکہ اس کی جھولی سےخزاں کی برگِ گل کی طرح کھربوں ڈالرجھڑگئے۔پاکستان نے دو دہائیوں تک امریکاکو افغانستان میں الجھایا اورمعاشی بوجھ ڈالا۔امریکاقرض لیتارہا،چین اس کافائدہ اٹھاتا رہا،اورپاکستان نے اپنےقومی مفاداورملک سلامتی کےلئےاس کھیل کوبخوبی کھیلا۔پاکستان نےایک قومی حکمت عملی کے تحت سب سے بڑامالی اورسیاسی فائدہ حاصل کیالیکن دوسری طرف نتیجہ یہ نکلاکہ طاقت کا ترازو ایک روزاچانک پلٹ گیا۔گویاامریکاایک میدان میں خالی ہاتھ کھیلنے آیا،مگرپاکستان کی عمدہ تدابیرنے ہرقدم پرایساالجھایاکہ چین کی سرمایہ کاری نے امریکی طاقت کے پاؤں تلے زمین کھینچ دی۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں