Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

آخری دور کے دجالی دھوکوں کا ظہور

قرآنِ مجید مستقبل کو تفریح کے طور پر بیان نہیں کرتا اور نہ ہی فتنہ و فریب کو افسانہ بناتا ہے۔ وہ انسانیت کے سامنے اخلاقی، روحانی اور سماجی قوانین و نمونے رکھتا ہے جن کے ذریعے ہر دور میں حق و باطل میں امتیاز ممکن ہو۔ ان میں سب سے خطرناک نمونہ منظم فریب کا ہیوہ زمانہ جب باطل کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جارہا ہے، ظلم کو معمول اور حق کو دانستہ دھندلا دیا جائے۔ اسلامی روایت میں اس فریب کے نقطہ عروج کو دجال کہا گیا ہے۔ اگرچہ قرآن میں دجال کا نام صراحتاً نہیں آتا، مگر قرآن فریب کے پورے ڈھانچے کو واضح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ آخری زمانے کا امتحان کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی انتشار کی عالمی کیفیت ہے۔فریب و دھوکہ اور قرآن کا انتباہ دجالی دور سخت آزمائش قرآن خبردار کرتا ہے کہ فریب حادثہ نہیں بلکہ ترتیب دیا گیا عمل ہے’’ اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے دشمن بنائے،انسانوں اور جنات کے شیاطین میں سے۔ جو (شیاطین)ایک دوسرے کو دھوکے کی خوشنما باتیں سکھاتے ہیں‘‘ (الانعام 6:112)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ فریب منظم ہوتا ہے، انسانی و غیرمرئی قوتیں اس میں شریک ہوتی ہیں اور یہ کھلی دشمنی کے بجائے دلکش بیانیوں سے پھیلتا ہے۔ یوں دجال اسی جاری نظامِ فریب کی انتہا کی علامت بنتا ہے۔اس طرح وہ جھوٹ فریب و گناہ اورخواہش کو خوشنما بناکر انسان کو پھنسا لیتا ہے۔ اللہ دجالی فتنوں سے ہم سب کو بچائے آمین حق و سچ کا جھوٹا خوشنما روپ اور دجالی چال قرآن فریب کی بڑی علامت حقیقت کی الٹ پلٹ بتاتا ہے‘ وہ لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے ہی آپ کو دھوکا دیتے ہیں (البقرہ 2:9)) فریب اس لئے کامیاب ہوتا ہے کہ ادراک مسخ ہو جاتا ہے، ظلم پالیسی بن جاتا ہے، استحصال آزادی کہلاتا ہے اور بدکاری اور فحاش تہذیب کا نام پاتی ہے۔ اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا کہ دجال لوگوں کو الجھا دے گا۔احتساب کے بغیر طاقت، قرآن فریب کو بے لگام طاقت سے جوڑتا ہے، کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟ (الجاثیہ 45:23) جب خواہش، انا اور مفاد اخلاقی احتساب کی جگہ لے لیں تو طاقت خود دلیل بن جاتی ہے، طاقتور ایک دوسرے کو بچاتے ہیں، مظلوم دبائے جاتے ہیں اور سچ سودے بازی بن جاتا ہے یہی آخری زمانے کی اخلاقی گرائوٹ ہے اور آج یہ ہمارے سامنے ہورہا ہے
فتنہ: مرکزی امتحان، قرآن کے مطابق فتنہ انسان کی باطنی حقیقت کھولتا ہے: کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ محض یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا؟(العنکبوت 29:2)) فتنہ ہمیشہ مصیبت نہیں ہوتا، اکثر دولت، رسائی، اثر و رسوخ اور انجام سے آزادی کی صورت آتا ہے۔ دجال کا بڑا ہتھیار تشدد نہیں بلکہ دلکشی کے ذریعے فتنہ ہے۔
سورہ کہف: فریب سے حفاظت، نبی ﷺ نے دجال کے فتنہ سے بچا ئوکے لئے سورہ کہف کی اول وآخر دس آیات کی تلاوت کی ہدایت دی۔ اس سورت میں چار آزمائشیں ہیں: ایمان (اصحابِ کہف) دولت (دو باغوں کا واقعہ)، علم (موسیٰؑ و خضرؑ) طاقت (ذوالقرنین) ہر واقعہ دکھاتا ہے کہ فریب خوف، تکبر، سطحی علم اور مطلق اختیار کے راستے داخل ہوتا ہے یہی آخری زمانے کے دروازے ہیں۔کنٹرول کا وہم اور جھوٹے کرشمے قرآن حیران کن دھوکوں سے خبردار کرتا ہے۔’’ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں اسے اپنے جادو سے یوں دکھائی دینے لگیں جیسے وہ چل رہی ہوں‘‘ (طہ 20:66) ۔ یہ حقیقی طاقت نہیں بلکہ حقیقت کا دھوکا تھا۔ اسی اصول پر آخر زمانے میں تکنیکی، نفسیاتی اور میڈیا و خاص ر سوشل میڈیا کے پردے ادراک حقیقت پر غالب آتے ہیں گو کہ حقیقت نہیں بدل سکتے لیکن بڑی اکثریت اس کاشکار ہوجاتی ہے۔
دجال: ایک نظام، قرآنی زاویے سے دجال محض ایک فردی کردار نہیں بلکہ مرکوز فریب، اخلاقی الٹ پلٹ، اخلاق سے عاری طاقت اور تماشے پر سچ کی علامت سمجھا جاتاہے۔ اسی لئے نبی ﷺ نے اس سے واضح خبردار کیاکیونکہ باطل خوشنما ہو جائے گا۔مومن کے لئے ایمان کی حفاظت قرآن ایمان کی حفاظت کو محض ذہانت نہیں بلکہ تقویٰ بتاتا ہے، اعتماد نہیں بلکہ انکساری، مقبولیت نہیں بلکہ سچائی؛ برائی کی جستجو نہیں بلکہ ذکرِ الٰہی کا اہتمام۔اگر تم اللہ کیلئے تقوی اختیار روگے تو وہ تمہیں فرقان عطا کرے گا(الانفال 8:29) یہی فرقان حق و باطل میں تمیز ہے۔اور حقیق امیاب ہے جزیرہ ایبسٹین کے حیران ن شرمناک واقعات کا بے نقاب ہونا اور ان میں ملوث بڑی حکومتی اور اہم تجارت و سماجی شخصیات کے فحاشی اور غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکات و جرائم کا پردہ چاک ہونا ہر کسی کے کان کھول دینے کیلئے ایک اہم انتباہ ربانی ہے کہ ہم سب حق اور ہدایت راہ اختیار رلیں۔
عہدِ فریب اندھیرے سے نہیں بلکہ جھوٹی روشنی سے پہچانا جاتا ہے۔ سب سے بڑا امتحان کفر نہیں بلکہ باطل کو حق سمجھ لینا ہے۔ دجال اسی فریب کی آخری صورت ہے اور قرآن یقین دلاتا ہے کہ حق بالآخر غالب آتا ہے، ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اسے چیر دیتا ہے (الانبیاء 21:18) قرآن قیاس آرائی کے لئے نہیں بلکہ اخلاقی بصیرت کے لئے غیر متبدل قطب نما ہے۔ اس لئے ہمیں قرآن سے لگا رکھنا چاہئے تاکہ فتنوں کے اس آخر بڑے دجالی دور میں ایمان پر قائم رہ سکیں۔ استغفار اور لاا لہ الا اللہ و اپنا معمول بنائے رکھیں ۔ دجالی دور کے فتوں کی یہ ضمانت اور ڈھال ہے۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم ے نزول اور ان کے ہاتھوں دجال و دجالی قوتوں کے حتمی خاتمہ کا وقت قریب آن لگا ہے۔ یہ ہماری خوش بختی ہوگی کہ ہم ان کا مقدس روحانی دور دیکھ سکیں ۔ آرٹیفشل انٹیلی جنس کے مصنوعی معجزات کے بعد عیسی ابن مریم حقیقی مسیحا بن کر اللہ کی طرف سے مکمل معجزاتی طاقت و رحمت کے ساتھ دوبارہ آکر حق و انصاف حکومت قائم فرمائیں گے۔ ایک خدائے واحد کو ماننے والے سب انسان ان کے جھنڈے تلے آخری دور کی عظیم رحمتوں ، برکتوں اور خوشیوں سے محظوظ ہوں گے۔ ان شا اللہ ان کا دور سعید قریب آلگا ہے۔

یہ بھی پڑھیں