پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے رقبے میں نہیں، آبادی میں، تاریخ میں، تہذیب میں اور محرومیوں میں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کا مطلب واقعی صرف لاہور ہے؟ یا پھر لاہور کو پنجاب سمجھ لینے کی سہولت نے باقی پنجاب کو ایک خاموش نوٹس بورڈ بنا دیا ہے، جس پر صرف وعدے چپکائے جاتے ہیں، عمل کبھی نہیں؟
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا سیاسی وژن اگر سچ مچ صوبائی ہے تو پھر یہ وژن لاہور کی چند شاہراہوں، فلائی اوورز ،انڈرپاسز، اور سگنل فری کوریڈورز سے آگے کیوں نہیں بڑھتا؟ کیا سیاسی بصیرت کا معیار صرف یہ ہے کہ شہر کو اوپر سے دیکھنے پر روشنیوں کا جال دکھائی دے، چاہے نیچے اندھیرے میں زندگیاں سسک رہی ہوں؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پنجابی شانزم کا نعرہ لگانے والے آج اقتدار میں ہیں۔ وہی لوگ جو پنجابی شناخت، ثقافت، اور محرومی کے نام پر ووٹ لیتے رہے۔ مگر جب اقتدار ملا تو پنجاب دو حصوں میں بٹ گیا ایک وہ پنجاب جس کے لیے بجٹ کھل کر بہتا ہے،
اور دوسرا وہ پنجاب جس کے حصے میں صرف تقریریں آتی ہیں ۔محرومی کا مستقل صوبہ،جنوبی پنجاب کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ یہ محرومی کسی ایک حکومت کی پیداوار نہیں، مگر ہر حکومت کی مجرمانہ غفلت سے زندہ ضرور رکھی گئی ہے۔ آج بھی راجن پور، لیہ، مظفرگڑھ، بہائولنگر، خانیوال، ڈی جی خان اور وہاڑی کے ہسپتال بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اسکول عمارتیں تو ہیں، مگر اساتذہ نہیں۔ کہیں اساتذہ ہیں تو بچے نہیں، کیونکہ بچے کھیتوں میں مزدوری پر لگے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ صاحبہ کے وژن میں جنوبی پنجاب اب بھی ایک ڈیولپمنٹ زون نہیں، بلکہ ایک الیکشن زون ہے،جہاں جا کر محرومی کا ذکر کرنا ضروری ہوتا ہے، مگر واپس آ کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا ترقی کا حق صرف اس خطے کو ہے جہاں پانچوں انگلیاں پہلے ہی گھی میں ہیں؟
ترقی سڑکیں یا انسان؟ یہ مان لیا جائے کہ سڑکیں ضروری ہیں، انفراسٹرکچر ترقی کا ایک جزو ہے۔ مگر کیا ترقی فقط کنکریٹ ڈالنے، پل بنانے، اور تختیاں لگانے کا نام ہے؟ کیا وہ بچہ جو غذائی قلت کا شکار ہو، اس کے لیے سگنل فری کوریڈور کوئی نعمت ہے؟ کیا وہ ماں جو سرکاری ہسپتال میں دوائی نہ ملنے پر بچے کو گود میں لے کر واپس لوٹتی ہے، اس کے لیے میٹرو بس کسی خواب کی تعبیر ہے؟
حکومت کا ترقیاتی ماڈل ایک ہی سوال کا جواب دیتا ہے کیا یہ منصوبہ نظر آتا ہے؟
اگر ہاں، تو وہ ترقی ہے۔اگر نہیں جیسے تعلیم، صحت، غذائی تحفظ، صاف پانی تو وہ محض اعداد و شمار ہیں۔ کمیشن مافیا ہمیشہ خوشحال رہا ہے۔ کبھی شوگر، کبھی آٹا، کبھی پٹرول، کبھی کنسٹرکشن۔ آج پنجاب میں ترقیاتی منصوبے کمیشن مافیا کے لیے عید کا چاند ہیں۔ ٹھیکے، ریویژن، لاگت میں اضافہ، اور پھر خاموشی۔
دوسری طرف مفلسوں کے چولہے آج بھی دعا کی آنچ سے جل رہے ہیں۔ماں روٹی پر پھونک مارتی ہے،باپ نگاہ جھکا کر بچوں کو دیکھتا ہے،اور ریاست دور کہیں افتتاحی تختی پر مسکراتی ہے۔
یہ کیسا وژن ہے جس میں کمیشن مافیا کی پلیٹیں بھری ہیں اور عوام کے برتنوں میں بھوک بین کرتی ہے تعلیم اور صحت آئینی حقوق ہیں، مگر پنجاب میں یہ سہولتیں ایسے تقسیم ہو رہی ہیں جیسے کسی جاگیردار کی جاگیر ہوں۔ اشرافیہ کے بچے ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز میں پڑھتے ہیں، بیرونِ ملک علاج کراتے ہیں، اور غریب کا بچہ سرکاری اسکول میں استاد کا منتظر رہتا ہے جو کبھی آتا ہے، کبھی نہیں۔
وزیرِ اعلیٰ صاحبہ ، کیا آپ کے وژن میں تعلیم صرف ان کے لیے ہے جن کے والدین پہلے ہی طاقت اور دولت کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں؟ کیا صحت انہی کا حق ہے جن کی پانچوں انگلیاں پہلے ہی گھی میں ہیں؟
پنجاب میں ترقی اور خوشحالی اگر صرف جلسوں کا نعرہ ہے تو پھر یہ ایک اور سیاسی دھوکہ ہے۔ اگر یہ واقعی نظریہ ہے تو پھر پنجابی بولنے والے کسان، مزدور، اور ہنرمند کو بھی اس میں شریک ہونا چاہیے۔
پنجاب کی شان صرف لاہور کے کیفے نہیں،پنجاب کی شان جنوبی پنجاب کی دھوپ میں پسینہ بہاتا کسان بھی ہے۔پنجاب کی شان فیصل آباد کا مزدور ہے،ساہیوال کا ہاری ہے، بہاولپور کا طالب علم ہے۔ وژن کی سمت درست کیجیے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے پاس ابھی موقع ہے۔ تاریخ سخت سوال ضرور کرتی ہے، مگر جواب دینے کا موقع بھی دیتی ہے۔ اگر واقعی پنجاب سب کا ہے، تو ترقی بھی سب کی ہونی چاہیے۔ اگر وژن صوبائی ہے، تو بجٹ بھی صوبائی ہونا چاہیے صرف شہری نہیں، انسانی بنیادوں پر ، ورنہ یہ تاریخ میں یوں لکھا جائے گا کہ ایک دور تھا جب پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ تھا،مگر پنجاب صرف لاہور تک محدود تھا۔اور باقی پنجاب؟
وہ دعا کرتا رہاچولہے کی آنچ کے ساتھ،اور انصاف کی امید کے ساتھ، یہ ریاست اگر واقعی سب کی ہے تو پھر یہ سچ کیوں ہے کہ کسی ایک شہر میں بجٹ جشن بن جاتا ہے اور باقی پنجاب میں وہی بجٹ مرثیہ؟ ترقی وہاں سانس لیتی ہے جہاں پہلے ہی آسائشیں زندہ ہیں، اور وہاں دم توڑ دیتی ہے جہاں زندگی خود وینٹی لیٹر پر ہو؟ یاد رکھیے، تاریخ اندھی نہیں ہوتی ،وہ حساب رکھتی ہے۔ وہ دن بھی لکھے جائیں گے جب تختیوں پر نام کندہ کیے جا رہے تھے اور قبروں پر نمبر۔ جب کمیشن فائلوں میں مسکراتا تھا اور مائیں خالی ہاتھ بچوں کو دفن کر رہی تھیں۔ اور جب اقتدار سمجھتا تھا کہ خاموشی رضامندی ہے، حالانکہ خاموشی دراصل وہ آخری پکار ہوتی ہے جو سماعتوں سے پہلے نظام کو پھاڑ دیتی ہے۔
آپ کو یاد ہوگا پنجاب کی زمین جب ن لیگ کے پائوں تلے سے چھین لی گئی تھی تو ایک ناتجربہ کار بکریاں چرانے والے کے حوالے کردی گئی تھی، جیسے اس میں انسان نہ بستے ہوں ،یہ ایک چراہ گاہ ہو،کہاں کہاں سے واویلا نہیں اٹھا تھا کہ یہ آبادی کے اٹھاون فیصد لوگوں کا صوبہ ، کن ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے ؟ مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تھی ۔اب وہ شخص کہاں ہے اسے زمیں نگل گئی ہے یا آسماں کھا گیا ہے ،وہ جو ہزاروں یا لاکھوں نہیں جنوبی بنجاب کے آٹھ کروڑ کے لگ بھگ سرائیکی وسیب کو آسیب کی طرح ساتھ لے گیا، ایسا کہ آج اس کی اپنی پارٹی والے اس کے گم شدہ وجود پر محو حیرت ہیں۔ مگر ہم آپ سے یہ امید نہیں کرتے کہ آپ کی جماعت چالیس برس اس صوبے کی حاکمیت میں سرائیکی وسیب کی اتنی سی آرزو کو بھی ثمر بار نہیں کرے گی کہ سرائیکی صوبہ نہ سہی اس کے باسیوں کو صحت،تعلیم اور صاف پانی کی نعمت سے بھی سرفراز نہ کرسکے !
