بلوچستان کا نام لیتے ہی ذہن میں ایک وسیع و عریض سرزمین ابھرتی ہے سنگلاخ پہاڑ، خاموش ریگزار، معدنی خزانوں سے لبریز سینہ اور ان سب کے بیچ ایک ایسا انسان جو دہائیوں سے اپنے حصے کی روشنی کا منتظر ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس سرزمین کی پہچان اس کے وسائل، ثقافت یا مہمان نوازی سے زیادہ اس کے رستے ہوئے زخم بن گئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس دھرتی کے رنگوں پر وقت نے سرخی کا ایسا پردہ ڈال دیا ہو جسے دھونا کسی ایک موسم کے بس کی بات نہیں۔بلوچستان کا المیہ محض سکیورٹی یا شورش کا مسئلہ نہیں، یہ اعتماد کے ٹوٹنے کا طویل نوحہ ہے۔ تاریخ کے کئی موڑ ایسے آئے جہاں طاقت نے مکالمے کی جگہ لے لی، اور شک نے تعلق کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فاصلے جغرافیائی کم اور نفسیاتی زیادہ ہوتے گئے۔ جب ریاست صرف بندوق کی آواز پر تلی ہو اور عوام کی فریاد فائلوں میں دب جائے تو دلوں میں پیدا ہونے والی دراڑیں نسلوں تک سفر کرتی ہیں۔اس تنازعے کا ایک پہلو معاشی بھی ہے۔ یہ وہ صوبہ ہے جس کی زمین سونا، تانبہ، گیس اور معدنیات کے خزانوں سے مالا مال ہے، مگر اس کے بہت سے باسی آج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات پانی، صحت، تعلیم سے محروم ہیں۔
وسائل کی موجودگی اور محرومی کی شدت کے درمیان یہ تضاد احساسِ محرومی کو اور گہرا کرتا ہے۔ جب مقامی نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ اس کی زمین سے نکلنے والی دولت کہیں اور ترقی کی عمارتیں کھڑی کر رہی ہے ، مگر اس کے اپنے گائوں میں سکول کی چھت تک نہیں، تو اس کے دل میں سوال جنم لیتا ہے اور یہی سوال اگر مسلسل ان سنا رہے تو احتجاج کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ایک اور دردناک پہلو جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات ہیں، جنہوں نے بلوچ معاشرے میں خوف اور غصے کی ایک ملی جلی فضاء پیدا کی۔ ماں کی آنکھ میں بیٹے کی واپسی کا انتظار صرف ایک ذاتی دکھ نہیں رہتا وہ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح سیکورٹی اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ اس خونریزی میں دونوں طرف کے عام انسان پس رہے ہیں وہ جوان جو وردی میں ہے اور وہ نوجوان جو پہاڑوں میں چلا گیا، دونوں کسی نہ کسی ماں کے بیٹے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ یک رخا نہیں۔ بیرونی ہاتھ، اسمگلنگ نیٹ ورک ، علاقائی طاقتوں کی چالیں، اور مقامی قبائلی سیاست سب اس پیچیدہ گرہیںہیں۔
بعض شدت پسند گروہ جائز سیاسی مطالبات کو تشدد کے راستے پر ڈال کر پورے بیانیے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف ریاستی سطح پر ہر آواز کو محض بغاوت سمجھ لینا بھی مسئلے کو مزید الجھا دیتا ہے۔ یوں اصل عوامی مسائل روزگار، تعلیم، شناخت، اختیار گولیوں کی گونج میں دب جاتے ہیں۔سی پیک اور گوادر جیسے منصوبے امید کی کرن بھی ہو سکتے تھے اور ترقی کے حسین خواب بھی ،مگر اس وقت جب مقامی آبادی خود کو ان کا حصہ تصور کرتی ، مگر ایسا ہوا نہیں۔ اگر بندرگاہ کے سائے میں رہنے والا ماہی گیر یہ محسوس کرے کہ اس کا روزگار چھن رہا ہے اور فائدہ کہیں اور جا رہا ہے، تو ترقی کا بیانیہ اس کے لئے اجنبی رہتا ہے۔ شمولیت کے بغیر ترقی، ترقی نہیں عدم توازن کی ایک اور شکل بن جاتی ہے۔ثقافتی سطح پر بھی بلوچستان کو اکثر صرف شورش کے عدسے سے دیکھا گیا، حالانکہ یہ خطہ صدیوں پرانی تہذیب، شاعری، موسیقی اور روایات کا امین ہے۔ جب کسی معاشرے کی شناخت صرف سکیورٹی رپورٹس تک محدود کر دی جائے تو اس کی مثبت دھندلا جانا بھی باعث محرومی بن جاتا ہے۔ وہ جس کا احترام اس کی رگوں میں سمایا ہوتا ہے۔ جو امن کا استعارہ بھی ہوتا ہے اور راستہ میں بچھی کہکشاں بھی ۔پہلا قدم بیانیے کی تبدیلی ہے۔
بلوچستان کو مسئلہ نہیں، انسانوں کا گھر سمجھ کر دیکھنا ہوگا۔ طاقت وقتی خاموشی تو لا سکتی ہے، پائیدار امن نہیں۔ اصل حل سیاسی ہے مکالمہ، آئینی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیار دینا۔ لاپتہ افراد کے مسئلے پر شفاف اور قابلِ اعتماد طریقہ روا رکھنا، کیونکہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے، ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔تعلیم اور روزگار وہ پل ہیں جو پہاڑوں اور شہروں کے درمیان فاصلے کم کر سکتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ، بااختیار نوجوان بندوق سے زیادہ مضبوط دلیل رکھتا ہے۔ اسی طرح میڈیا اور نصاب میں بلوچستان کی مثبت نمائندگی بھی ضروری ہے، تاکہ باقی ملک اسے صرف خبروں کی سرخیوں سے نہیں بلکہ انسانوں کی کہانیوں سے پہچانے۔ بلوچ قیادت کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ تشدد کی راہ آخرکار اپنے ہی گھر کو جلاتی ہے۔ دونوں طرف ایک قدم پیچھے ہٹنا دراصل مستقبل کی طرف دو قدم آگے بڑھنا ہو سکتا ہے۔لہو رنگ بلوچستان کوئی مقدر نہیں، ایک مرحلہ ہے تلخ، تکلیف دہ، مگر بدلنے کے قابل۔ شرط صرف یہ ہے کہ گولی کی آواز سے زیادہ بلند مکالمے کی آواز ہو، اور شک کی دیواروں سے اونچی اعتماد کی بنیاد ہو، اس دن شاید اس دھرتی کا رنگ پھر سے وہی ہو جائے جو اس کے پہاڑوں پر ڈھلتے سورج میں دکھائی دیتا ہے سرخی نہیں، روشنی۔
