Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

اکثریت کا غرور بھارتی زوال کا پیش خیمہ

ریاستیں محض جغرافیہ نہیں ہوتیں وہ اپنے رویوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ کسی معاشرے کی اصل شناخت اس کے طاقتور طبقے سے نہیں، بلکہ اس کے کمزور شہریوں سے بنتی ہے۔ اقلیتیں کسی بھی ملک کے لئے بوجھ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اس کے اخلاقی حسن، جمہوری اقدار اور آئینی سچائی کا پیمانہ ہوتی ہیں۔ جب کسی ریاست میں اقلیتیں خوف، عدم تحفظ اور محرومی کا شکار ہوں تو یہ محض ایک انسانی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کے عدم استحکام کی علامت بن جاتا ہے۔آج بھارت اسی امتحان کے دہانے پرکھڑا ہے اور افسوس کہ مسلسل ناکامی و نامرادی کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ بھارت خود کو آئینی طور پر ایک سیکولر ریاست قرار دیتا ہے۔ کیونکہ جواہر لال نہرو کے تصورِ ہندوستان میں مذہب ریاستی معاملات سے الگ تھا، اور تنوع کو طاقت سمجھا جاتا تھا۔ مگر گزشتہ ایک دہائی میں یہ تصور تیزی سے مجروح ہوا ہے۔ہندوتوا نظریہ جو ہندو مذہب کو ثقافت سے اٹھا کر ریاستی شناخت بنانے میں مصروف ہے اب صرف ایک سیاسی رجحان نہیں، بلکہ ریاستی پالیسی بن چکا ہے۔
2014 ء کے بعد سے بی جے پی حکومت نے جس جارحانہ قوم پرستی کے فروغ کا بیڑہ اٹھایا ہے، اس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا نشانہ مسلمان اقلیت بنی، جو بھارت کی آبادی کا تقریباً 14فیصد ہے۔بھارتی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کئی سطحوں پر نظر آتا ہے: گائے کے ذبیحہ کے نام پر مسلمانوں کو قتل کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ اکثر ملزمان بااثر ہوتے ہیں اور سزا سے بچ نکلتے ہیں۔CAA اور NRC شہریت کے قوانین نے مسلمانوں کو ثبوت دینے والا شہری بنا دیا۔ سوال یہ نہیں کہ کون بھارتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون مسلمان ہے۔مسلم علاقوں میں گھروں اور مساجد کی مسماری، بغیر عدالتی کارروائی کے، ریاستی طاقت کے بے رحم استعمال کی مثال ہے۔ وزراء ، اراکینِ پارلیمنٹ اور میڈیا اینکرز کھلے عام نفرت انگیز تقاریر میں مسلمانوں کو درانداز اور خطرہ قرار دیتے ہیں۔یہ سب کسی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے بیانیے کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔یہ کہنا غلط ہوگا کہ صرف مسلمان ہی نشانے پر ہیں۔عیسائی برادری پر جبری تبدیلیِ مذہب کے الزامات، چرچز پر حملے ،سکھوں میں سیاسی بے اعتمادی اور پرانے زخموں کی تازگی دلت جو ہندو ہوتے ہوئے بھی سماجی تشدد اور تحقیر کا شکار ہیںیہ سب اس امر کے شخسانے ہیں کہ مسئلہ مذہب سے زیادہ طاقت اور شناخت کی سیاست کا ہے ۔
بھارتی میڈیا کا بڑا حصہ اب صحافت نہیں، بلکہ پروپیگنڈہ کا ہتھیار بن چکا ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر نفرت فروخت ہوتی ہے اور ریٹنگ کے نام پر اقلیتوں کو مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔عدلیہ جو جمہوریت کا ستون سمجھی جاتی ہے کئی معاملات میں خاموش یا تاخیری حربوں کا شکار دکھائی دیتی ہے، جس سے انصاف کا تصور کمزور پڑتا جا رہا ہے۔پاکستان پر بھی اقلیتوں کے حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے، مگر ریاستی پالیسی اور آئینی موقف کو بھارت سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ آئین اور ریاستی موقف کے حوالے سے پاکستان کا آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے ،اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستیں رکھتا ہے ۔ریاست کو کسی ایک مذہب کی بنیاد پر شہری حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دیتا، بھارت میں، اس کے برعکس، آئین کی روح کو عملاً معطل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف تشدد زیادہ تر انفرادی یا گروہی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ریاستی سطح پر انہیں پالیسی کے طور پر فروغ حاصل نہیں، عدالتیں اور سول سوسائٹی اکثر مداخلت کرتی ہیں۔ جبکہ انڈیا میں، تشدد اور امتیاز کو ریاستی سرپرستی حاصل دکھائی ہے۔ پاکستانی ریاستی بیانیہ تمام شہریوں کو برابر تسلیم کرتا ہے۔بھارت میں ریاستی بیانیہ واضح طور پر کہتا ہے یہ ملک ہندوئوں کا ہے، باقی سب مہمان ہیں۔یہی بنیادی فرق ہے۔
عالمی سطح پر بھارت کے اس روئیے نے اس کے جمہوری تشخص کو شدید نقصان پہنچایا ۔کشمیر جیسے حساس مسئلے پر اس کے موقف کو کمزور کیا ہے۔اقلیتوں کے حقوق پر عالمی رپورٹس میں اسے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ ہندو اکثریت کا غرور، ریاستی زوال کا پیش خیمہ بن رہا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ریاستیں اقلیتوں کو کچلتی ہیں، وہ بالآخر خود بھی سلامت نہیں رہتیں۔بھارت آج جس راستے پر چل پڑا ہے وہ جمہوریت نہیں بلکہ اکثریتی آمریت کی طرف جاتا ہے جبکہ پاکستان کے لئے اقلیتوں کا تحفظ محض عالمی دبائو نہیں، بلکہ دینی، اخلاقی اور آئینی فریضہ ہے۔ یوں بھی ریاستیں توپوں سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتی ہیںاور انصاف وہی ریاستیں کر پاتی ہیں جو اپنے کمزور شہریوں کو سینے سے لگاتی ہیں انہیں کچلتی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں