Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

شہد کی مکھیاں اور سورۃ النحل

اس اہم موضوع پر حتا، دبئی کے دلکش قدرتی پہاڑوں کے درمیان واقع حتا شہد کی مکھیوں کا دلکش گارڈن اس بات کی شاندار مثال ہے کہ کس طرح فطرت، علم اور مقصد ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ متاثرکن منصوبہ شیخ سالم بن سلطان القاسمی کی بصیرت افروز قیادت میں قائم کیا گیا ایک ایسی شاہی شخصیت جن کی سوچ تخلیق، پائیداری اور تعلیم کے لئے گہرے احترام کی عکاس ہے۔یہ باغ محض ایک فارم نہیں بلکہ ایک زندہ درسگاہ اور دریافت کا مرکز ہے۔ ان کی شفقت آمیز دعوت پر مجھے اپنے عزیز اماراتی دوست ادریس ابو جاسم اور میڈیا براڈکاسٹر رواد المنصور کے ہمراہ اس باغ کا شیخ سالم دعوت پر دورہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس دورے کے دوران میں نے قریب سے دیکھا کہ یہ منصوبہ کس قدر سوچ بچار کے ساتھ اس مقصد کے لئے ترتیب دیا گیا ہے کہ زائرین کو شہد کی مکھیوں، ان کے منظم سماجی نظام اور ماحولیاتی نظام میں ان کے ناگزیر کردار سے روشناس کرایا جا سکے۔
مجھے شہد فارم کی منیجر میری جین کی قیمتی معلومات سے بھی بہت استفادہ ہوا، جن کا مشن ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی توازن کے عین مطابق ہے۔ قرآن میں مزکور سورہ نحل،شہد کی مکھی ایک نشانی، قرآنِ کریم نے شہد کی مکھی کے نام پر ایک مکمل سورت نازل فرمائی ہے سورہ النحل تاکہ انسان اس چھوٹے مگر عظیم مخلوق پر غور کرے۔
جدید تحقیق نے اس حقیقت کی تصدیق کی ہے جو الٰہی وحی نے صدیوں پہلے بیان کی، شہد میں شفاء عامۃ الناس کے لئے ہے اور شہد کی مکھیاں زمین پر زندگی کے تسلسل کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
حتا شہد کی مکھیوں کے گارڈن کا مقصد، حتا گارڈن اور اس کا ڈسکوری سینٹر OneHive کے بنیادی مقاصد کے لئے سرگرمِ عمل ہیں: جرگ بردار حشرات، خصوصاً شہد کی مکھیوں کے تحفظ اور فروغ کے لئے۔
ماحولیاتی نظام میں مکھیوں کے اہم کردار سے آگاہی پیدا کرنا۔
پائیداری، حیاتیاتی تنوع اور غذائی تحفظ کے بارے میں عوامی تعلیم۔
یہ منصوبہ صرف شہد کی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے نازک توازن کے تحفظ کا عزم رکھتا ہے۔
شہد کی مکھیوں کی کالونی کا سماجی نظام:
ملکہ مکھی:
چھتے کی واحد زرخیز مادہ،عروج کے موسم میں روزانہ تقریباً 1500-2000 انڈے دیتی ہے۔ فیرومونز خارج کرتی ہے جو چھتے کی شناخت اور وحدت برقرار رکھتے ہیں،عمر عموماً 2 سے 5 سال (کبھی اس سے زیادہ)صرف رائل جیلی پر پرورش پاتی ہے۔
زندگی میں صرف ایک بار 17-20نر مکھیوں سے ملاپ کرتی ہے اور نطفہ برسوں محفوظ رکھتی ہے۔
کارکن مکھیاں: غیر زرخیز مادہ مکھیاں جو چھتے کے تمام کام سرانجام دیتی ہیں،عمر کے ساتھ ذمہ داریاں بدلتی رہتی ہیں۔
صفائی کرنے والی: دن 1-3، نرس مکھیاں: دن 3-6چھتہ بنانے والی: دن 10-16 محافظ: دن 16-18خوراک وصول کرنے والی: دن 18-20رس جمع کرنے والی: دن 20 کے بعدعمر:گرمیوں میں 4-6 ہفتے،سردیوں میں 4-6 ماہ،3 نر مکھیاں،واحد کام کنواری ملکہ سے ملاپ،نہ خوراک جمع کرتی ہیں، نہ دفاع کرتی ہیں، نہ موم بناتی ہیں ،عمر:40-60 دن،اگر ملاپ میں ناکام رہیں تو چھتے سے نکال دی جاتی ہیں۔کامیاب ملاپ کے فوراً بعد مر جاتی ہیں انسانیت کے لئے شہد کی مکھیوں کی اہمیت، شہد کی مکھیاں دنیا کی اہم ترین جرگ بردار مخلوقات میں شامل ہیں۔
عالمی سطح پر تقریباً 75-80 فیصد غذائی فصلیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مکھیوں کے ذریعے جرگ افشانی پر منحصر ہیں۔ پھل، سبزیاں، میوے، بیج اور حتیٰ کہ جانوروں کا چارہ بھی ان محنتی مخلوقات کا مرہونِ منت ہے۔
مکھیوں کے بغیر: غذائی تحفظ شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔ماحولیاتی نظام تباہ ہو جائیں گے، حیاتیاتی تنوع میں خطرناک حد تک کمی آ جائے گی۔ لہٰذا مکھیوں کا تحفظ محض ماحولیاتی شوق نہیں بلکہ انسانی ضرورت ہے۔ایک پیغامِ فکرشہد کی مکھی ہمیں گہرے اسباق سکھاتی ہے۔ انا کے بغیر نظم و ضبط، صلے کی خواہش کے بغیر خدمت اور تصادم کے بغیر ہم آہنگی۔ اس کی زندگی فرض اور مقصد کے درمیان کامل توازن کی عکاس ہے جو انسانی معاشروں کے لئے ایک روشن مثال ہے۔حتا گارڈن محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ فطرت بولتی ہے، وہی رہنمائی کرتی ہے اور ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔
پس ہاں سب سے پہلے ایک چمچ شہد لیجیے۔ پھر غور کیجیے، سیکھئے اور ان شاندار مخلوقات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کیجیے، کیونکہ ان کی بقاء میں ہماری بقاء ہے۔ میں سمیع (مارکیٹنگ منیجر) اور میری جین کا ان کے وقت، علم اور شاندار مہمان نوازی پر دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں