سیاست کی دہلیز پر کچھ ممالک اپنے وسائل میں ، کچھ معیشت میں کچھ اپنی حربی قوت کے حوالے سے اور کچھ اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے ناگزیریت کے حامل ہوتے ہیں۔قدرت نے پاکستان کو محض جغرافیہ کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر وقیع مقام عطا نہیں کیا بلکہ سفارتی ذمہ داری کے اعلیٰ درجے سے نوازا ہے۔مشرق وسطیٰ، وسطیٰ ایشیاء ، جنوبی ایشیاء اور خلیج کے سنگم پر واقع پاکستان کو اکثر ایسے لمحات سے گزرنا پڑتا ہے جب طاقت کے دو دھاروں کے درمیان اسے پل کا درجہ دیئے بنا مسئلے کا صائب حل تلاش کرنا ادق تصور کیا جاتا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان فزوں تر ہونے والی خلیج نئی نہیں ہے بلکہ عام طور پر ان فاصلوں میں کشیدگی زیادہ پائی جاتی ہے ۔مگر جب بھی یہ کشیدگی پیچیدگی کے موڑ پر آ کھڑ ی ہو تو خطے کے جو ممالک ثالثی میں اہم کردار ادا کرنے والے ہوتے ہیں ان میں پاکستان بڑی ضرورت کے طورپر ابھرتا ہے۔پاکستان کی اہمیت اس لئے بھی دو چند ہوجاتی ہے کہ ایران کے ساتھ اس کے تاریخی،تہذیبی، مذہبی اور سرحدی رشتے قائم ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک، عسکری اور معاشی روابط ہیں۔ان سب رشتوں ناتوں کی اساس پر استوار ہونے والے تعلقات اس امر کے متقاضی ہوتے ہیں ثالثی کے کردار کے لئے پاکستان کو ذریعہ بنایا جائے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس بھاری ذمہ داری کو کیسے نبھاپائے گا ؟ کیا اس امر کے پیچھے محض خیر سگالی کا جذبہ کار فرماہے ؟ یا یہ ایک سوچا سمجھا سفارتی منصوبہ ہے ؟ دراصل معاملہ حکمت عملی کا ہے ،کیوں کہ ذرا سی لغزش پاکستان کو فائدے کی بجائے دبائو کا شکار کر سکتی ہے ۔اس لئے پاکستان کی اولین کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ کسی ایک کی واشگاف الفاظ میں نمائندگی کی بجائے اپنے جذبات و احساسات سر بستہ رکھے اور ایک متوازن سہولت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔ایران کی یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان اس کے خلاف کسی علاقائی یا عالمی گٹھ جوڑ کاحصہ نہ بنے ، جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے وہ بھی بظاہر خطے میں استحکام کے لئے پاکستان کے تعمیری کردار کی توقع رکھتا ہے۔اس صورت حال میں پاکستان کو ہمسایہ ملک ایران کو یہ یقین دہانی کرانی ہوگی اس کی سرزمین کسی عداوت کے طور پر استعمال نہیں ہوگی۔
دوسری طرف امریکہ کو اعتماد میں لینا ہوگا ۔ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے پاکستان متوازن اور انتہائی سنجیدہ کردار ادا کرکے ہی اپنی اصلی طاقت دونوں فریقین کو باور کرائے گا۔عام طور پر ایران، امریکہ جیسے حساس مذاکرات میں سب سے موثر رویہ خاموشی ہوتا ہے ۔ تاہم اس مرحلے پر پاکستان کی حکمت عملی یہ ہونی چاہیئے کہ یہ پس پردہ روابط پر صاد کرے اور کم سے کم بیانات کا بوجھ اپنے کندھوں پراٹھائے۔میڈیا کو محدود حد تک بروئے کار لائے۔ماضی میں ایسی ہی حکمت عملی نے سفارتی کاوشوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔پاکستان کو اپنی ثالثی کی مرکزی دلیل علاقائی استحکام کو بنانا ہوگا،کسی نوع کی سیاسی یا نظریاتی وابستگی سے اجتناب کرنا ہوگا۔یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران ،امریکہ کشیدگی کے اثرات ہمیشہ براہ راست پاکستان پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔
ماضی میں پاکستان سفارت کاری کے ایسے ہی امور کو مدنظر رکھتا رہا ہے۔ان حالات میں بعض مرتبہ مذاکرات کے درمیان سیاسی دبائو بڑھ جاتا ہے تو ایسے موقع پر سفارتی شخصیات، سابق حکام ،تھنک ٹینکس اور مذہبی و تقافتی حوالوں سے غیر رسمی رابطوں کا واسطہ بیک چینل راستے بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور یہ طریقہ ماضی کی پاکستانی سفارتکاری یہ حکمت عملی بارآور ثابت ہوتی رہی ہے ۔ان تمام تر حکمت عملیوں کے نتیجے میں اگر ایران خطرات کے دبائو سے نکل آتا ہے تو مستقبل میں پاک ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں کی بیل منڈھے چڑھ سکتی ہے۔تجارتی راہداریوں کے در وا ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں ،ان سب پر مستزاد یہ کہ چین ، روس اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں ۔گویا کہ پاکستان کی ثالثی محض سیاسی خدمت نہیں بلکہ معاشی مستقبل کی سرمایہ کاری پرمہر تصدیق بھی ثبت ہو سکتی ہے ۔
ثالثی کی قیادت کا کردار عالمی سطح پر پاکستان کا موثر امیج پیدا کر سکتا ہے ۔پاکستان کے لئے یہ ایک نادر موقع ہے کہ یہ دنیا پر اجاگرکرے کہ یہ فقط سیکورٹی ریاست نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار سفارتی قوت بھی ہے۔تاہم یہ کردار بلند بانگ دعوئوں سے نہیں، خاموشی، توازن اور صبر کا دامن تھامے ہوئے ادا کرنا ہوگا۔ یہاں اس ایک گمان کا ذکر بھی ضروری ہے جس کا اظہار آئر لینڈ میں مقیم میرے مہربان دوست معروف پاکستانی ڈاکٹر نے کیا ہے کہ ’’ایران امریکہ کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی ایک شطرنج ہے جس کا اصل مقصد پاکستان کا گھیرائو بھی ہوسکتا ہے جو خطے کی ہی نہیں پوری دنیا کی طاقتور حربی قوت بن چکا ہے ، ایران تو بس ایک بہانہ ہے۔‘‘واللہ اعلم
