تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب قومیں اپنے وجودکے دفاع کے لئے باہمی اعتماداورمشترکہ بصیرت کی بنیادرکھتی ہیں تومحض معاہدے نہیں بنتے،بلکہ تاریخ کے دھارے بدلتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں یہ اصول مسلمہ ہے کہ انفرادی سلامتی کبھی پائیدارنہیں ہوتی جب تک اجتماعی سلامتی کاحصارموجودنہ ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والاحالیہ دفاعی معاہدہ اسی نوع کی ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے،جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کودونوں ریاستوں کے خلاف جارحیت تصورکیاجائے گا۔ یہ شق محض الفاظ کامجموعہ نہیں بلکہ دوریاستوں کے مابین مشترکہ تقدیرکااعلان ہے۔یہ شق محض دفاعی نہیں بلکہ سیاسی،نفسیاتی اوراسٹریٹجک ڈیٹرنس رکھتی ہے جودشمن کے حملے کوسوبار سوچنے پرمجبورکرتی ہے۔
پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان طے پانے والایہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ اسلامی دنیامیں اجتماعی سلامتی کے تصورکی جانب ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔یہ معاہدہ نہ صرف دوطرفہ دفاعی تعاون کوادارہ جاتی شکل دیتاہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن،مسلم ریاستوں کی خودمختاری، اورعالمی سلامتی کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ایک نئے اجتماعی مسلم سیکیورٹی فریم ورک کی بنیاد رکھتاہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والادفاعی معاہدہ اسی اصول کی عملی تعبیرہے ، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصورکیاجائے گا۔آنے والے دنوں میں ترکیہ اورایران کی ممکنہ شمولیت اس اتحادکوایک وسیع تراسلامی دفاعی معاہدہ میں تبدیل کرسکتی ہے۔
قومی سلامتی سے اجتماعی سلامتی تک کے اس سفرکاآغازایک مشترکہ دفاعی اصول کی طرف گامزن ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی سلامتی کانظام اس وقت شدیدعدم توازن کاشکارہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات،غزہ میں انسانی بحران،جنوبی ایشیاء میں ایٹمی کشیدگی،مسلم ریاستوں پرسیاسی وعسکری دبائونے اسلامی دنیامیں ایک ایسے اجتماعی دفاعی ماڈل کی ضرورت کو اجاگرکیاہے جونیٹوکی طرزپرہومگر عالمی سیاسی بالادستی سے آزادہو۔
پاکستان اورسعودی عرب کے مابین طے پانے والا دفاعی معاہدہ اس اصول پرمبنی ہے کہ کسی ایک ریاست کے خلاف جارحیت کواجتماعی جارحیت تصور کیا جائے گا۔یہ تصورجدیدعالمی سلامتی کے نظام میں ایک تسلیم شدہ حقیقت کی شکل میں سامنے آچکاہے جیسے نیٹو آرٹیکل5 کی واضح شق نہ صرف عسکری تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ دشمن قوتوں کے لئے مشترکہ اسٹرٹیجک ڈیٹرنس بھی پیداکرتی ہے۔
سعودی ولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان اور وزیرِاعظم پاکستان میاں محمدشہبازشریف کے دستخطوں سے وجودمیں آنے والایہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اس عزم کامظہرہے کہ دونوں ممالک اپنے تاریخی تعلقات کورسمی دوستی سے نکال کرعملی دفاعی شراکت داری کی سطح پر لے آئے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں سفارت کاری نے عسکری بصیرت سے ہاتھ ملایاہے۔ولی عہدمحمد بن سلمان اوروزیراعظم شہبازشریف کے مابین اسٹریٹجک ہم آہنگی نے اس معاہدے کومحض علامتی نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت میں تبدیل کیاہے۔اعلی سطح کی قیادت میں یہ فیصلہ علاقائی عدم استحکام،بڑھتے ہوئے جیوپولیٹیکل خطرات اورمسلم دنیاکے خلاف بڑھتے ہوئے دبائوکے تناظرمیں ایک پیشگی اسٹرٹیجک عملی اقدام کے طور پر سمجھاجارہاہے۔
ولی عہدمحمدبن سلمان اوروزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں طے پانے والایہ معاہدہ اس حقیقت کااعلان ہے کہ اسلامی دنیامیں اب محض ردِعمل نہیں بلکہ پیش بندی کاشعورجنم لے چکاہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب قیادت نے وقتی سفارتی مصلحت کی بجائے طویل المدتی سلامتی کو ترجیح دی ہے۔پاک سعودی دفاعی معاہدہ اس اصول پرقائم ہے کہ کسی ایک ریاست کے خلاف جارحیت، دونوں کیخلاف جارحیت تصورہوگی ۔یہ شق نیٹوکی آرٹیکل5 سے مماثلت رکھتی ہے اورمشترکہ دفاعی ردِعمل کے طو ر پر ممکنہ جارح قوتوں کے لئے مشترکہ ڈیٹرنس پیدا کرتی ہے۔
یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کی قومی سلامتی کومضبوط بنانے کاذریعہ ہے بلکہ خطے اوردنیامیں امن کے قیام کے لئے مشترکہ ارادے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اس کابنیادی مقصددفاعی تعاون کوفروغ دینااورکسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مشترکہ تحفظ کو موثر بناناہے۔ یوں یہ معاہدہ طاقت کے توازن کوجارحیت کی بجائے امن کے حق میں موڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
اس معاہدے کابنیادی مقصددفاعی تعاون کوادارہ جاتی شکل دینا،مشترکہ خطرات کے خلاف متحدہ ردِعمل، خطے اوردنیامیں امن کے قیام میں فعال کردار ادا کرناہے۔یہ تصوربعینہ وہی ہے جو یورپ نے دوسری جنگ عظیم کے بعدنیٹوکی صورت میں اختیارکیاتھا۔پاک سعودی دفاعی معاہدے کے بھی بنیادی مقاصداورکلیدی اہداف میں یہ شامل ہے کہ مشترکہ خطرات کے خلاف دونوں ممالک دفاعی تعاون کی ادارہ جاتی تشکیل کرتے ہوئے خطے اورعالمی سطح پرامن واستحکام میں مشترکہ کردارادا کریں گے۔یہ اہداف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاہدہ صرف دوطرفہ نہیں بلکہ یہ ریجنل سیکورٹی فریم ورک کی بنیادبھی فراہم کرتاہے۔
معاہدے کے بنیادی اہداف میں دفاعی تعاون کورسمی اورمستقل ڈھانچے میں تبدیل کرنا،موجودہ اور مستقبل کے خطرات کے خلاف مشترکہ تیاری، علاقائی اورعالمی امن کے لئے مشترکہ کردار، عسکری، انٹیلی جنس اوردفاعی صنعت میں تعاون مہیا کرنا ہے۔یہ اہداف اسے محض دفاعی نہیں بلکہ مشترکہ اسٹرٹیجک دفاعی معاہدہ کی شکل منسلک کرگیا ہے ۔
مشترکہ اعلامیے میں واضح کیاگیاکہ پاکستان اورسعودی عرب کی شراکت داری کوئی وقتی مفاد نہیں بلکہ آٹھ دہائیوں پرمحیط ایک مستحکم، آزمودہ اور با اعتمادتعلق ہے۔مشترکہ اسٹریٹجک مفادات، قریبی دفاعی تعاون اور عالمی چیلنجزکے تناظرمیں یہ معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی اورعالمی امن کے لئے مشترکہ عزم کی توثیق کرتاہے۔آٹھ دہائیوں پرمحیط شراکت داری محض سفارتی نہیں بلکہ عسکری تربیت، دفاعی مشاورت، خفیہ تعاون پرمبنی رہی ہے۔یہ معاہدہ اسی تاریخی رشتے کوقانونی واسٹریٹجک تحفظ فراہم کرتاہے۔یہ معاہدہ ایک مضبوط اورطویل المدتی طویل شراکت داری کوایک قابل اعتمادبھائی چارے کی بنیاد بھی فراہم کرتاہے جہاں اقوام عالم کویہ پیغام دینابھی مقصودہے کہ پاکستان حرمین کی حفاظت کونہ صرف اپنا ایمان سمجھتاہے بلکہ اسے اللہ اوراس کے رسولﷺکی خوشنودی کاوسیلہ بھی سمجھتاہے۔
یہ معاہدہ پاک۔سعودی اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی اوردفاعی تعاون کی مضبوطی کاعملی ثبوت ہے۔پاکستانی عسکری قیادت، بالخصوص آرمی چیف فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر،نے معاہدے کوعملی شکل دینے میں کلیدی کرداراد اکیا۔ اس معاہدے کے بعدپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ میں باضابطہ شراکت دار،اسلامی دنیامیں ایک ذمہ دار سیکورٹی ریاست کے طورپربھی ابھراہے۔اس معاہدے کے بعد پاکستان، حرمین شریفین کے تحفظ میں سعودی عرب کا باقاعدہ دفاعی شراکت داربن گیاہیاوریہ اعزازتاریخ میں کم ہی کسی غیرعرب ریاست کو حاصل ہواہے۔یہ کردارپاکستان کواسلامی دنیامیں ایک مرکزی دفاعی ستون بناتاہے اوریہ ذمہ داری محض عسکری نہیں بلکہ عقیدتی،تہذیبی اور تاریخی ہے۔
پاک سعوی دفاعی معاہدہ کے علاقائی اورعالمی مضمرات کانمایاں پہلویہ ہے کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کومستحکم کرتا ہے،جنوبی ایشیامیں سیکیورٹی ڈائنامکس پراثر انداز ہوتاہے ۔ مسلم ریاستوں کو مغربی عسکری انحصارسے جزوی آزادی دیتاہے۔ مشہورِ زمانہ عالمی ادارہ بلوم برگ اوردیگرعالمی ذرائع کے مطابق،اگرترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تویہ مشرق وسطی سے آگے تک طاقت کے توازن کومتاثرکرے گا۔
(جاری ہے )