انسانیت کے ابتدائی ترین معاشروں سے لے کر آج کے جدید ریاستی نظام تک قانون کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے جو طاقتور کے ہاتھ کو روکتا اور کمزور کے سر پر سایہ بنتا ہے۔ قانون وہ ضابطہ ہے جو معاشرے کو عدل، مساوات، وقار اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ قانون کا اولین مقصد یہ ہے کہ ہر فرد چاہے وہ طاقتور ہو یا کمزور، امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت برابر انصاف پائے۔ اسلام، جو انسانیت کے لیے وہ عظیم ضابطہ حیات ہے جس نے عدل و مساوات، انسانی عزت و وقار اور حقوقِ انسانی کو بنیادی مقام دیا، ہر ظلم، امتیاز اور ناانصافی کی نفی کرتا ہے۔ اس لیے جب ہمیں افغانستان کی موجودہ صورتِ حال میں ایک ایسے ضابطے کا نفاذ نظر آتا ہے جسے حکومتی حلقے نیا فوجداری قانون یا Criminal Procedure Code for Courts کہتے ہیں، تو یہ سوال اپنی وضاحت خود بن کرسامنے آجانا ہے کہ کیا یہ حقیقی اسلامی قانون ہے یا اس کا سیاسی و سماجی استبداد کی راہ نکالنے کی گھنائونی سازش ۔
نئے سال کے کے پہلے مہینے کے آغاز میں طالبان حکومت نے افغانستان کے لیے 119 شقوں پر مشتمل ضابطہ فوجداری منظور کیا جو 7جون سے مقامی عدالتوں میں نافذ کردیا گیا ہے ۔ اس قانون کا اعلان رسمی طور پر اس لیے کیا گیا کہ افغانستان کے عدالتی نظام کو اسلامی اصولوں کے مطابق منظم کیا جائے۔ لیکن حقیقت میں اس میں ایسا بہت کچھ شامل ہے جو نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس کے اندر اسلام کے بنیادی روح کو کچل کر رکھ دیا گیا ہے ۔ اصولوں کا غلط یا مروجہ تشریح شدہ ورژن پیش کیا گیا ہے۔
یہ نیا ضابطہ افغان معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کرتا ہے۔1۔علما/مفتیان 2۔اشراف یعنی ایلیٹ،3۔درمیانی طبقہ اور 4۔ نچلا طبقہ۔
اسی تشریح کے تحت کسی جرم کے لیے سزا کا معیار، جرم کی نوعیت کی بجائے فرد کے طبقے پر منحصر ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی مفتی جرم کرے تو صرف نصیحت کی جائے گی، اشرافیہ طبقے کو مشورہ اور طلبی، درمیانی طبقے کو قید، اور نچلے طبقے کو قید اور جسمانی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس غیر شرعی اور غیر انسانی تقسیم نے واضح طور پر نظام عدل پر نہ صرف کاری ضرب لگائی ہے بلکہ اسلامی مساوات کے اصول کو مجروح کیا ہے۔
اسلام میں سزا کا معیار جرم کی شدت اور ثبوت پر ہے، نہ کہ فرد کے معاشرتی درجے پر۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمیں عدل کا حکم دیا ہے۔
اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف کے ساتھ گواہی دو، خواہ وہ تمہارے اپنے مخالف ہوں یا تمہارے رشتہ دار۔(سورۃ النسا: 135)
لیکن موجودہ ضابطہ میں طبقاتی امتیاز کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، جو اسلام کی روح کے منافی ہے۔ عورتوں بچوں اور کمزور لوگوں پر مشتمل طبقات کی بے توقیری کا خصوصی ارتکاب کیا گیا ہے۔
نفسیاتی، ذہنی یا صنفی تشدد پر عام طور پر سزا یا تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، اور عام رویے کی بنیادی انسانی قدر کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ مگر اس قانون میں اس امر کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔جبکہ شارع اسلام نے بڑوں پر نرمی ، چھوٹوں پر شفقت کا حکم نافذ فرمایا ‘ لیکن اس کریمنل پروسیجر کوڈ میں عورت اور بچوں کی عزت و حفاظت کو کمزور رکھنے والی شقیں شامل کی گئی ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ نئے جاری کئے گئےضابطوں میں علماء اور مفتیان کو عملی طور پر سزا سے مبرا رکھا گیا ہے۔ اگر کوئی عالم جرم کرے تو اسے صرف نصیحت ملے گی، سزا نہیں۔ اس استثنا نے اسلام کی مساوات کی تعلیمات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسلام ہر ایک کو برابر قانونی اور اخلاقی جوابدہی کا پابند بناتا ہے۔ کوئی بھی طبقہ قانون سے بالاتر نہیں ہوتا، اور سزا کا دائرہ جرم کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے نہ کہ مرتکب کی حیثیت پر۔
طالبان کے ضابطہ قوانین کی جو تشریحات سامنے آئی ہیں وہ نہ صرف اسلام کی اصل روح سے متصادم ہیں بلکہ ایسے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے جو اسلامی تعلیمات، انسانی وقار اور مساوات کے بنیادی اصولوں سے براہِ راست نفی کرتے ہیں۔ جب ایک ضابطہ قانونی طور پر طبقاتی امتیاز، تشدد کے ناقابل قبول معیار، اور حقوقِ انسانی کی نفی کو فروغ دے تو اس کا نام نہ اسلام رہ جاتا ہے نہ انصاف بلکہ ایک دورِ قدیم کی امتیازی اور ظلم آمیز تشریح بن جاتا ہے۔
اسلام وہ ضابطہ حیات ہے جو ظلم کی ہر شکل کی نفی کرتا ہے، انصاف، مساوات، اور انسانی وقار کے ساتھ ہر شخص کو حقوق فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی قانون ان بنیادی اصولوں سے منحرف ہو کر طبقاتی سلوک، عورت اور بچوں کے حقوق کی پامالی، اور علما ء کے لیے امتیازی تحفظ فراہم کرتا ہے، تو اسے اسلام سے بغاوت ہی قرار دیا جاسکتاجا سکتا ہے ۔
اسلامی ریاست کا بنیادی مقصد انسان کی بھلائی ہے یہی جدید انسانی حقوق کی اہم شق بھی ہے جسے جدید طالبان حکومت نے یکسر نظر کردیا ہے ۔ ملا عمرکے دور میں شخصی آزادیوں پر کوئی قدغن لگائی گئی تھی نہ ہی ایسے کسی قانون پر عمل درآمد کی راہ ہموار کی تھی جس میں مختلف طبقات کے لئے الگ الگ قانون بنایا گیا ہو۔عدل وقار اور ظلم سے متعلق اسلامی قوانین میں کوئی ایسی تعبیر نہیں ملتی جو جدید افغان حکومت نے گھڑ لی ہے۔ان تعبیرات تو تشریحات کے تحت نہ پہلے کو ئی معاشرت چلی ہے نہ اب چل سکتی ہے ۔
اسلام اول دن سے یکساں انسانی حقوق کا علمدار رہا ہے اور یہی اسلام کا اصل حسن ہے کہ یہ طبقاتی تقسیم کی سرے سے حوصلہ شکنی کرتا ہے۔افغان حکومت کے مقاصد شریعت اسلام کے تصور حیات کی صریحاً نفی ہی نہیں بلکہ قرآن و حدیث کی نصوص سے انحرا ف ہے ۔
