انسانی تاریخ فقط بادشاہوں،جنگوں اور ریاستوں کی کہانی نہیں بلکہ انسانی وابستگیوں کی داستان بھی ہے۔ انسان تنہا وجود رکھنے والی مخلوق نہیں، وہ خیش قبیلے، قوم، نظریے اور عقیدے کےدائروں میں حیات کا سفر طے کرتا ہے۔ یہی دائرے اس کو شناخت دیتے ہیں، تحفظ فراہم کرتے ہیں اور بسااوقات طاقت بھی عطا کرتے ہیں۔ مگر یہی وابستگیاں جب توازن کھو بیٹھیں تو نفرت، ظلم اور جور و ستم کا سرچشمہ بھی بن جاتی ہیں۔ اسی دو رخی کیفیت کا نام ’’عصبیت‘‘ ہے ۔
عصبیت کو اگر محض قبائلی تعصب سمجھ لیا جائے تو یہ اس لفظ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ دراصل انسانی سماج کی وہ نفسیاتی اور اجتماعی قوت ہے جو لوگوں کو ہم کے احساس میں باندھتی ہے۔ یہی قوت تہذیبیں بناتی بھی ہے اور انہیں اجاڑتی بھی ہے۔ تاریخ کا سنجیدہ مطالعہ بتاتا ہےکہ عصبیت انسانی معاشروں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔قدیم دنیا اور قبائلی عصبیت ۔انسانی تاریخ کے ابتدائی ادوارسے عبارت تھی۔ عرب کے ریگستان ہوں،افریقہ کےمیدان، وسط ایشیا کےچراگاہی علاقے یا یورپ کے قدیم قبائل ، ہر سماج کی بنیادی اکائی قبیلہ ہی تھا۔ قبیلہ ہی ریاست تھا، قانون تھا، شناخت تھا۔
اس دور میں عصبیت کا مطلب اپنے قبیلے کی غیر مشروط حمایت تھا،خونی رشتوں کی بنیاد پر وفاداری قبیلے کی عزت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھنے کے زمرے میں آتی تھی،یہ عصبیت بقا کی ضرورت بھی تھی۔ بیرونی خطرات،وسائل کی قلت اور مسلسل جنگوں نے قبائلی اتحاد کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیا تھاچنانچہ جو قبیلہ زیادہ متحد ہوتا وہی زیادہ طاقتورہوتا تھا، مگر یہی عصبیت جب اندھی وفاداری بن گئی تو نسل در نسل دشمنیاں پلنے لگیں۔ معمولی جھگڑے صدیوں پر محیط ہوجاتے ،آخر کار خون ریزی میں بدل جاتے۔ عرب کی جاہلی تاریخ میں بسوس کی جنگ اس کی نمایاں مثال ہے، جو محض ایک اونٹنی کے قتل سے شروع ہو کر دہائیوں تک چلتی رہی۔
مذہب اور عصبیت کی ہم آہنگی تاریخ میں پہلی بڑی فکری اصلاح تھی جو اس وقت آئی جب مذاہب نے عصبیت کو اخلاقی حدود میں لانے کی کوشش کی۔ خصوصا اسلام نے عصبیت کے منفی پہلو پر شدید تنقید کی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو جاہلی عصبیت کی دعوت دے یعنی ظلم پر بھی اپنے گروہ کا ساتھ دے۔ یہاں ایک انقلابی اصول متعارف ہوا کہ وابستگی رہے، مگر انصاف کے تابع ہو۔
اسلام نے قبائلی شناخت کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے اخلاقی دائرے میں لے آیا۔ مہاجر اور انصار دو الگ گروہ تھے، مگر مدینہ میں انہیں ایک امت میں پرو دیا گیا۔ جسے مواخات کا نام دیا گیا۔عصبیت کو وسعت ملی، قبیلے سے اٹھ کر عقیدے اور اقدار کی بنیاد پر اجتماعی وحدت وجود میں آئی۔
چودھویں صدی کے عظیم مورخ اور مفکر ابنِ خلدون نے عصبیت کو باقاعدہ ایک سائنسی سماجی نظریے کی شکل دی۔ ان کے نزدیک ’’عصبیت ہی وہ قوت ہے جو ریاستوں کو جنم دیتی ہے‘‘۔ ان کے مطابق صحرائی یا سادہ زندگی گزارنے والے گروہوں میں عصبیت مضبوط ہوتی ہے۔یہی مضبوط عصبیت انہیں منظم کرتی ہے اور وہ اقتدار حاصل کر لیتے ہیں‘‘۔اقتدار اور آسائش عصبیت کو کمزور کر دیتے ہیں۔زیادہ مضبوط عصبیت رکھنے والا گروہ آ کر انہیں ہٹا دیتا ہے۔
یوں عصبیت صرف سماجی جذبہ نہیں بلکہ تاریخی حرکت کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ خلافتِ امویہ، عباسیہ، عثمانیہ ، سب کے عروج و زوال میں اجتماعی عصبیت کی قوت اور کمزوری کارفرما رہی۔
یورپ میں عصبیت کی نئی شکل قوم پرستی ٹھہری، قرونِ وسطی کے بعد یورپ میں قبائلی عصبیت کی جگہ قومی عصبیت نے لے لی۔ زبان، جغرافیہ اور مشترکہ تاریخ کی بنیاد پر قومیں وجود میں آئیں۔ فرانس،جرمنی اور اٹلی جیسی جدید ریاستیں اسی جذبے کا شاخسانہ تھیں۔یہ قومی عصبیت ابتدا میں مثبت تھی، لوگوں کو جاگیرداری نظام سے نجات دلانے کا ذریعہ بھی۔اس طرح جمہوریت اور شہری حقوق کا تصور راسخ ہوا ، بیرونی تسلط کے راستے محدور ہی نہیں ہوئے بلکہ ان کے خلاف مزاحمت پیدا ہوئی مگر جب یہی جذبہ انتہا پر پہنچاتو فاشزم اور نازی ازم نے جنم لیا۔ ہٹلر کی نسلی عصبیت نے پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔ یہاں تاریخ نے دکھایا کہ جب عصبیت اخلاقی حدود توڑ دیتی ہے تو وہ انسانیت کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
نوآبادیاتی بت ایک نئےدور کی دریافت تھی جو مزاحمتی عصبیت کی وجہ بنی۔جس کے نتیجے میں انیسویں اوربیسویں صدی میں ایشیااورافریقہ کی محکوم اقوام میں بھی عصبیت نے نئی شکل اختیار کی۔ یہ آزادی کی قومی عصبیت تھی۔ ہندوستان، الجزائر، ویتنام اور درجنوں ممالک میں لوگوں نے اپنی قومی شناخت کے دفاع کے لیے جدوجہد کی۔
یہ عصبیت مثبت تھی کیونکہ اس کا ہدف آزادی تھا۔اس میں مشترکہ محرومی کا احساس تھا جس نے مختلف نسلوں اور طبقات کو متحد کیا لیکن آزادی کے بعد یہی ممالک اکثر لسانی، فرقہ وارانہ اور نسلی عصبیتوں کے دبیزجال میں پھنس گئے۔ گویا مشترکہ دشمن کے خاتمے کے بعد پرانے بٹوارے پھر سے عود کر آئے۔اس کے بعد نظریاتی اور سیاسی عصبیت کا نیا دور منصہ شہود پر آیا۔عصبیت صرف نسل یا قبیلے تک محدود نہیں رہی۔ اس نے نئے لبادے اوڑھ لئے ۔سیاسی جماعتوں کی اندھی حمایت،فرقہ وارانہ شدت پسندی،لسانی اور علاقائی تعصب وجود پذیر ہوا یوں سوشل میڈیا کی نظریاتی صف بندیاں سامنے آئیں ۔ اب لوگ دلیل سے زیادہ اپنی شناخت کے مطابق سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے پر تل گئے میرا لیڈر غلط نہیں ہو سکتا یہ جدید عصبیت کا نعرہ بنا۔ جس نے معاشروں کو مکالمے سے دور اور تصادم کے قریب کر دیا ہے۔
تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ عصبیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ انسانی فطرت کا لازمہ ہے۔ انسان ہمیشہ کسی نہ کسی اجتماعی شناخت سے جڑا رہے گا۔ مسئلہ عصبیت کا وجود نہیں بلکہ اس کی سمت ہے۔ جب عصبیت انصاف کے ساتھ ہو تو اتحاد بنتا ہےاخلاق کے تابع ہو تو معاشرہ مضبوط و مستحکم ہوتا ہے۔
مظلوم کی حمایت کے دروا ہوں تو تاریخ بدلتی ہےلیکن جب عصبیت حق کے خلاف کھڑی ہو، دوسروں کی نفی پرقائم ہو طاقت کے نشے میں اندھی ہو جائے،تو وہ تہذیبوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
عصبیت تاریخ کا مستقل کردار ہے۔ اس نے قبیلے بنائے، سلطنتیں کھڑی کیں، آزادی کی تحریکوں کو جنم دیااور اسی نےجنگیں، نسل کشیاں اور سماجی تقسیم بھی پیدا کی۔ یہ آگ کی طرح ہے چولہا بھی جلا سکتی ہے اور گھر بھی۔اصل سوال یہ نہیں کہ عصبیت ہو یا نہ ہو بلکہ یہ ہے کہ وہ عدل کے ساتھ کھڑی ہے یا اندھی وابستگی کے ساتھ؟تاریخ کا سبق یہی ہے کہ وابستگی اگر اصولوں کے تابع رہے تو طاقت بنتی ہےاور اصول اگر وابستگی کے تابع ہو جائیں تو تباہی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔
