شاہی خاندان پر کوئی قدغن نہیں، آئین و قانون سے ماوراکو ئی بھی عمل روا ہے ، عوام ہوں یا خواص اعتراض کیوں کرتے ہیں ، عدالتیں ان کی ، ایوانوں پر ان کا قبضہ ،وزیرومشیر ان کے زرخرید، عوام ان کی رعایا،پولیس ان کی،ادارےاور ان کو چلانے والے ان کی دسترس میں ، وہ اپنی خوشی پر سیم و زر کی نمودو نمائش کا جتنا مرضی اہتمام و انصرام کریں کوئی کون ہوتاہے ان پر انگلی اٹھائے،انہیں بتائے کہ آپ اپنے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط اور اصول و قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ شہزادے جنید کی بارات ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔
ریاستیںجب جمہوریت کےلبادے میں ملوکیت کا مزاج پال لیتی ہیں تو محلات کے اندر چراغاں اور محلات کے باہر اندھیرا بڑھنے لگتا ہے۔ اقتدار جب خدمت کے بجائے نمائش بن جائے تو ایوانوں کی روشنی عوام کی آنکھوں کو چندھیانے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب حکمران طبقہ خود کو قانون سے بالاتر اور عوام کو محض تماشائی سمجھنے لگتا ہے۔ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی منظرنامہ ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پستا ہوا عام آدمی، دوسری طرف حکمران خاندانوں کی تقاریب میں سونے چاندی کی چمک دمک۔ ایک طرف بجلی کے بلوں سے تنگ شہری، دوسری طرف سینکڑوں قمقموں اوررنگوں کی روشنی کے بہتے دریا میں شاہانہ ضیافتیں۔ ایک طرف آٹے کی قطاریں، دوسری طرف پھولوں سے سجے دربار۔
سوال شادی کا نہیں، سوال ترجیحات کا ہے۔ سوال خوشی منانے کا نہیں، سوال اس احساس کا ہے جو حکمران طبقے کے طرزِ عمل سے عوام کے دل میں راسخ ہوتا ہے۔جب ریاستی عہدوں پر فائز شخصیات ایسے مواقع پر بےلگام نمود و نمائش کا مظاہرہ کرتی ہیں تو یہ محض ایک خاندانی تقریب نہیں رہتی، یہ ایک سیاسی پیغام بن جاتی ہے کہ اقتدار اب بھی عوامی امانت نہیں، خاندانی میراث ہے۔ عہدہ خدمت کا نہیں، اختیار کا نشان ہے۔ قانون سب کے لیے برابر نہیں، کچھ لوگ اس سے ماورا بھی ہیں۔یہ تاثر کیوں جنم لیتا ہے؟ کیونکہ عوام دیکھ رہی ہوتی ہے کہ عدالتیں خاموش،ادارے مہر بلب ہوتے ہیں،وزرا خوشامد میں مصروف اور سرکاری وسائل پس منظر میں کھڑے قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں۔
ریاستی عہدے پر موجود کسی شخصیت کی ذاتی تقریب کبھی مکمل طور پر نجی نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ پروٹوکول جڑتا ہے، سرکاری مشینری جڑتی ہے، سکیورٹی جڑتی ہے، اور سب سے بڑھ کر ریاستی اخلاقیات جڑتی ہیں۔ ایسے میں سادگی محض ذاتی خوبی نہیں رہتی، یہ ایک سیاسی بیانیہ بن جاتی ہے اور فضول خرچی صرف ذوق نہیں رہتی، یہ ایک سیاسی بے حسی بن جاتی ہے۔
پاکستان اس وقت جن معاشی حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ سرکاری بیانات میں کفایت شعاری، سادگی، قربانی اور مشکل فیصلوں کی باتیں کی جاتی ہیں۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ صبر کریں، حالات بہتر ہوجائیں گے۔ لیکن جب انہی ایوانوں سے روشنیوں کی برسات ہو، تو یہ الفاظ اپنا وزن کھو دیتے ہیں۔حکمران اگر عوام سے قربانی مانگے تو پہلے خود مثال دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے لیڈر اپنی ذاتی زندگی میں سادگی کو اختیار کر کے اخلاقی برتری حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جب حکمران طبقہ خود شاہانہ طرزِ زندگی اپنائے اور عوام کو کفایت شعاری کا درس دے، تو یہ تضاد عوام کے دل میں احترام کے بجائے کم مائیگی پیدا کرتا ہے۔یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست بتدریج خاندانی اقتدار میں ڈھلتی جارہی ہے۔ بیٹا، بیٹی، داماد، بھتیجا سب اقتدارکے ایک ہی مدار کا حصہ۔ ایسے میں جب کسی شہزادے کی بارات نکلتی ہے تو یہ محض ایک شادی نہیں لگتی، یہ ملوکیت کی علامت محسوس ہوتی ہے۔ اور عوام کے ذہن میں وہی سوال گونجتا ہے:
کیا ہم شہری ہیں یا رعایا؟
پنجابی شاعر کا درد آج بھی زندہ ہے:
تنگ گھراں دیاں الہڑ کڑیاں رو رو واجاں مارن
یا ساڈی لنگدی عمر نوں روکو یا سانوں پرنائو
یہ شعر ، طبقاتی تقسیم کا نوحہ ہے۔ ایک طرف وہ گھر جہاں بیٹیوں کی شادیاں معاشی بوجھ بن جاتی ہیں، دوسری طرف وہ محلات جہاں دولت کی ریل پیل خوشی سے زیادہ طاقت کی نمائش بن جاتی ہے۔
ریاستی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اندھی نہیں۔ وہ دیکھتی ہے کہ کس کے بچے بیرونِ ملک تعلیم پاتے ہیں، کس کے گھروں میں شاہانہ تقاریب ہوتی ہیں، اور کس کے دروازے پر علاج کے پیسے نہ ہونے سے موت دستک دیتی ہے۔یہاں اصل مسئلہ کسی ایک تقریب کا نہیں، بلکہ حساسیت کے فقدان کا ہے جو حکمرانی کی روح ہوتی ہے۔ اقتدار اگر عوام کے دکھ سے بےخبر ہو جائے تو وہ جمہوریت نہیں رہتا، انتظامی بادشاہت بن جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں حکمرانوں کی سادگی مثال بن کر پیش کی جاتی ہے۔ وجہ یہ نہیں کہ وہ خوشی نہیں مناتے تھے بلکہ یہ کہ وہ عوام کے حال سے بےخبرنہیں ہوتے تھے۔ ان کے دسترخوان اور عوام کے دسترخوان میں زمین آسمان کا فرق نہیں ہوتا تھا۔ یہی فرق حکمران کو حاکم نہیں، خادم بناتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اپنی نجی خوشیوں کو بھی عوامی احساس کے ساتھ جوڑیں۔ سادگی اختیار کرنا کمزوری نہیں، اخلاقی طاقت ہے۔ پروٹوکول کم کرنا وقار گھٹانا نہیں، عوام سے رشتہ مضبوط کرنا ہے۔ورنہ فاصلے بڑھتےجاتے ہیں۔پھر ایوانوں میں موسیقی بجتی ہے اور گلیوں میں بھوک ناچتی ہے۔محلوں میں روشنیوں کی برسات ہوتی ہے اور بستیوں میں اندھیرے گہرے ہوتے جاتے ہیں اور عوام کے دل میں یہ جملہ پتھر کی طرح بیٹھ جاتا ہے:یہ ریاست ہماری نہیں، ان کی ہے۔
حکمرانوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں کس نام سے یاد کیے جانا چاہتے ہیں عوام کے دکھ بانٹنے والے رہنما یا اپنی شان دکھانے والے حکمران؟شادی خوشی کا موقع ہوتی ہے، لیکن اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے لیے ہر خوشی بھی ایک ذمہ داری ہوتی ہے کیونکہ تاج سر پر ہو تو مسکراہٹ بھی سیاسی ہو جاتی ہے، اور چراغاں بھی۔
